افغان مہاجرین کی بے دخلی : اقوام متحدہ کی انسانی بنیادوں پر نرمی کی درخواست

افغانستان میں رواں ہفتے آنے والے ہلاکت خیز زلزلوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں کمانڈوز کو فضائی ذریعے سے اتارا جا رہا ہے تاکہ ملبے تلے دبے زندہ افراد کو نکالا جا سکے۔ طالبان حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 1457 ہو چکی ہے، جبکہ 3394 افراد زخمی اور 6700 سے زائد مکانات مکمل تباہ ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مختلف اداروں نے شدید انسانی بحران پر خبردار کیا ہے، بالخصوص خوراک کی قلت کے حوالے سے فوری فنڈنگ کی اپیل کی گئی ہے۔

ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ان مقامات پر کمانڈوز کو اتارا گیا جہاں پرواز ممکن نہیں تھی۔ امدادی تنظیموں نے اسے "وقت کے خلاف دوڑ” قرار دیا ہے، کیونکہ ملبے تلے اب بھی کئی افراد دبے ہونے کا اندیشہ ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں زندہ بچ جانے والے خود اپنے پیاروں کی لاشیں نکال رہے ہیں، بانس اور رسّی کی چارپائیوں پر لاشیں اٹھا کر دفنانے کے لیے کدالوں سے قبریں کھودی جا رہی ہیں۔

کنڑ، ننگرہار اور لغمان ان صوبوں میں شامل ہیں جہاں زلزلے سے سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔ کئی دیہات مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ جھٹکوں کے بعد پہاڑوں سے پتھروں کے گرنے نے متاثرہ علاقوں تک رسائی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ:اسٹیبلشمنٹ رولز، پریکٹس اینڈ پروسیجررولزمنظور

 

ڈر کے مارے کئی خاندان کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں، کیونکہ ٹوٹے پھوٹے گھروں کی باقی دیواریں کسی بھی وقت گر سکتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور (UNOCHA) کے مطابق، زیادہ تر گھر کمزور پتھروں، کچی اینٹوں اور لکڑی سے بنے تھے، جو بارش کے باعث پہلے ہی غیر محفوظ ہو چکے تھے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) کے افغانستان میں سربراہ جان آئلیئف نے خبردار کیا ہے کہ “ہمارے پاس صرف چار ہفتوں کی خوراک موجود ہے۔ یہ مدت متاثرین کی بنیادی ضروریات کے لیے بھی ناکافی ہے، بحالی تو دور کی بات ہے۔”

 

انہوں نے عالمی برادری سے فوری فنڈنگ کی اپیل کی ہے تاکہ قحط اور غذائی قلت جیسے خطرات سے بچا جا سکے۔

Back to top button