کنکریٹ کے جنگلات سیلاب سے مچنے والی تباہی کی وجہ کیوں بنے؟

معروف اینکر پرسن اور صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ پاکستان میں بارشی پانی سے آنے والے سیلاب نے جو تباہی مچائی ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے درخت کاٹ کاٹ کر سر سبز جنگلات ختم کر دیے ہیں اور ان کی جگہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی صورت میں کنکریٹ کے جنگلات کھڑے کر دیے ہیں۔
حامد میر روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں بتاتے ہیں کہ ملتان کا نواحی علاقہ بوسن آم اور مالٹے کے باغات کی وجہ سے مشہور ہے۔ملتان شہر سے بوسن کی طرف جائیں تو صاف نظر آتاہے کہ باغات کو کاٹ کاٹ کر اُن پر ہاؤسنگ سکیمیں اور مارکیٹیں بنائی جا رہی ہیں۔اسی سڑک پر بہاؤ الدین ذکریا یونیورسٹی بھی ہے۔یونیورسٹی سے کافی آگے ایک راستہ بائیں کو مڑتا ہے۔ یہ ٹوٹا پھوٹاراستہ آم اور مالٹے کے بچے کھچے باغات کے درمیان سے ہوتا ہوا دریائے چناب کے کنارے سے کچھ دور موضع خزاں پور تک جاتا ہے۔ بہت سال پہلے سید یوسف رضا گیلانی اسی علاقے سے منتخب ہو کر سپیکر قومی اسمبلی بنے تو اُنہوں نے یہاں نا صرف پکی سڑکیں بنوا دیں بلکہ اس علاقے کو بجلی اور گیس بھی فراہم کر دی ۔ اس علاقے کے لوگوں نے مجھ سے رابطہ قائم کیا اور بتایا کہ خزاں پورسیلابی پانی میں ڈوب گیا ہے اور پانی تیزی سے بوسن کے دیگر علاقوں کی بڑھ رہا ہے۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ میں جھنگ کے سیلاب زدہ علاقوں سے گزرتا ہوا ملتان پہنچا تھا جسے صرف چناب نہیں بلکہ دریائے ستلج اور راوی کی بپھری ہوئی موجوں کا بھی سامنا تھا۔ہماری ڈبل کیبن گاڑی جس سڑک پر ہچکولےکھاتی ہوئی موضع خزاں پور کی طرف بڑھ رہی رہی تھی وہ سڑک بستی کھوکھر کے قریب پانی میں ڈوبی ہوئی تھی۔اچانک ہماری گاڑی رک گئی۔ گاڑی کو واپس موڑنا بہت مشکل تھا کیونکہ دائیں طرف خزاں پور سیلابی پانی میں ڈوبا ہوا تھا اور بائیں طرف بستی کھوکھر کے تباہ شدہ مکانات تھے جن کو عقب میں واقع ایک باغ کی طرف سے آنے والے پانی نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔ یہاں کے لوگوں کی بڑی اکثریت بوسن میں قائم کئے گئے امدادی کیمپوں میں منتقل ہو چکی تھی لیکن مجھے کچھ دور ایک برگد کے درخت تلے کچھ عورتیں اور بچے بیٹھے نظر آرہے تھے۔ مجھے یہ نظر آرہا تھا کہ جہاں جہاں بڑے اور مضبوط درخت موجود تھے وہاں زمین سیلابی پانی کے خلاف مزاحمت کر رہی تھی ۔ جہاں درخت نہیں تھے وہاں زمین ٹوٹ ٹوٹ کر پانی میں گر رہی تھی ۔ دریائے چناب کا پانی کناروں سے باہر نکل کر زمین کو نگل رہا تھا۔ میں جس سڑک پر کھڑا تھا وہ سڑک تیزی سے پانی کے نیچے جا رہی تھی اور مجھے بار بار پیچھے ہٹنا پڑ رہا تھا ۔ چند مقامی لوگ اپنے گھروں میں پڑے سامان کی حفاظت کیلئے وہاں موجود تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ موضع خزاں پور کا بڑا حصہ اپنی مسجد سمیت پانی میں ڈوب چکا ہے ۔ ایک ڈوبی ہوئی بستی کی باقیات پر کھڑے ہو کر کسی سے اُسکی تباہی کی کہانی سننا بڑا تکلیف دہ تجربہ ہوتا ہے ۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ میں نے ایک مقامی شخص غضنفر سے پوچھا کہ کیا خزاں پور اور دریائے چناب کے درمیان باغات موجود تھے ؟ اُس نے جواب میں بتایا کہ جی بالکل باغات موجود تھے لیکن وہ دریا کے کٹاؤ کا شکار ہو گئے۔ پیچھے کھڑا ایک بزرگ بولا کہ یہ بستی تو پاکستان بننےسے پہلے بھی موجود تھی لیکن جب دریا کے کنارے جنگل کی کٹائی شروع ہوئی تو سیلاب کا پانی ہمارے باغات تک آنا شروع ہو گیا۔ یہ پانی کچھ دن بعد واپس چلا جایا کرتا تھا ۔ جب ہم نے باغات کو کاٹنا شروع کیا تو پھر دریا کے پانی نے زمین کو نگلنا شروع کر دیا ۔ کچھ دیگر لوگوں نے اس بزرگ کو چُپ کروا دیا۔ اس دوران مجھے یہاں ایک کشتی نظر آئی جو کسی مقامی ملاح کی تھی۔ میں اس میں سوار ہو کر اُن عورتوں اور بچوں کے پاس چلا گیا جو ایک برگد کے گھنے درخت تلے بیٹھے تھے۔ مجھے دیکھ کر عورتیں اپنے گھروں میں چلی گئیں- دو مرد وہیں بیٹھے رہے۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ پانی آپ کی طرف آ رہا ہے آپ یہ علاقہ کیوں نہیں چھوڑ رہے؟ انہوں نے ایک درخت کے ساتھ بندھی کشتی کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ ہم کچھ دیر میں اس کشتی پر چلے جائیں گے۔ قریب ہی کچھ مویشی بھی بندھے ہوئے تھے ۔ مجھے سمجھ آگئی تھی کہ یہ لوگ اپنے مویشیوں کے بغیر نہیں جانا چاہتے ۔ انکے گھر کافی اونچی جگہ پر تھے اور گھروں کے آس پاس بڑے بڑے درخت نظر آ رہے تھے ۔ درختوں کی جڑوں نے زمین کے کٹاؤ کو روک رکھا تھا لیکن پانی کی بلند ہوتی ہوئی سطح خطرے میں اضافہ کر رہی تھی
حامد میر کہتے ہیں کہ میرے ساتھ موجود کیمرامین عمران الیگزنڈر نے مجھے خبردار کیا کہ پانی بڑی تیزی سے زمین کو نگل رہا ہے لہذا ہمیں کشتی میں واپس جانا چاہیے۔ میں کشتی کے ذریعہ واپس موضع خزاں پور کی اُس ٹوٹی ہوئی سڑک تک پہنچا جو اب دریائے چناب کا ایک کنارا بن چکی تھی ۔ اب ہم سیلاب کی کوریج کو بھول چکے تھے بلکہ جان بچانے کیلئے موقع سے باقاعدہ فرار ہو گئے ۔ جس سڑک پر ہماری گاڑی بھاگ رہی تھی وہ جگہ جگہ سے پانی میں ڈوب رہی تھی۔ پانی مختلف راستوں سے بوسن بند کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سیلابی پانی اور ہماری گاڑی میں ایک ریس شروع ہو چکی تھی۔ بوسن بند پر پہنچ کر میں گاڑی سے باہر نکلا اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو آم کے خوبصورت باغات ، مکئی اور کپاس کی لہلہاتی فصلیں سب دریا برد ہو رہی تھیں، اب میں اس خاندان کے بارے میں سوچ رہا تھا جو بستی کھوکھر سے کچھ دور برگد کے ایک درخت کے نیچے بیٹھا تھا اور اس خاندان کے مردوں کو اپنی کشتی پر بڑااعتماد تھا۔ مجھے حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی یاد آگئی۔
حامد میر کہتے ہیں کہ اگر آپ ابھی تک اپنے گھروں میں محفوظ ہیں اور سیلاب کی تباہی کا نشانہ نہیں ہے تو اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں لیکن اگر آپ نے اپنے اعمال کو ٹھیک نہ کیا تو خدا نخواستہ آپکو بھی اگلے سال اس موسم میں کشتی کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔ بہت سے لوگ اس سیلاب کو اللّٰہ کا عذاب قرار دیتے ہیں۔ قرآن مجید کی سورہ الرعد میں کہا گیا ہے کہ بلا شبہ اللّٰہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اپنی حالت کو نہ بدلے۔افسوس کہ جب بھی قوم کی حالت بدلنے کی بات ہوتی ہے تو کسی کو صدارتی نظام یاد آجاتا ہے کوئی اٹھارہویں ترمیم کی خامیاں تلاش کرنے لگتا ہے ، کوئی اپنی کرسی بچانے کیلئے کسی متنازعہ ڈیم کی اچانک حمایت شروع کر دیتا ہے کوئی کرسی بچانے کیلئے اس ڈیم کی مخالفت شروع کر دیتا ہے ۔ آج آپ نے اپنی حالت بدلنی ہے تو پوری قوم کو مل کر صرف ایک کام کرنا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ ہر طرف درخت اگائیں اور کھیت کھلیانوں پر ہاؤسنگ اسکیمیں بنانے پر پابندی لگا دیں۔
