امریکی عوام کا پیغام! ایران جنگ بند کرو

3 نومبر کی امریکی رات شاندار تھی کہ امریکہ بالآخر واپس آ گیا ہے ، دنیا بدل چکی ہے ۔ 80سال پہلے والا امریکہ جسے دنیا جانتی تھی ، جس سے محبت کرتی تھی ، واپس آچکا ہے ۔ 3نومبر کے انتخابات میںصرف ڈیموکریٹس ہی پُرجوش نہیں تھے ، بڑی تعداد میں آزاد ووٹرز یہاں تک کہ کچھ ریپبلکن ووٹرز بھی بڑی تعداد میں دلجمعی کیساتھ ڈیموکریٹس کو ووٹ ڈال رہے تھے ، یہ ایک سونامی تھا ۔ ایک غیر معمولی دن تھا، ڈیموکریٹس نے ایسے ایسے حلقوں میں کامیابی حاصل کی ، جہاں جیت کی توقع نہیں تھی۔مشی گن میں عبدالرحمان محمدالسید جیت گیا ، انتخابی مرحلے کی سب سے بڑی جنگ لڑی ۔ عبدالرحمان محمدالسید کیخلاف عام انتخابات میں ایک چوتھائی ارب ڈالر خرچ کیے گئے۔ پرائمری انتخابات میں ان کیخلاف 70ملین ڈالر خرچ کیے گئے۔ صرف اے آئی پیک ( AIPAC ) نے ایک ملین ڈالر خرچ کیے، اسکے علاوہ اسرائیلی لابنگ گروپس، دیگر تمام پی اے سیز، کارپوریٹ پی اے سیز وغیرہ شامل تھے۔ امریکی قوم کو مبارکباد دینی ہے اور اسکے ساتھ عبدالرحمان محمد السید المعروف عبدل السید کی خوشی منانی ہے ۔ امریکی سینٹ ( 1787 ) کی 237 سالہ تاریخ میں پہلا مسلمان جو سینٹ چیمبر میں بطور ممبر قدم رنجہ فرمائے گا ۔ عبدل السعید کو ہرانے کیلئے صدر ٹرمپ نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ اسکے نام کا مذاق ، اسکو دہشت گرد اخوان المسلمین کا ممبر اور نہ جانے کیا کیا کہا ۔ بقول ٹرمپ ’’عبدل السید امریکہ میں شریعہ قانون نافذ کر دے گا ‘‘۔ صدر ٹرمپ نے جب عبدل السید کو یہ کہا کہ اگر یہ ممبر سینٹ منتخب ہو گیا ، تو سینٹ چیمبر میں داخل ہونے سے پہلےاسے METAL DETECTOR سے گزارا جائیگا ۔ اس پر السید نے جواب دیا کہ میں روزانہ METAL DETECTOR سے گزرنے کو تیار ہوں ، بشرطیہ تم ایک دفعہ جھوٹ پکڑنے والی مشین ( LIE DETECTOR ) کو دو سوالوں کے جواب دو ، جس میں ایک EPSTIEN ، دوسرا 2020ءکے الیکشن نتائج کو تسلیم نہ کرنے کے بارے میں ۔ السید نے اپنے خیالات و نظریات کو کبھی نہیں چھپایا ، اپنی مسلمان شناخت کو فخر بنایا اورفلسطینیوں کی نسل کشی پر کھل کر تنقید کی ۔ مصری نژاد عبدل السید کی بیوی سارہ نے حجاب کو شعار بنا رکھا ہے ۔ السید کیخلاف انتہائی گھٹیا، غلیظ پروپیگنڈہ کیا گیا ۔3 نومبر کے نتائج نے یہی کچھ بتایا ہے کہ امریکی عوام کی آنکھیں کھل چکی ہیں ۔ 4نومبر کوانہوں نے ٹرمپ سے اقتدار چھین لیا ہے۔ نہ صرف ٹرمپ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ ہار چکے ہیں، بلکہ دونوں ایوانوں میں براجمان ریپبلکن بھائی بھی باتھ سے نکل گئے ہیں ۔ آپ لوگ جو تبدیلی چاہتے ہیں اور چاہتے تھے کہ عطیات دینے والے امیر طبقے کے بجائے حقیقی امریکی نمائندے ہماری نمائندگی کریںجو آئین کے عین مطابق چلیں۔ مینڈیٹ کا پیغام ایران کیخلاف جنگ ختم کرو۔ امریکیوں کو اس جنگ سے کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ ہماری جنگ نہیں ہے ، یہ اسرائیل کی جنگ ہے ۔رجیم تبدیلی کیلئے نکلے تھے ، امریکہ میں اپنا نظام زمیں بوس کروا بیٹھے ۔ 3 نومبر کہنے کو امریکی وسط مدتی انتخابات ( MID TERM ) ، امریکہ کا سیاسی منظرنامہ تبدیل کر گئے۔ 58سال ( 1968ء)سے امریکی صدارتی انتخابات کو FOLLOW کر رہا ہوں ۔ نہیں یاد پڑتا کہ مجھے یا کسی بھی غیر امریکی کو کبھی مڈٹرم الیکشن سے رَتی بھر دلچسپی رہی ہو ۔
یہ ایسے انتخابات جنہوں نے پچھلے کئی مہینوں سے دنیائے سیاست خصوصاً امریکی سیاست کو یرغمال بنا رکھا تھا ۔ چنانچہ پوری دنیا ان نتائج پر نظریں جمائے بیٹھی تھی ۔ 3 نومبر کے انتخابات، امریکہ کی 80سالہ اسرائیل پالیسی پر ایک ریفرنڈم تھا ، جس میں امریکی اسرائیلی پالیسی کو افسوسناک شکست ہوئی ۔ پوری پارٹی ریپبلکن جسکا دوسرا نام ( GRAND OLD PARTY ) پونے دو سو سال ( 1854 ) پرانی پارٹی کو صدر ٹرمپ نے پونے دو سال میں ٹھکانے لگا دیا ۔ بہت سارے امریکی سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ’’ حالیہ نتائج نے ریپبلکن پارٹی کو نیست و نابود ہونے کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے‘‘ ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے الفاظ چبائے مگر ماننا پڑا کہ ’’میرے خیال میں اس شکست کی وجہ ایران تھا ‘‘۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک عقلمند دوست کی بات کا سہارا لیا اور الیکشن ہارنے کے چار اسباب بتائے ۔ وینس کے مطابق امریکی ووٹرز نے ہمیں پیغام دیا ہے کہ’’ ایران کیخلاف جنگ ختم کرو ۔ اسرائیل کیساتھ اپنے تعلقات تبدیل کرو۔ امریکہ کو اولین ترجیح دو ۔ زندگی گزارنے کے اخراجات اور مہنگائی پر توجہ دو‘‘ ۔ JD وینس کا مزید کہنا کہ ہمارے ووٹر ووٹ ڈالنے کیلئے نکلے مگر مذکورہ بالا چار وجوہات کی بناپر ہمارے اپنے بہت سے لوگوں نے ڈیموکریٹس کو ووٹ ڈالے ۔ ہماری شکست کی وجہ ایران جنگ ہے ۔انتخابات سے ایک دو دن پہلے مشہور امریکی تجزیہ نگار ٹکرکارلسن ( Tucker Carlson ) کی ایک X پوسٹ نے پوری دنیا میں کہرام مچا دیا کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے دباؤ کے تحت، ٹرمپ انتظامیہ ایران پر جوہری حملہ کرنے سے چند ہی دن کی دوری پر ہے۔ اس حملے کا ہدف وسطی ایران میں واقع کوہِ کلنگ ( Mountain Pickax ) ہوگا، جہاں ایرانی حکومت نے اپنا جوہری افزودگی کا پروگرام شروع کر رکھا ہے ۔ امریکی اسلحہ خانے میں کوئی روایتی ہتھیار ایسا نہیں جو 300 فٹ ٹھوس گرینائٹ کو چیر کر ان سرنگوں کو تباہ کر سکے ، چنانچہ واحد آپشن جوہری حملہ ہے۔ نیتن یاہو اس حملے کیلئے صدر ٹرمپ پر بھرپور دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ایک باخبر مبصر کا کہنا ہے : اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اس معاملے پر ہر روز ٹرمپ کو فون کرتے ہیں ۔ ایٹمی جنگ نیتن یاہو کی اشد ضرورت ہے ۔وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ ، سینٹکام کے کمانڈر بریڈ کوپر ، وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نیتن یاہو کی پیروی کر رہے ہیں ۔ آٹھ ماہ کے تنازع کی وجہ سے خلیجی معیشتیں لڑکھڑا رہی ہیں۔ عالمی توانائی اور کھاد کی منڈیاں بھی اسی صورتحال سے دوچار ہیں۔ یہ جلد بحال نہیں ہوں گی۔ دنیا بھر میں تیل پیدا کرنیوالے ممالک سے باقی دنیا تک تیل پہنچانے کیلئے تقریباً 850بڑے آئل ٹینکرز موجود ہیں۔ صرف اکتوبر میں ان میں سے 11 آبنائے ہرمز میں بری طرح نقصان کا شکار ہوئے۔ اس رفتار سے عالمی معاشی کساد بازاری ناگزیر ہے۔ جوہری حملہ تباہی کے عمل کو غیر معمولی طور پر تیز کر دے گا ، دنیا میں قیامت برپاہو جائیگی ۔اگرچہ 3نومبرکے مڈٹرم انتخابات نے امریکی سیاسی نقشہ تبدیل کر دیا ہےمگر صدر ٹرمپ اپنی تضحیک آمیز شکست پر ایٹمی حملہ پلان کر سکتا ہے ۔ عالمی مبصرین کی سوچ کہ ٹرمپ غالباً اگلے ہفتے کے اختتام تک یہ فیصلہ کرلے کہ آیا جوہری ہتھیار استعمال کرنے ہیں یا نہیں ۔ یہ تاریخ 6/7/8 نومبر ہو سکتی ہے ۔ اس وقت ٹرمپ اپنے نائب صدر جے ڈی وینس اور اپنے ایلچی اور دوست اسٹیو وٹکوف کی بات سن رہے ہیں، دونوں کا مؤقف ہے کہ ایران کیساتھ معاہدہ کیا جائے ۔ اگر نیتن یاہو کے دباؤ میں آ کر ٹرمپ اگلے ہفتے جوہری حملہ کر دیتے ہیں تو کروڑوں لوگ اپنے بچوں سمیت مارے جائینگے ۔امریکی عوام کا پیغام پوری وضاحت اور با آواز بلند ، صہیونیوں اور اسرائیل کی حمایت ترک کرنا ہوگی یہی امریکی مینڈیٹ کا پیغام ہے ۔
