پابندی کے باوجود پاکستان میں ٹک ٹاک لائیو کا رجحان زوروں پر کیوں؟

پاکستان میں ٹک ٹاک لائیو پر پابندی ہے، مگر اس پابندی کا عملی اثر کہاں دکھائی دیتا ہے؟ غیر ملکی سمز کے ذریعے لائیو نشریات جاری ہیں، ورچوئل تحائف کے نام پر لاکھوں روپے چند منٹوں میں وصول کیے جا رہے ہیں اور سوشل میڈیا کی شہرت اب شادیوں، مہندیوں اور سالگرہ کی تقریبات کو بھی ایسے عوامی تماشوں میں بدل رہی ہے جہاں نہ سکیورٹی کا مؤثر انتظام ہے، نہ ہجوم کو قابو میں رکھنے کی فکر۔ سیالکوٹ میں ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی مہندی کے دوران بھگدڑ سے 2 افراد کی ہلاکت اور تقریباً 18 افراد کے زخمی ہونے کا واقعہ اسی بے لگام رجحان کا المناک نتیجہ ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ ٹک ٹاکرز اتنا پیسہ کیسے کما رہے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ نوجوانوں کے جذبات، عوامی اجتماعات کی حفاظت، غیر معمولی مالی لین دین اور ریاستی نگرانی کے نظام کو آخر کس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے؟
پاکستان میں ٹک ٹاک لائیو کا کلچر اب محض تفریح یا مقبولیت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ ایک باقاعدہ معاشی سرگرمی بن چکا ہے۔ اس رجحان میں دو یا زیادہ ٹک ٹاکرز کے درمیان ہونے والے مقابلے، جنہیں پی کے بیٹلز کہا جاتا ہے، خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ مداح اپنے پسندیدہ تخلیق کار کو کامیاب بنانے کے لیے ورچوئل تحائف بھیجتے ہیں، جبکہ لائیو سیشن کے دوران مداحوں کے نام پکارنے، تبصروں کا جواب دینے اور نجی زندگی کو سکرین پر دکھانے سے ان کے ساتھ جذباتی وابستگی پیدا کی جاتی ہے۔ روزگار کے محدود مواقع بھی نوجوانوں کو اس ذریعے سے فوری آمدن حاصل کرنے کی طرف راغب کر رہے ہیں۔
اس پورے نظام کی بنیاد ورچوئل گفٹنگ ہے۔ صارفین ایزی پیسہ، جیز کیش یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ٹک ٹاک کوائنز خریدتے ہیں اور انہیں روز، شیر، ڈریگن اور ٹک ٹاک یونیورس جیسے تحائف کی صورت میں اپنے پسندیدہ کریئیٹرز کو بھیجتے ہیں۔ یہ تحائف کریئیٹرز کے اکاؤنٹس میں ڈائمنڈز کی شکل میں جمع ہوتے ہیں، جنہیں بعد میں رقم میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک اپنا 50 سے 60 فیصد حصہ رکھتا ہے اور باقی رقم کریئیٹرز کو منتقل ہوتی ہے۔ ایک ٹک ٹاک یونیورس گفٹ کی قیمت تقریباً 1 لاکھ 20 ہزار سے 1 لاکھ 50 ہزار روپے بتائی جاتی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اس آمدن میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں، خصوصاً خلیجی ممالک، برطانیہ اور امریکہ میں رہنے والے صارفین کا کردار نمایاں ہے۔ مضبوط غیر ملکی کرنسیوں کے باعث ان کی جانب سے بھیجے گئے تحائف پاکستانی روپے میں بڑی رقم بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چند منٹوں کے مقابلوں میں لاکھوں روپے کے تحائف بھیجنے کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ دوسری جانب برانڈز اور مقامی کاروباری ادارے بھی مصنوعات کی تشہیر کے لیے انفلوئنسرز کو ادائیگیاں کرتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق اس ڈیجیٹل کمائی نے نجی تقریبات کو بھی تشہیری اور مالیاتی منصوبوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ شادی، مہندی، سالگرہ یا کاروباری افتتاح کے موقع پر قیمتی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور نقد انعامات کے اعلانات کے ذریعے ہزاروں افراد جمع کیے جاتے ہیں۔ ایسے اجتماعات سے ویڈیوز کی رسائی بڑھتی ہے اور انفلوئنسرز کو مزید شہرت اور کاروباری مواقع ملتے ہیں، لیکن جب اجازت ناموں، سکیورٹی اور ہجوم کو سنبھالنے کے انتظامات کے بغیر یہ تقریبات منعقد ہوں تو خوشی کا موقع کسی بڑے سانحے میں بدل سکتا ہے، جیسا کہ سیالکوٹ میں ہوا۔
مالیاتی ماہرین کے مطابق ٹک ٹاک سے حاصل ہونے والی آمدن بھی قابلِ ٹیکس ہو سکتی ہے اور اسے دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن یا فری لانسنگ کے زمرے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم خدشات ہیں کہ بعض انفلوئنسرز اپنی آمدن ظاہر نہیں کرتے اور رقم بینکنگ نظام کے بجائے نقد، ہنڈی یا حوالہ کے ذریعے وصول کرتے ہیں۔ ایف بی آر اور مالیاتی اداروں کو بیرون ملک سے گفٹنگ کے نام پر آنے والی بھاری رقوم کے ذرائع اور استعمال پر بھی تحفظات ہیں۔ منی لانڈرنگ اور غیر قانونی رقوم کی منتقلی کے خدشات کے باعث بعض ٹک ٹاکرز کو ایف بی آر کے نوٹسز اور ایف آئی اے کی انکوائریوں کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔
اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ٹک ٹاک انتظامیہ پاکستان میں لائیو سٹریمنگ کی دستیابی سے انکار کر چکی ہے۔ رواں سال جولائی میں کمپنی نے اردو نیوز کو بتایا تھا کہ یہ سہولت پاکستان میں دستیاب نہیں اور جو صارفین اسے استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں وہ غیر رسمی طریقے اختیار کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود بعض انفلوئنسرز پاکستانی سمز کے بجائے دبئی اور برطانیہ کے سم کارڈ استعمال کرکے لائیو سٹریمنگ کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا ماہرین کے مطابق یہی غیر رسمی راستے نگرانی اور ضابطہ بندی کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔
سوشل میڈیا انفلوئنسر امتنان احمد نے سیالکوٹ کے واقعے کو انتظامی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مداحوں سے ملنا غلط نہیں، لیکن بڑے اجتماعات کے لیے سکیورٹی اور بھگدڑ سے بچاؤ کے انتظامات ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق فلاحی کاموں کے لیے بھیڑ جمع کرنا واحد راستہ نہیں اور گفٹنگ و لاٹری کلچر کے خاتمے کی ضرورت ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا ماہر عبدالہادی صدیقی نے بھی قابل اعتراض مواد، غیر ملکی سمز کے استعمال، آن لائن جوئے کی تشہیر اور منی لانڈرنگ کے خدشات کی نشاندہی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لائیو سٹریمنگ پر مکمل پابندی لگانا مشکل ہے کیونکہ یہ سرگرمی پہلے ہی غیر ملکی نیٹ ورکس کے ذریعے جاری ہے۔
تجزیہ کاروں کے نزدیک اصل مسئلہ ٹک ٹاک یا سوشل میڈیا کی موجودگی نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی عدم موجودگی ہے جو ڈیجیٹل آمدن، مالیاتی لین دین، قابل اعتراض مواد اور عوامی اجتماعات کو مؤثر ضابطوں کے تحت لائے۔ محض ایپ پر پابندی لگانا مسئلے کا مستقل حل نہیں ہو سکتا۔ اگر سوشل میڈیا کی شہرت کروڑوں کی کمائی اور ہزاروں افراد کے اجتماعات میں بدل رہی ہے تو اس کے ساتھ جواب دہی، ٹیکس قوانین اور عوامی تحفظ کی ذمہ داریاں بھی لازمی ہونی چاہییں۔ سیالکوٹ کا سانحہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ چند لمحوں کی شہرت اور تحائف کے لالچ میں انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
