پاکستان کب تک دوست ممالک کے ٹکڑوں پر پلتا رہے گا؟

پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں سعودی عرب کے 3 ارب ڈالر مزید برقرار رہنا بظاہر حکومت کے لیے ایک بڑی مالیاتی کامیابی ہے، مگر اس خبر کے پیچھے چھپا معاشی سوال کہیں زیادہ تشویش ناک ہے: آخر پاکستان کب تک اپنی معیشت کو چلانے کے لیے دوست ممالک کے ڈیپازٹس اور قرضوں کی تجدید کا محتاج رہے گا؟ جس ملک کے زرمبادلہ ذخائر کا نصف سے زیادہ حصہ بیرونی ممالک کے رکھوائے گئے ڈالرز پر مشتمل ہو، جہاں برآمدات کئی برس سے جمود کا شکار ہوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری بھی مطلوبہ سطح تک نہ پہنچ سکے، وہاں ذخائر میں اضافے کو معاشی خودمختاری کی علامت کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ سعودی عرب کی مہربانی اپنی جگہ، لیکن اصل کامیابی یہ ہوتی کہ پاکستان کو اپنے ڈالر خود کمانے کے لیے بار بار دوست ممالک کے دروازے نہ کھٹکھٹانا پڑتے۔

خیال رہے کہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں موجود 3 ارب ڈالر کو مناسب مدت کے لیے رول اوور کر دیا ہے۔ یہ رقم رواں سال اپریل میں پاکستان کو فراہم کی گئی تھی۔ اس سے پہلے سعودی عرب نے 5 ارب ڈالر کے ڈیپازٹ کی سہولت بھی 2028 تک بڑھا دی تھی۔ یوں سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو فراہم کردہ مجموعی 8 ارب ڈالر کی مالی معاونت بدستور ملکی زرمبادلہ ذخائر کا اہم حصہ ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان کے پاس تقریباً 3 ماہ کی درآمدات کے لیے زرمبادلہ موجود ہے اور فی الحال سعودی عرب سے مزید مالی مدد کی ضرورت نہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر تقریباً 26.75 ارب ڈالر ہیں، جن میں سے 21.5 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک اور 5.2 ارب ڈالر کمرشل بینکوں کے پاس موجود ہیں۔ تاہم اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں سے تقریباً 12.7 ارب ڈالر دوست ممالک کے ڈیپازٹس پر مشتمل ہیں۔ ان میں سعودی عرب کے 8 ارب ڈالر، چین کے 4 ارب ڈالر اور کویت کے 70 کروڑ ڈالر شامل ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ مرکزی بینک کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ پاکستان کی اپنی کمائی نہیں بلکہ دوسرے ممالک کی فراہم کردہ مالی سہولت ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق ان ڈیپازٹس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ان سے زرمبادلہ ذخائر ایک خاص سطح پر برقرار رہتے ہیں، روپے کی قدر پر دباؤ کم ہوتا ہے اور عالمی مالیاتی اداروں کو یہ اعتماد ملتا ہے کہ پاکستان فوری بیرونی ادائیگیوں کے بحران سے دوچار نہیں ہوگا۔ سابق سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر اشفاق حسن کے مطابق آئی ایم ایف کے موجودہ قرض پروگرام کے مذاکرات کے دوران پاکستان سے کہا گیا تھا کہ وہ دوست ممالک سے تحریری یقین دہانی حاصل کرے کہ ان کے ڈیپازٹس مقررہ مدت تک برقرار رہیں گے اور ان کی تجدید ہوتی رہے گی۔ ان یقین دہانیوں کے بعد ہی پاکستان کے لیے مالیاتی پروگرام کی راہ ہموار ہوئی۔ لیکن اس سہولت کی ایک کمزوری بھی ہے: یہ رقم پاکستان کی مستقل ملکیت نہیں۔ دوست ممالک جب چاہیں اپنی مالی ضروریات یا پالیسی ترجیحات کے تحت اسے واپس مانگ سکتے ہیں۔ رواں سال متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے اپنے 3 ارب ڈالر واپس طلب کیے تو حکومت نے سعودی عرب سے اتنی ہی رقم حاصل کرکے یہ خلا پُر کیا۔ بظاہر معاملہ سنبھال لیا گیا، لیکن یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان ایک ملک کے ڈیپازٹس واپس کرنے کے لیے دوسرے ملک سے مالی سہارا لینے پر مجبور ہو سکتا ہے۔

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اس صورت حال کو قرض حاصل کرنے کا ایک مختلف طریقہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دوست ممالک سے پیسے لے کر اپنے زرمبادلہ ذخائر کا حصہ بناتا ہے۔ ان کے مطابق برآمدات اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی صورت حال حوصلہ افزا نہیں، اس لیے بیرونی ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے ڈیپازٹس پر انحصار بڑھ گیا ہے۔ ڈاکٹر اشفاق حسن کا بھی کہنا ہے کہ برآمدات 2016 اور 2017 کی سطح سے آگے نہیں بڑھ سکیں، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاری تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کے آس پاس ہے، جو پاکستان جیسے بڑے ملک کی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ہے۔ بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر اور دوست ممالک کے ڈیپازٹس نے بیرونی ادائیگیوں کے نظام کو سہارا دے رکھا ہے۔

اگر یہ ڈیپازٹس واپس لے لیے جائیں تو زرمبادلہ ذخائر پر فوری دباؤ پڑ سکتا ہے، روپے کی قدر متاثر ہو سکتی ہے اور درآمدات و بیرونی قرضوں کی ادائیگی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔ اگرچہ حکومتیں متبادل انتظامات کر سکتی ہیں، لیکن ہر مرتبہ کسی نئے دوست ملک سے رقم حاصل کرنا مستقل معاشی حکمت عملی نہیں ہو سکتی۔

سیاسی و معاشی مبصرین کے مطابق پاکستان کا اصل مسئلہ ڈالرز کی عارضی دستیابی نہیں بلکہ انہیں مستقل بنیادوں پر کمانے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔ جب تک برآمدات میں اضافہ، صنعتی پیداوار کی بحالی، غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول، ٹیکس نظام کی اصلاح اور پالیسیوں کا تسلسل یقینی نہیں بنایا جاتا، زرمبادلہ ذخائر کی مضبوطی بیرونی سرپرستی کی محتاج رہے گی۔ سعودی عرب کا 3 ارب ڈالر رول اوور کرنا یقیناً فوری مالی دباؤ کم کرنے میں مددگار ہے، لیکن اسے معاشی استحکام کا حتمی ثبوت سمجھنا خود فریبی ہوگی۔ اصل سوال یہی ہے کہ پاکستان کب تک دوست ممالک کے ڈیپازٹس کی تجدید کو معاشی کامیابی سمجھتا رہے گا اور کب اپنی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرے گا؟

Back to top button