مولانا کے قریبی ساتھی نیب اور FIAکے ریڈار پر کیوں؟

مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر مسلسل سخت تنقید، گورنر راج کے خلاف مزاحمت اور ریاستی پالیسیوں پر کھل کر سوالات اٹھانے کے بعد اب ان کے صاحبزادے اور سابق وفاقی وزیر اسعد محمود کے خلاف نیب اور ایف آئی اے کی تحقیقات نے ایک نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جن معاملات پر ماضی میں کارروائی سست روی کا شکار رہی یا ایسے کرپشن کیسز جنہیں طویل عرصے تک آگے نہیں بڑھایا گیا، وہ اچانک موجودہ سیاسی کشیدگی کے دوران دوبارہ توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ ایسے میں سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ محض احتسابی عمل کی بحالی ہے یا حکومت پر مولانا کی سخت تنقید کے بعد ان کے سیاسی حلقے پر دباؤ بڑھانے کی کوشش؟

خیال رہے کہ نیب نے اسعد محمود کو 10 نومبر کو طلب کیا ہے۔ تحقیقات کا تعلق ان کے دورِ وزارت، 2022 اور 2023 کے دوران پاکستان پوسٹ آفس میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں اور انتظامی بے ضابطگیوں سے ہے۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق 3,938 آسامیوں کی منظوری کے مقابلے میں 4,252 افراد کو بھرتی کیا گیا، جبکہ ختم شدہ آسامیوں پر تقرریوں، مستقل بھرتیوں، جعلی دستاویزات اور ڈومیسائل کوٹے کی مبینہ خلاف ورزیوں کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔ ایف آئی اے کا اینٹی کرپشن سرکل بھی اسی معاملے میں الگ انکوائری کر رہا ہے۔ یہ کارروائیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب مولانا فضل الرحمٰن نے قومی اسمبلی میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو انہوں نے آئینی سوال قرار دیتے ہوئے اس کے جواز پر اعتراضات اٹھائے۔ انہوں نے قبائلی علاقوں کے معدنی وسائل، ممکنہ بیرونی سرمایہ کاری اور ان سے متعلق معاہدوں کی شفافیت پر بھی سوالات کیے اور مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔ مولانا کا مؤقف ہے کہ قومی وسائل سے متعلق فیصلے عوام اور پارلیمنٹ سے چھپا کر نہیں کیے جانے چاہییں۔مولانا نے حکومت کو خبردار کیا کہ سیاسی اختلافات کو طاقت کے ذریعے دبانے اور ملک کو تصادم کی طرف لے جانے سے گریز کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کسی ایک ادارے یا شخصیت کی ملکیت نہیں بلکہ تمام شہریوں کا ہے اور قومی معاملات میں پارلیمنٹ کی بالادستی تسلیم کی جانی چاہیے۔

مولانا کے سخت بیانات کے جواب میں حکومتی وزرا نے بھی جارحانہ مؤقف اختیار کیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے ان کے بعض دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے دورے کے دوران کوئی دفاعی معاہدہ زیر بحث نہیں تھا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی وضاحت کی کہ ان کے دورے وزیراعظم کی ہدایت پر ہوتے ہیں۔ تاہم محسن نقوی نے سینیٹ میں مولانا پر براہ راست تنقید کرتے ہوئے ان کے سیاسی مؤقف اور ریاست کے ساتھ تعلقات پر سوالات اٹھائے۔ خواجہ آصف نے بھی مولانا کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے سیاسی کردار پر اعتراضات کیے۔ اس طرح اختلافات پارلیمانی بحث سے نکل کر ذاتی اور سیاسی الزامات تک پہنچ گئے۔

دوسری جانب مولانا کی اسلام آباد میں واقع رہائش گاہ اور ان سے منسلک بعض مدارس کو سی ڈی اے کی جانب سے تعمیراتی ضوابط کی مبینہ خلاف ورزیوں پر نوٹسز جاری کیے گئے۔ ان کے قریبی ساتھی امان اللہ کو بھی ایف آئی اے اور سی ڈی اے کی جانب سے نوٹسز ملنے کی اطلاعات ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے حلقے ان کارروائیوں کو مولانا پر سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں، جبکہ سرکاری اداروں کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات متعلقہ قوانین اور انتظامی ضوابط کے تحت کیے جا رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق معاملے کا اہم پہلو یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن ماضی میں پی ڈی ایم کے ذریعے انہی جماعتوں کے ساتھ اقتدار میں شریک رہے جو آج حکومت کا حصہ ہیں، لیکن اب وہ ان کی پالیسیوں اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔ ایسے میں ان کے صاحبزادے اور قریبی حلقے کے خلاف کارروائیوں کا وقت سیاسی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ اگر اسعد محمود کے خلاف الزامات میں ٹھوس شواہد موجود ہیں تو تحقیقات قانون کے مطابق ہونی چاہییں، لیکن احتساب کا معیار تمام سیاسی جماعتوں اور شخصیات کے لیے یکساں ہونا بھی ضروری ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومت ان معاملات کو شفاف احتساب کے ذریعے منطقی انجام تک پہنچائے گی یا مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ بڑھتی سیاسی محاذ آرائی کے دوران احتسابی کارروائیاں بھی دباؤ کے ایک نئے ہتھیار کے طور پر دیکھی جائیں گی؟

Back to top button