اہلخانہ کو ہراساں کرنےپرجےیوآئی سینٹرزنےتحریک استحقاق جمع کروادی

جمعیت علمائے اسلام ف کے سینیٹر کامران مرتضی نے نامعلوم افراد کی جانب سے گھرمیں اہل خانہ کوہراساں کئےجانےپرسینٹ کی استحقاق کمیٹی میں تحریک استحقاق جمع کروادی۔

کامران مرتضی نے کہا کہ میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعہ پر ایوان میں درج ذیل تحریک استحقاق پیش کرتا ہوں، چار نومبر کو تقریباً 40 افراد نے میرے ذاتی گھر کاگھیراؤ کیا۔

تحریک استحقاق میں کہا گیا کہ نامعلوم لوگوں نے گھر کے مین گیٹ پر لاتیں ماریں، دیواروں پر چڑھ کر گھر کے اندر کی تصاویر بنائیں، شور شرابہ سن کر محلے کے لوگ اکٹھے ہوئے اور وہاں پر موجود چند طلباء نے اپنے ذاتی موبائل کیمروں سے ان افراد کی ویڈیو بنانا چاہی تو انہوں نے انہیں منع کر دیا، بعد میں چالیس افراد میرے آبائی گھر کو گھیرے میں لے کر میرے گھر سے تھوڑے سے فاصلے پر واقع ہے وہاں حملہ آور ہوئے۔

اس میں کہا گیا کہ نامعلوم لوگوں نے دروازوں کو لاتیں ماریں اور چھت پر چڑھ گئے، اس وقت گھر میں میرے چھوٹے بھائی عدنان کے علاوہ گھر کی خواتین اور بچے بھی موجود تھے، میرے بھائی نے مذکورہ بالا افراد سے ان کی شناخت اور بلاوجہ ہراساں کرنے کی وجہ دریافت کی، جس پر انہوں نے اپنی شناخت بتانے سے انکار کیا اور کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کہنے پر آئے ہیں۔

کچھ دیر میں لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہونے کی وجہ سے مذکورہ بالا افراد وہاں سے چلے گئے، سینیٹ آف پاکستان کا ایک رکن اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک سینئر وکیل ہونے کے باوجود میرے گھر پر حملہ کیا جاتا ہے۔

تحریک استحقاق میں کہا گیا کہ گھر میں خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا جاتا ہے تو ایک عام اور غریب پاکستانی شہری کا کیا حال ہوگا، میری درخواست ہے کہ میری اس تحریک کو متعلقہ کمیٹی میں بھیجا جائے تاکہ مذکورہ بالا تمام تر واقعات کا جائزہ لے کر اس کی رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے۔

Back to top button