زہریلے انجیکشن سے بچنے والی خاتون کا اب کیا بنے گا؟

امریکی ریاست ٹینیسی میں زہریلے انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش کے باوجود زندہ بچ جانے والی کرسٹا پائیک کی جان تو بچ گئی لیکن وہ بدستور جیل میں قید ہے اور اپنے بارے میں اگلے فیصلے کا انتظار کر رہی ہیں۔ اب اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا امریکی حکام اسے دوبارہ زہریلا انجیکشن دے کر موت کے گھاٹ اتاریں گے یا ایک ہی جرم میں دو مرتبہ سزائے موت دینے کو غیرآئینی قرار دے کر اس کی سزا عمر قید میں تبدیل کردی جائے گی؟
دوسری جانب جس لڑکی کو کرسٹا پائیک نے قتل کیا تھا اس کے والدین انصاف کے خواہاں ہیں اور ملزمہ کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ کرسٹا پائیک کو 30 ستمبر 2026ء کو زہریلے انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم دو مرتبہ زہریلی دوا دیئےجانے کے باوجود اس کی موت واقع نہیں ہوئی۔ انجیکشن کے دوران اس کی حالت بگڑ گئی اور اسے ہسپتال منتقل کرنا پڑا جہاں وہ کئی روز تک بے ہوش اور وینٹی لیٹر پر رہی۔ 6 اکتوبر کو اس کے وکلا نے بتایا کہ وہ ہوش میں آگئی ہے اور بات چیت کرسکتی ہے، تاہم اس کے دونوں بازوؤں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔
10 اکتوبر کو اسے ہسپتال سے ڈسچارج کرکے دوبارہ جیل منتقل کردیا گیا جہاں وہ گزشتہ تقریباً 30 برس سے قید ہے۔ اس وقت وہ طبی نگرانی میں صحت یاب ہو رہی ہے اور بدستور سزائے موت کی قیدی ہے۔ اس کی سزا میں تاحال کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور نہ ہی اسے رہائی ملی ہے۔ کرسٹا پائیک کے وکلا نے ٹینیسی کے گورنر سے دوبارہ اپیل کی ہے کہ اس کی سزائے موت کو بغیر پیرول کے عمر قید میں تبدیل کردیا جائے۔ ان کا موقف ہے کہ ریاست پہلے ہی اسے زہریلے انجیکشن کی دو خوراکیں دے چکی ہے جس سے اسے شدید جسمانی اذیت پہنچی، لہٰذا دوبارہ عملدرآمد کی کوشش امریکی آئین کی آٹھویں ترمیم میں درج ظالمانہ اور غیرمعمولی سزا سے تحفظ کے اصول کی خلاف ورزی ہوگی۔ اس کیس میں ایک اہم قانونی سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایک ہی جرم میں کسی شخص کو دو مرتبہ سزائے موت دینے کی کوشش کی جاسکتی ہے؟ کرسٹا پائیک کے وکلا اسے امریکی آئین میں درج دوہری سزا سے تحفظ کے اصول کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ امریکی سپریم کورٹ 1947ء میں ولی فرانسس کے مقدمے میں پہلی مرتبہ برقی کرسی کے ذریعے سزائے موت کی کوشش ناکام ہونے کے بعد دوسری مرتبہ عملدرآمد کی اجازت دے چکی ہے، اس لیے کرسٹا پائیک کو دوبارہ سزائے موت دینے کا قانونی امکان مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
دوسری جانب گورنر ٹینیسی بل لی نے کرسٹا پائیک کی رحم کی اپیل اس کے ناکام عملدرآمد سے صرف دو روز قبل مسترد کردی تھی، تاہم 30 ستمبر کے واقعے کے بعد انہوں نے ریاست میں 2026 کے باقی عرصے کے لیے سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا اور واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ زہریلے انجیکشن سے مارنے کے عمل میں کیا خرابی ہوئی۔ اس واقعے کے بعد ریاست کے محکمہ اصلاحات کے سربراہ بھی مستعفی ہوگئے تھے۔
ادھر 30 اکتوبر کو کرسٹا پائیک نے ناکام پھانسی کے بعد پہلی مرتبہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلسل جسمانی تکلیف اور درد سے گزر رہی ہے۔ اس کے مطابق وہ سزائے موت پر عملدرآمد کے دن موت کے لیے تیار ہوکر کمرے میں داخل ہوئی تھی لیکن جب اسے ہوش آیا تو وہ ہسپتال میں تھی۔ اس نے طبی عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ صحت یاب ہونے کی کوشش کررہی ہے۔ لیکن اس مقدمے میں مقتولہ لڑکی کے والدین اپنی بیٹی کے قتل کے تقریباً 31 برس بعد بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ کولین کی والدہ طویل عرصے سے کرسٹا کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کر رہی ہیں اور اس کی پھانسی کے روز ٹینیسی بھی گئی تھیں۔ تاہم سزائے موت کے ناکام عملدرآمد کے بعد انہوں نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کے لیے انصاف چاہتی تھیں اور ریاست کو اس ناکامی پر ان سے معذرت کرنی چاہیے۔
