اسرائیل کی امداد ختم کرنے کے باوجود ٹرمپ کو شکست

 

 

 

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مڈ ٹرم الیکشن سے چند روز قبل اسرائیل کی سالانہ چار ارب ڈالرز کی فوجی امداد بند کرنے کا اعلان بھی ریپبلکن پارٹی کو انتخابی شکست سے نہ بچا سکا، اسرائیل کے حق میں کیے گئے اس غیر معمولی فیصلے کے باوجود امریکی ووٹرز نے ٹرمپ کی جماعت کو مسترد کر دیا ہے اور ڈیموکریٹس نے دونوں ایوانوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے ۔

 

یاد رہے کہ امریکی الیکشن سے چند روز پہلے عوامی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ رواں سال کے اختتام پر اسرائیل کی فوجی امداد بند کر دی جائے گی۔

 

امریکی صدر نے بتایا تھا کہ اسرائیل کو سالانہ چار ارب ڈالرز کی ادائیگی ختم کرنے کا فیصلہ کئی ماہ پہلے ہو چکا تھا اور اس حوالے سے نیتن یاہو کو بھی آگاہ کر دیا گیا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر مستقبل میں اسرائیل کو کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہوئی تو واشنگٹن اس کی معاونت کرے گا۔ٹرمپ نے اپنے اعلان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اب اتنا مضبوط اور خودکفیل ہو چکا ہے کہ اسے امریکی مالی امداد کی ضرورت نہیں رہی۔ ان کے مطابق اسرائیل اگر امریکی ہتھیار حاصل کرنا چاہے تو خرید سکتا ہے، لیکن اسے ہر سال اربوں ڈالرز کی براہ راست فوجی امداد دینے کا سلسلہ جاری رکھنے کی ضرورت نہیں۔

 

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیل کو امریکی فوجی امداد فراہم کرنے کا موجودہ معاہدہ 2016 میں سابق امریکی صدر باراک اوباما اور نیتن یاہو کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت امریکہ 2028 کے اختتام تک اسرائیل کو سالانہ 3.8 ارب ڈالر فراہم کرنے کا پابند ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے چار ارب ڈالرز سالانہ امداد بند کرنے کے اعلان سے یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ آیا وہ موجودہ معاہدے کی مدت ختم ہونے سے ایک سال پہلے ہی امداد روکنے کا فیصلہ کر رہے ہیں یا کسی نئے انتظام کی بات کر رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو بھی اس سے قبل امریکی امداد پر انحصار ختم کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔ رواں سال مئی میں امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ وہ اسرائیل کو ملنے والی سالانہ 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد بتدریج کم کرکے صفر تک لانا چاہتے ہیں اور اس عمل کا آغاز فوری طور پر ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق اگلی ایک دہائی کے دوران امریکی مالی معاونت مکمل طور پر ختم کی جا سکتی ہے۔

 

یاد رہے کہ دوسری عالمی جنگ کے اختتام سے اب تک اسرائیل امریکہ سے سب سے زیادہ امداد حاصل کرنے والا ملک رہا ہے۔ امریکی کانگریس کی گزشتہ سال شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق واشنگٹن اب تک اسرائیل کو مجموعی طور پر 174 ارب ڈالر کی امداد فراہم کر چکا ہے، جس میں افراط زر کے اثرات شامل نہیں۔ اس کے علاوہ غزہ جنگ کے دوران اکتوبر 2023 کے بعد صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے 2024 میں اسرائیل کو معمول کی سالانہ امداد کے علاوہ مزید 18 ارب ڈالر کی براہ راست معاونت بھی فراہم کی تھی۔

 

تاہم غزہ میں اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے بعد امریکی سیاست میں اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کا معاملہ تیزی سے متنازع ہوتا گیا ہے اور ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بھی اسرائیل کو فوجی امداد دینے کی مخالفت میں اضافہ ہوا ہے۔ جولائی میں ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے اسرائیل کے لیے 3.3 ارب ڈالر کی سکیورٹی امداد ختم کرنے کی قرارداد پیش کی تھی، جس کی 103 ڈیموکریٹ ارکان نے حمایت کی، تاہم یہ تجویز 104 کے مقابلے میں 314 ووٹوں سے مسترد ہو گئی۔ ستمبر میں ہونے والے ایک سروے میں بھی 48 فیصد امریکی ووٹرز نے رائے دی کہ امریکہ اسرائیل کی ضرورت سے زیادہ حمایت کر رہا ہے، جبکہ 2017 میں یہ شرح صرف 16 فیصد تھی۔

 

امریکی صحافی اور سیاسی مبصر گلین گرین نے ٹرمپ کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو سالانہ چار ارب ڈالرز کی امداد دراصل 2016 کے اوباما۔نیتن یاہو معاہدے کے تحت طے شدہ کم از کم رقم ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کے دفاع کے لیے امریکی فوج کی تعیناتی اور امریکی ہتھیاروں کے ذخائر استعمال کرنے پر اٹھنے والے اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی صحافی اور تجزیہ کار یاکوف نے اس اعلان کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امداد کی بندش کا اعلان مڈ ٹرم الیکشن کے روز کرنا محض اتفاق نہیں لگتا۔

ایران جنگ اور مہنگائی نے ٹرمپ کی لٹیا کیسے ڈبوئی؟

یاکوف کاٹز کے مطابق ٹرمپ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کی فوجی امداد ختم کرنے کا اعلان ریپبلکن امیدواروں کے لیے انتخابی فائدہ ثابت ہو سکتا ہے، خصوصاً ان ریاستوں میں جہاں اسرائیل کو امریکی مالی معاونت دینے پر ووٹرز میں ناراضی پائی جاتی ہے۔ ان کے بقول ٹرمپ اس فیصلے کے ذریعے امریکی ٹیکس دہندگان کے تقریباً چار ارب ڈالرز بچانے کا سیاسی دعویٰ بھی کر سکیں گے، تاہم مڈ ٹرم الیکشن کے نتائج نے ظاہر کر دیا ہے کہ اسرائیل کی امداد بند کرنے کا اعلان بھی ریپبلکن پارٹی کے لیے مطلوبہ انتخابی فائدہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

Back to top button