میرا جی کوئی جینئیس تھے یا کوئی جنسی مریض تھے؟

 

 

 

اگر ناقدین کی جانب سے سعادت حسن منٹو جیسے عظیم لکھاری پر فحش نگاری کا الزام لگتا ہے تو صرف 38 برس جینے والے معروف شاعر اور لکھاری میرا جی کو اپنی کھلے ڈلے خیالات کی وجہ سے جنسی مریض کہا جاتا ہے حالانکہ انکی شاعری کو سمجھنے والے انہیں اپنے وقت کا ایک جینئیس مانتے ہیں۔ یہ بھی ایک عجیب اتفاق ہے کہ سعادت حسن منٹو اور میرا جی ایک ہی مہینے اور ایک ہی سال ۔۔ یعنی مئی 1912 میں پیدا ہوئے، اور دونوں کشمیریوں نسل تھے۔

 

میراجی کا اصل نام محمد ثنا اللہ ڈار تھا۔ منشی مہتاب الدین کے ہاں لاہور میں پیدا ہونے والے میرا جی پہلے ”ساحری“ تخلص کرتے تھے لیکن پھر ایک بنگالی لڑکی ”میراسین“ کے یک طرفہ عشق میں گرفتار ہو کر ”میراجی“ تخلص اختیار کر لیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس لڑکی کے ساتھ پوری زندگی میں میراجی کا صرف ایک مکالمہ ہوا جس میں انہوں نے سامنے سے آتی ہوئی میرا سین سے کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن خاتون سنی ان سنی کر کے آگے بڑھ گئی۔ تاہم میرا جی مسلسل اس کے عشق میں مبتلا رہے اور اسی چکر میں اپنا تخلص بھی میرا جی کر لیا۔ میراجی سے ایسے عجیب و غریب واقعات وابستہ ہیں کہ ان کی ذات عام آدمی کے لئے ایک افسانہ بن کر رہ گئی ہے۔ اُنکا حلیہ اور انکی حرکات و سکنات ایسی تھیں کہ جیسے انہوں نے سلسلہ ملامتیہ میں بیعت کر لی ہو۔ لمبے لمبے بال، بڑی بڑی مونچھیں، گلے میں مالا، شیروانی پھٹی ہوئی، اوپر نیچے بیک وقت تین پتلونیں، جب اوپر کی پتلون میلی ہوگئی تو نیچے کی اوپر اور اوپر کی نیچے کر لیتے تھے۔ انکی شیروانی کی دونوں جیبوں میں بہت کچھ ہوتا۔ کاغذوں اور بیاضوں کا پلندہ بغل میں دابے وہ سڑکوں پر پھرتا تھا اور چلتے ہوئے ہمیشہ ناک کی سیدھ میں دیکھتا تھا۔ وہ اپنے گھر اپنے محلے اور اپنی سوسائٹی کے ماحول کو دیکھ دیکھ کر کڑھتا تھا۔ اس نے عہد کر رکھا تھا کہ وہ اپنے لئے شعر کہے گا۔

 

صرف 38 سال کی عمر میں 3 نومبر 1949 کو مختصر زندگی گزار کر چلے جانے والے میراجی کی مشہور تصانیف میں مشرق و مغرب کے نغمے، نگار خانہ، خیمے کے آس پاس وغیرہ شامل ہیں۔ میراجی کی نظموں کے مجموعوں میں گیت ہی گیت، پابند نظمیں اور تین رنگ معروف ہیں۔ تاہم افسوس کہ ناقدین اور حاسدین کی جانب سے میرا جی کی تخلیقی ٹیلنٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے ان پر جنسی کج روئی، بے راہ روی اور مریضانہ شخصیت ہونے کے الزامات عائد کیے گے۔ یوں اصل میرا جی کے نقش و نگار کہیں چھپ کر رہ گئے۔ میرا جی کے نادان دوستوں اور بدخواہ حریفوں نے ان کی ذہنی و جسمانی غلاظتوں کے وہ خاکے اڑائے کہ انھیں عام انسانوں کی دنیا سے الگ تھلگ کوئی جناتی مخلوق بنا کر رکھ دیا۔ دوسری جانب شہر کے لوگ تو ظالم تھے ہی، خود میرا جی کو بھی مرنے کا کچھ ایسا شوق تھا کہ وہ خود کو اپنے گرد لپیٹے ہوئے خول کے اندر ہی محفوظ سمجھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا:

’لوگ مجھ سے میرا جی کو نکالنا چاہتے ہیں، مگر میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔ یہ نکل گیا تو میں کیسے لکھوں گا، یہ کمپلیکس ہی میری تحریریں ہیں۔‘

 

اگر کسی نقاد نے میرا جی پر جم کے لکھا تو وہ وزیر آغا تھے۔ لیکن انھوں نے میرا جی کو قدیم یونان کے کردار کی طرح ’دھرتی پوجا‘ کی چارپائی پر یوں لٹا دیا کہ اگر پاؤں لمبے پڑ گئے تو انھیں قطع کر دیا اور اگر چارپائی لمبی ہو گئی تو شاعر کو کھینچ کر لمبا کر دیا۔ گویا میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو تھو۔ میرا جی پر سب سے بڑا الزام ابہام کا لگا۔ انکی شاعری کو الجھی ہوئی شخصیت کا مظہر قرار دے کر اس پر پراگندگی کا ٹھپا تو لگا دیا گیا لیکن یہ سوچا ہی نہ گیا کہ اصل میں ابہام تو اچھی شاعری کی روح ہوتا ہے۔ سیدھی سادی بات سے بڑا فن تخلیق نہیں کیا جا سکتا۔ غالب کہہ گئے ہیں کہ بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر۔ ویسے بھی بقول مشتاق یوسفی: جو شعر بیک وقت دو ہزار سامعینِ مشاعرہ کی سمجھ میں آ جائے وہ بڑا شعر نہیں ہو سکتا۔ چاہے خاکہ نگار کچھ بھی کہیں، شواہد بتاتے ہیں کہ میرا جی بے حد سلجھی ہوئی اور منظم شخصیت کے مالک تھے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ صرف 38 برس کی عمر میں ایک نسل کے برابر کام چھوڑ کر گئے۔

 

جدید اردو نظم میں میرا جی کا اپنا ایک منفرد مقام ہے۔ بقول سعادت حسن منٹو، بحیثیت شاعر، میراجی کی حیثیت وہی ہے جو گلےسڑے پتّون کی ہوتی ہے، جسے کھاد کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اس کا کام بہت عمدہ کھاد ہے جسکی افادیت ایک نہ ایک دن ضرور ظاہر ہو کر رہےگی۔اس کی شاعری اک گمراہ انسان کا کام  ہے جو انسانیت کی عمیق ترین پستیوں سے متعلق ہونےکے باوجود دوسرےانسانوں کے لئے اونچی فضاؤن میں مرغ باد نما  کا کام دے سکتا ہے۔ اس کا کلام  اک JIGSAW PUZZLE ہے جسکے ٹکڑے بڑے اطمینان و سکون سے جوڑ کر دیکھنے چاہئیں۔”

 

نقاد کا کہنا ہے کہ میرا جی کا نام اردو میں آزاد نظم اور علامتی شاعری کورائج کرنے اور اسے فروغ دینے والوں میں سر فہرست ہے۔  ن۔م راشد کا کہنا تھا کہ میرا جی محض شاعر نہیں بلکہ اک  Phenomenon ہیں۔ میرا جی نے ہندوسان کی دیگر زبانوں کے ساتھ ساتھ مغربی ادبی رجحانات، جدید نفسیات اور ہندو دیو مالا کی روح کو اپنے اندر جذب کر کے اسے خالص ہندوستانی زبان کا جامہ پہنایا۔ میرا جی کا کہنا تھا کہ محض آزاد نظم کی ہیئت استعمال کر کے کوئی جدید شاعر نہیں بن جاتا۔ اس کے لئے جدید حسیّت بھی ضروری ہے۔ ان کے گوناگوں شعری، نفسیاتی  اور حسّی تجربات کی آمیزش نے میرا جی کی شاعری کو مشکل لیکن منفرد بنا دیا۔ڈاکٹر جمیل جالبی کے الفاظ مین "میراجی کی شاعری  سماج کے اک ایسے ذہن کی ترجمانی کرتی ہے کہ اب سے کم اخلاقی جرات رکھنے والا انسان اس کو پیش ہی نہیں کر سکتا تھا۔ میراجی کی شاعری میں خلوص اور صداقت کا وہ عنصر ملتا ہے کہ ہم انکی شاعری کا احترام کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔”

 

قدرت کا کرشمہ دیکھئے کہ اس نے شاعری کا یہ گلاب گوبر کے ڈھیر پر کھلایا۔ میرا جی کی ظاہری شخصیت حد درجہ غلیظ اور کریہہ تھی۔ میلے کچیلے کپڑے، ہر موسم میں جاڑون کا لباس، لمبی زلفیں، گندے ناخون، گلے میں گز بھر کی مالا، ہاتھ میں لوہے کے تین گولے جن پر سگریٹ کی پنّی مڑھی ہوتی، دن رات نشہ میں دھت، کوٹھون پر جانا اور شائستہ محفلوں میں جوتوں سمیت اکڑون کرسی پر بیٹھنا، سالن میں زردہ یا کھیر ملا کر کھانا، مشاعرہ میں سامعین کی طرف پیٹھ کر کے نظم سنانا، دھاڑیں مار مار کر رونا، اور حد درجہ جنسی پرورژن نے میرا جی کی شخصیت کو افسانہ بنا دیا ۔ ایسی شخصیت جو ان کی شاعری کے مطالعہ میں آڑے آتی ہے اور اکثر انکے قاری اوران کی شاعری کےدرمیان آڑ بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔

 

کچھ برس ریڈیو پاکستان لاہور میں نوکری کرنے کے بعد 1945 میں میرا جی کی شامت نے انہیں گھیرا اور فلموں میں قسمت آزمانے بمبئی پہنچ گئے۔ بمبئی پہنچ کر میرا جی کے چودہ طبق روشن ہو گئے۔تین مہینے تک کوئی کام نہیں ملا ۔وہ کبھی اس کے پاس اور کبھی اس کے پاس بن بلاے مہمان کی طرح وقت گزارتے رہے۔پھر پونا چلے گئے جہاں اختر الایمان تھے۔اختر الایمان نے ان کو محبت سے اپنے پاس رکھا۔ پونا میں بھی ان کی ملازمت کا کوئی بندوبست نہیں ہوسکا مجبورا وہ 16 اکتوبر 1947ء کو بمبئی واپس آ گئے کچھ دنوں بعد اختر الایمان بھی بمبئی آ گئے تو انھوں نے رسالہ خیال نکالا اور ادارت میرا جی کو سونپ دی۔اس کے لئے وہ میرا جی کو 100 روپے ماہوار دیتے تھے۔ اب تک کثرت شراب نوشی اور کھانے پینے میں بے قاعدگی کی وجہ سے ان کی صحت بہت خراب ہو چکی تھی۔ ان کو اسہال کی شکایت تھی لیکن نہ پرہیز کرتے تھے اور نہ علاج۔جب حالت دگر گوں ہوتے دیکھی تو اختر الایمان ان کو اپنے گھر لے گئے لیکن وہاں بھی وہ پرہیز نہیں کرتے تھے۔ جب حالت زیادہ بگڑی تو ان کو سرکاری اسپتال میں داخل کرا دیا گیا جہان وہ کینٹین والوں سے بھی کھانا مانگ کر بد پرہیزی کرتے تھے۔ ان کی دماغی حالت بھی ٹھیک نہیں رہی تھی۔ میرا جی کے آخری ایّام انتہائی اذیت ناک تھے۔ ان کے سارے بال سفید ہو گئے تھے۔ ہاتھوں پیروں اور پیٹ پر ورم تھا۔ انکا خون بننا بالکل بند ہو گیا تھا۔ یوں 3 نومبر 1949 کو ان کا انتقال ہو گیا۔ جنازے میں صرف پانچ آدمی شریک ہوئے جن میں اخترالایمان، مہندر ناتھ، مدھوسودن، نجم نقوی اور آنند بھوشن شامل تھے۔ انکی تدفین میری لائن قبرسان میں ہوئی۔ تمام تر کوششوں کے باوجود بمبئی کے کسی اخبار  نے ان کی موت پر ایک لائن کی خبر بھی نہیں شائع کی۔ میرا جی کی قدر بھی زمانے نے ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد کی۔ تاہم اب میرا جی کی دستیاب شعری تخلیقات کو کلیات کی شکل میں جمع کیا جا چکا ہے جس میں 223 نظمیں، 136 گیت،17 غزلیں، 22 منظوم تراجم  اور 5 متفرقات شامل ہیں۔ بلاشبہ میرا جی ایک جنسی مریض نہیں بلکہ ایک جینئس تھے۔

Back to top button