گورنر راج، وزیر اعظم نے نون لیگی صوبائی قیادت کو جھنڈی کیسے دکھائی؟

خیبر پختونخوا میں نئے انتظامی سیٹ اپ کے قیام کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صوبائی قیادت کو امید تھی کہ تقریباً 13 سال بعد صوبے میں پیدا ہونے والی نئی سیاسی صورتحال کے نتیجے میں اسے بھی حکومتی معاملات میں حصہ ملے گا، لیکن وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ملاقات میں یہ امید پوری نہ ہو سکی۔ وزیراعظم نے واضح کر دیا کہ خیبر پختونخوا کا نیا سیٹ اپ سیاسی نہیں بلکہ انتظامی اور ماہرین پر مشتمل ہے، اس لیے مسلم لیگ (ن) کی صوبائی قیادت کو اس میں کوئی عہدہ یا براہ راست نمائندگی نہیں دی جائے گی۔ اس فیصلے نے صوبائی رہنماؤں کی توقعات اور نئے سیٹ اپ سے وابستہ سیاسی امیدوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
وزیراعظم کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کی صوبائی قیادت کے علاوہ احسن اقبال، رانا ثنا اللہ اور دیگر رہنما بھی شریک تھے۔ اجلاس میں شریک ایک رکن اسمبلی کے مطابق صوبائی قیادت اس توقع کے ساتھ پہنچی تھی کہ نئے سیٹ اپ میں پارٹی کے منتخب اراکین اور رہنماؤں کو بھی شامل کیا جائے گا، تاہم وزیراعظم نے ابتدا ہی میں واضح کر دیا کہ اس انتظامی ڈھانچے سے صوبائی قیادت کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ ان کے بقول یہ سیٹ اپ بیوروکریٹک ہے، سیاسی نہیں، اور پارٹی رہنماؤں کو اس کی حمایت تو کرنا ہوگی لیکن اس کے بدلے کسی عہدے یا حکومتی حصے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔
اجلاس میں ن لیگی اراکین نے سابقہ پی ٹی آئی حکومت کے دور میں نظر انداز کیے جانے اور گزشتہ 13 سال کے دوران ترقیاتی فنڈز نہ ملنے کی شکایات بھی پیش کیں۔ اس معاملے پر وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ ان کے حلقوں کی ترقیاتی اسکیمیں وفاقی فنڈز کے ذریعے شامل کی جائیں گی۔ اس مقصد کے لیے وفاقی وزیر منصوبہ بندی کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنانے کی تجویز بھی زیرِ غور آئی، جس میں صوبائی رہنماؤں کو نمائندگی دی جائے گی۔ تاہم وزیراعظم نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا کے لیے اعلان کردہ 160 ارب روپے کے پیکج میں ان اراکین کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
اجلاس میں ثمر ہارون بلور کی نئے سیٹ اپ میں شمولیت کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ وزیراعظم نے وضاحت کی کہ ان کی شمولیت سیاسی بنیادوں پر نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف قربانیوں اور صوبے میں ان کے کردار کے اعتراف کے طور پر ہوئی ہے۔ انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی کہ وہ نئے انتظامی سیٹ اپ کی حمایت کریں اور پی ٹی آئی کا سیاسی مقابلہ جاری رکھیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس ملاقات سے مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت اور خیبر پختونخوا کی صوبائی تنظیم کے درمیان ترجیحات کا فرق سامنے آتا ہے۔ صوبائی رہنما نئے حالات کو پارٹی کی تنظیمی اور سیاسی واپسی کے موقع کے طور پر دیکھ رہے تھے، جبکہ وزیراعظم نے نئے سیٹ اپ کو سیاسی شراکت داری کے بجائے انتظامی بندوبست قرار دیا۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا ترقیاتی فنڈز اور حلقوں میں کاموں کی یقین دہانی صوبائی قیادت کے تحفظات دور کرنے کے لیے کافی ہوگی، یا اقتدار کے نئے انتظام میں نمائندگی نہ ملنے سے پارٹی کے اندر مزید بے اطمینانی پیدا ہوگی؟
