پٹرول پر حکومتی ریلیف کے فیصلے پر آئیل ریفائنریز مشکل میں کیوں؟

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں اور مہنگائی سے پریشان عوام کو وقتی ریلیف دینے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں مجوزہ 15 روپے فی لیٹر اضافے کا بوجھ صارفین کے بجائے مقامی آئل ریفائنریوں پر منتقل کر دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی مبینہ سخت ہدایت کے بعد پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کا فارمولا تبدیل کر دیا گیا، جس کے تحت ریفائنریوں کو ایک ماہ کے دوران تقریباً 15 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور خطے کی کشیدہ صورتحال کے باعث عوام پہلے ہی شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں اور دوسری طرف مقامی ریفائنریاں ریکارڈ منافع کما رہی ہیں تو ایسے میں پیٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافہ عوام پر منتقل کرنا مناسب نہیں۔ تاہم اس فیصلے نے ایک نیا معاشی اور پالیسی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت واقعی عوام کو ریلیف دینے کے لیے ریفائنریوں کے غیر معمولی منافع سے فائدہ اٹھا رہی ہے یا اپنے ٹیکسوں اور پیٹرولیم لیوی میں کمی کرنے کے بجائے ایک دوسرے صنعتی شعبے پر مالی بوجھ ڈال رہی ہے؟ اور کیا یہ عارضی فیصلہ مستقبل میں پیٹرول کی فراہمی، مقامی ریفائنریوں کی سرمایہ کاری اور ملک کی توانائی ضروریات کے لیے نئی مشکلات پیدا کر سکتا ہے؟

خیال رہے کہ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے 2 نومبر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 30 اکتوبر کو پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان تھا، تاہم ریفائنریوں کے تعاون سے یہ اضافہ روک دیا گیا۔ ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی تھی کہ اضافی بوجھ عوام پر منتقل کرنے کے بجائے ریفائنریاں برداشت کریں۔ حکومت نے یہ انتظام ابتدائی طور پر 30 روز کے لیے نافذ کیا ہے اور اس دوران ریفائنریوں کے تحفظات بھی سنے جائیں گے۔نئے فارمولے کے تحت پیٹرول کی درآمدی قیمت کا تعین پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے آخری درآمدی کارگو کی حقیقی لاگت، پریمیم، اضافی اخراجات اور کسٹمز ڈیوٹی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ درآمدی قیمت اور مقامی ریفائنری کی ایکس ریفائنری قیمت کے درمیان فرق کو پیٹرولیم لیوی کے طریقہ کار کے تحت ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ ریفائنریوں کو اس حوالے سے مقررہ رقم جمع کرانے اور پیٹرول کی یومیہ فروخت کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق حکومت کے فیصلے کی بنیادی وجہ مقامی ریفائنریوں کے غیر معمولی مالی نتائج ہیں۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بڑی ریفائنریوں کے منافع میں ایک ہزار فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔اٹک ریفائنری کا خالص منافع گزشتہ سال کے 1.45 ارب روپے سے بڑھ کر 18.65 ارب روپے ہو گیا، جو تقریباً 1184 فیصد اضافہ ہے۔ نیشنل ریفائنری کا منافع 1.03 ارب روپے سے بڑھ کر 11.57 ارب روپے جبکہ پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کا منافع 1.02 ارب روپے سے بڑھ کر 13.97 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ اسی طرح سنرجیکو نے بھی گزشتہ سال کے خسارے کے مقابلے میں 12.88 ارب روپے بعد از ٹیکس منافع حاصل کیا۔معاشی ماہرین کے مطابق اس غیر معمولی منافع کی بڑی وجوہات مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، عالمی سپلائی میں رکاوٹیں اور ڈیزل و پیٹرول کی قیمتوں میں خام تیل کے مقابلے میں زیادہ اضافہ ہیں۔ اس کے علاوہ کم قیمت پر خریدے گئے تیل کے ذخائر کی عالمی قیمتیں بڑھنے سے ریفائنریوں کو انوینٹری گین بھی حاصل ہوا، جبکہ عالمی سطح پر ڈیزل کی قلت نے ریفائننگ مارجن مزید بڑھا دیے۔

تاہم حکومتی فیصلے پر مالیاتی اداروں نے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ ٹاپ لائن سکیورٹیز کے مطابق مقامی ریفائنریاں ملک کی مجموعی پیٹرول سپلائی کا تقریباً 30 فیصد فراہم کرتی ہیں اور نئے فارمولے کے تحت ان پر فی لیٹر تقریباً 49 روپے کا مؤثر بوجھ پڑ سکتا ہے۔ اس سے ریفائنری سیکٹر کو ماہانہ 10 سے 15 ارب روپے تک اضافی مالی دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔ شرمین سکیورٹیز کے مطابق اس فیصلے سے ریفائنریوں کے پیٹرول اور مجموعی ریفائننگ مارجن کم ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ اے کے ڈی سکیورٹیز نے مجموعی مالی بوجھ 16.4 ارب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا ہے۔ اس صورتحال میں اٹک ریفائنری سب سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہے، جسے تقریباً 2.2 ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ پالیسی طویل عرصے تک برقرار رہی تو ریفائنریوں کو حکومتی ادائیگیوں کے لیے قرض لینا پڑ سکتا ہے، جس سے ان کے مالی اخراجات بڑھیں گے اور پیداواری سرگرمیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

توانائی کی ماہر اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس سے وابستہ رہنے والی محقق عافیہ ملک نے حکومت کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرولیم لیوی میں کمی کی جانی چاہیے تھی، کیونکہ اس مد میں حاصل ہونے والی آمدنی براہ راست وفاقی حکومت کے خزانے میں جاتی ہے۔ان کے مطابق ریفائنریوں نے غیر معمولی منافع ضرور کمایا ہے، لیکن انہیں ماضی میں نقصان بھی برداشت کرنا پڑا ہے۔ اگر حکومت ان کے منافع پر ٹیکس عائد کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے، تاہم انہیں پیداواری لاگت سے کم قیمت پر مصنوعات فروخت کرنے پر مجبور کرنا درست پالیسی نہیں۔عافیہ ملک نے خبردار کیا کہ حکومت ایک طرف مقامی ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کے منصوبوں کی منظوری دے رہی ہے اور دوسری طرف ایسے فیصلے کر رہی ہے جو ان کی سرمایہ کاری اور مالی استعداد کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان اپنی ضرورت کا تقریباً 25 سے 29 فیصد ڈیزل اور 75 فیصد پیٹرول درآمد کرتا ہے۔ اگر مقامی ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن متاثر ہوئی تو درآمدات پر انحصار مزید بڑھ سکتا ہے۔

توانائی کے ماہر اور صحافی علی خضر بھی اس فیصلے کو غیر مناسب قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ریفائنریوں سے مشاورت کیے بغیر پالیسی تبدیل کرنا سرمایہ کاری کے اعتماد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو اپنے ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی میں کمی پر غور کرنا چاہیے، کیونکہ ریفائنریوں نے ماضی میں نقصان بھی برداشت کیا ہے۔علی خضر نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ریفائنریوں کے منافع پر مسلسل دباؤ ڈالا گیا تو وہ پیٹرول کی پیداوار کم کر سکتی ہیں، جس سے مقامی مارکیٹ میں قلت پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ ان کے مطابق حکومت کا 15 روپے کا ریلیف دراصل قیمت میں کمی نہیں بلکہ مجوزہ اضافے کو روکنے کا اقدام ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ جب پیٹرولیم لیوی تقریباً 80 روپے فی لیٹر تک ہے تو حکومت خود اس میں کمی کیوں نہیں کرتی؟

مبصرین کے مطابق حکومت کا فیصلہ وقتی طور پر عوام کو پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے بچا سکتا ہے، لیکن اس کے طویل مدتی اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ریفائنریوں کے غیر معمولی منافع کو بنیاد بنا کر ان پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کے بجائے ایک مستقل اور شفاف پالیسی کی ضرورت ہے، جس میں عالمی قیمتوں، حکومتی ٹیکسوں، پیٹرولیم لیوی اور مقامی پیداواری لاگت کے درمیان توازن قائم رکھا جائے۔تجزیہ کاروں کے خیال میں مقامی ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن پاکستان کی توانائی ضروریات، درآمدی بل میں کمی اور زرمبادلہ بچانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اگر حکومتی فیصلوں سے سرمایہ کاری متاثر ہوئی تو اس کا نقصان صرف ریفائنریوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ملک کا درآمدی تیل پر انحصار بھی بڑھ سکتا ہے۔اصل امتحان 30 روزہ عارضی انتظام کے خاتمے کے بعد شروع ہو گا۔ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھتی ہیں تو کیا حکومت دوبارہ ریفائنریوں پر بوجھ منتقل کرے گی، اپنے ٹیکس اور لیوی میں کمی کرے گی یا بالآخر اضافی قیمت کا بوجھ عوام کو ہی اٹھانا پڑے گا؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب پاکستان کی مستقبل کی پیٹرولیم پالیسی اور توانائی کے شعبے کی سمت کا تعین کرے گا۔

Back to top button