کیا فریال تالپور پنجاب میں پیپلزپارٹی کو دوبارہ زندہ کر پائیں گی؟

بلدیاتی انتخابات قریب آتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی نے پنجاب میں اپنی سیاسی اور تنظیمی سرگرمیاں تیز کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں پارٹی کی ویمن ونگ کی سربراہ فریال تالپور کو پنجاب میں تنظیمی امور کی نگرانی کی اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ پارٹی قیادت کا مقصد صوبے میں تنظیمی ڈھانچے کو فعال بنانے، کارکنوں سے براہ راست رابطے بڑھانے اور بلدیاتی انتخابات کے لیے امیدواروں کی تیاری اور انتخاب کے عمل کو منظم کرنا ہے۔ تاہم یہاں پر اصل سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا فریال تالپور پنجاب میں ایک لمبے عرصے سئ خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے والی پیپلز پارٹی میں نئی روح پھونک پائیں گی؟

پارٹی ذرائع کے مطابق فریال تالپور 10 یا 11 نومبر کو لاہور کا دورہ کر سکتی ہیں، جس کے لیے ملاقاتوں کا شیڈول تیار کیا جا رہا ہے۔ ان کے دورے کے دوران ضلعی تنظیموں کے عہدیداروں، پارٹی کارکنوں اور بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کے خواہش مند امیدواروں سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ پنجاب میں تقریباً 10 روز قیام کریں گی تاکہ مختلف اضلاع میں تنظیمی صورتِ حال کا جائزہ لے سکیں۔

ذرائع کے مطابق فریال تالپور کے پنجاب کے دورے صرف ایک مرتبہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ وہ ماہانہ بنیادوں پر صوبے کے مختلف شہروں کا دورہ کریں گی۔ ان ملاقاتوں کا مقصد مقامی سطح پر پارٹی کی تنظیموں کو مضبوط بنانا، کارکنوں کے مسائل سننا اور بلدیاتی انتخابات کے لیے امیدواروں کو رہنمائی فراہم کرنا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پیپلز پارٹی کے لیے پنجاب میں تنظیمی سرگرمیوں کو متحرک کرنا ایک اہم چیلنج ہے، کیونکہ صوبے کی سیاست میں مؤثر انتخابی موجودگی کے لیے صرف مرکزی قیادت کے دورے کافی نہیں ہوتے بلکہ یونین کونسل اور ضلعی سطح پر مضبوط تنظیمی رابطے بھی ضروری ہیں۔ فریال تالپور کو یہ ذمہ داری سونپنے کا فیصلہ اسی تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کے دوروں اور تنظیمی اقدامات کے نتیجے میں پارٹی بلدیاتی انتخابات سے پہلے پنجاب میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کو کس حد تک مؤثر بنا پاتی ہے۔ تاہم یہاں اصل سوال یہ ہے کہ کیا فریال تالپور پنجاب میں طویل عرصے سے سیاسی طور پر غیر متحرک دکھائی دینے والی پیپلز پارٹی میں نئی روح پھونک پائیں گی؟ کیا وہ پارٹی کے مایوس کارکنوں کو دوبارہ متحرک کرکے قیادت اور نچلی سطح کی تنظیموں کے درمیان رابطے بحال کرنے میں کامیاب ہوں گی؟ کیونکہ پنجاب جیسے اہم سیاسی صوبے میں محض اجلاسوں اور دوروں سے تنظیمی طاقت بحال کرنا آسان نہیں ہوگا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی کو پنجاب میں اپنی کھوئی ہوئی سیاسی جگہ دوبارہ حاصل کرنے کے لیے بلدیاتی سطح پر مضبوط امیدوار، فعال ضلعی قیادت اور مسلسل عوامی رابطوں کی ضرورت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ فریال تالپور کی نگرانی میں شروع ہونے والی یہ تنظیمی مہم محض ملاقاتوں اور اعلانات تک محدود رہتی ہے یا واقعی پنجاب میں پیپلز پارٹی کی سیاسی واپسی کا ذریعہ بن پاتی ہے؟

Back to top button