کیا واقعی مولانا فضل الرحمٰن مکمل طور پر”کڑکی”لگنے والے ہیں؟

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور ریاستی اداروں کے درمیان کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ حالیہ بیانات کے بعد حکومتی وزرا کے سخت ردعمل، مدارس کی رجسٹریشن اور مالیاتی نگرانی سے متعلق اقدامات، خیبر پختونخوا میں پرانے معاملات دوبارہ زیرِ بحث آنے اور اسلام آباد و پشاور میں ان سے منسلک عمارتوں کو جاری کیے گئے نوٹسز نے سیاسی حلقوں میں یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا مولانا فضل الرحمان کے خلاف انتظامی اور قانونی سطح پر کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے جا رہا ہے؟
اسلام آباد کے باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فیصلہ ساز حلقوں میں مولانا کے حالیہ ریاست مخالف بیانات کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور اب ان کے ساتھ سابقہ طرزِعمل سے مختلف انداز میں نمٹنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم یہ دعوے ذرائع سے منسوب ہیں؛ کسی باضابطہ سرکاری فیصلے یا کارروائی کی تصدیق سامنے آنا ضروری ہے۔
ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی ناراضی کی ایک بڑی وجہ مدارس کی اصلاحات، رجسٹریشن اور مالیاتی نگرانی سے متعلق حکومتی اقدامات ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت مدارس کا مکمل ڈیٹا مرتب کرنے، جیو ٹیگنگ، رجسٹریشن، مالیاتی آڈٹ اور تعلیمی نظام کو قومی دھارے سے منسلک کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ حکومت ان اقدامات کو شفافیت اور قانونی نگرانی کے لیے ضروری قرار دیتی ہے، جبکہ جے یو آئی (ف) سمیت بعض دینی حلقوں کو خدشہ ہے کہ ان کے ذریعے مدارس کے انتظامی اور تعلیمی معاملات میں سرکاری مداخلت بڑھائی جا رہی ہے۔ ملک بھر میں مولانا کے نظریاتی یا تنظیمی اثرورسوخ سے وابستہ مدارس کی تعداد کے بارے میں حتمی سرکاری اعدادوشمار موجود نہیں، تاہم ان کی تعداد ہزاروں میں بتائی جاتی ہے۔
مولانا کی ناراضی کا ایک اور ممکنہ سبب خیبر پختونخوا میں ماضی کے بعض معاملات کا دوبارہ زیرِ بحث آنا ہے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی سرکاری اراضی کی مبینہ الاٹمنٹ سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔ یہ تنازع جنرل پرویز مشرف کے دور اور متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت کے زمانے سے جوڑا جاتا ہے۔ تاہم ان الزامات کی حقیقت اور قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ ریکارڈ اور مجاز اداروں کی تحقیقات ہی سے ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ اور ان سے منسلک بعض مدارس کو مبینہ تعمیراتی خلاف ورزیوں پر نوٹسز جاری کیے ہیں۔ ان میں غیر قانونی تعمیرات، عمارتوں کے استعمال اور رہائش گاہ کے باہر سیکیورٹی کیبن اور جنریٹر رکھنے پر اعتراضات شامل ہیں۔ سی ڈی اے نے متعلقہ انتظامیہ کو 15 روز میں خلاف ورزیاں دور کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے عدم تعمیل کی صورت میں جرمانے، عمارت سیل کرنے یا تجاوزات ہٹانے کی کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔
پشاور میں جے یو آئی (ف) کے صوبائی ہیڈکوارٹر مفتی محمود مرکز کا ایک حصہ بھی تجاوزات کی زد میں آنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مطابق مرکز کا تقریباً 52 فٹ حصہ سڑک کی حدود میں آتا ہے۔ اس معاملے پر انصار الاسلام کے رضاکار مرکز پہنچ گئے اور ممکنہ کارروائی کی مزاحمت کا اعلان کیا۔ تاہم بعد ازاں جماعتی قیادت اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان رابطوں کے بعد معاملہ وقتی طور پر حل ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ادھر حکومتی وزرا نے بھی مولانا فضل الرحمان کے خلاف سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ میں جے یو آئی (ف) پر مذہب اور آئین کو سیاسی مفادات اور مراعات کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ مولانا ماضی میں مختلف حکومتوں کا حصہ رہے ہیں۔ ان کے بقول اگر مولانا کو موجودہ حکومت میں حصہ مل جاتا تو شاید ان کی تقاریر کا لہجہ مختلف ہوتا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی سینیٹ میں مولانا کے ریاست اور اداروں سے متعلق بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ریاست سے فائدہ ملنے تک اسے اچھا سمجھنا اور فائدہ نہ ملنے پر اس کے خلاف کھڑا ہو جانا مناسب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا کے حالیہ بیانات کے بعد ان کے لیے احترام باقی نہیں رہا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ کشیدگی کو صرف حکومت میں حصہ نہ ملنے کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ مدارس کی اصلاحات، خیبر پختونخوا میں ماضی کے معاملات، تجاوزات کے خلاف کارروائیاں اور حکومتی وزرا کے سخت بیانات ایک وسیع تر سیاسی تناؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم یہ طے کرنا قبل از وقت ہے کہ ان اقدامات کے پیچھے کسی منظم سیاسی حکمتِ عملی کا ہاتھ ہے یا متعلقہ ادارے اپنے قانونی اختیارات کے تحت کارروائی کر رہے ہیں۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان اس صورتِ حال میں پارلیمانی اور سیاسی راستہ اختیار کرتے ہیں یا احتجاجی تحریک کی طرف بڑھتے ہیں۔ دوسری جانب حکومت کے لیے بھی ضروری ہو گا کہ قانون کے نفاذ اور سیاسی اختلاف کے درمیان واضح فرق برقرار رکھے، تاکہ انتظامی کارروائیوں کو سیاسی انتقام کا تاثر نہ ملے۔
