فیکٹریوں میں دھکے کھانے والا انصر ٹک ٹاک کنگ مسٹر پتلو کیسے بنا؟

سوشل میڈیا کی دنیا میں راتوں رات شہرت اور دولت حاصل کرنے کا خواب کس طرح نوجوانوں کو اخلاقی پستی کی طرف دھکیل رہا ہے، اس کی ایک نمایاں مثال پاکستانی ٹک ٹاکر محمد انصر عرف مسٹر پتلو کی کہانی ہے۔ کبھی فیکٹریوں میں دیہاڑی مزدوری کرنے اور رکشہ چلانے والا یہ نوجوان آج کروڑوں روپے کی آمدنی، مہنگی گاڑیوں اور شاہانہ تقریبات کی وجہ سے خبروں اور سوشل میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس نے ٹک ٹاک لائیو کے نام پر ہونے والے ایسے مقابلوں سے دولت کمائی جہاں گالی گلوچ، تضحیک، خواتین کی تذلیل اور نازیبا حرکات کو تفریح بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن اس دولت اور شہرت کے پیچھے چھپے کاروباری ماڈل، اسے مالی مدد فراہم کرنے والے صارفین اور ان اسٹریمنگ ایپس کے کردار پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ مسٹر پتلو کی شادی کی مہندی کی تقریب میں قیمتی انعامات حاصل کرنے کی امید میں جمع ہونے والے ہجوم کے دوران بھگدڑ سے ایک شخص کی ہلاکت اور 17 افراد کے زخمی ہونے کا واقعہ بھی اسی سوشل میڈیا شہرت اور نمائش کے خطرناک پہلوؤں کو سامنے لاتا ہے۔ اصل تشویش صرف ایک ٹک ٹاکر کی دولت یا مقبولیت نہیں بلکہ یہ ہے کہ جب محنت، تعلیم اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے بجائے گالی گلوچ اور اخلاقی حدود پامال کرکے کروڑ پتی بننے والوں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جائے تو نئی نسل کس راستے کو کامیابی کا معیار سمجھے گی؟ اس کاروبار میں پیسہ کون لگاتا ہے، اسٹریمنگ ایپس کتنا کمیشن حاصل کرتی ہیں اور آخر یہ اخلاق باختہ ڈیجیٹل تفریح کس کی مالی سرپرستی میں پروان چڑھ رہی ہے؟
ڈسکہ، سیالکوٹ کے ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے محمد انصر عرف مسٹر پتلو کے بارے میں فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق وہ ماضی میں فیکٹریوں میں دیہاڑی پر بجری اٹھانے اور دیگر مزدوری کے کام کرتے تھے۔ انہوں نے رکشہ اور چنگ چی بھی چلایا، لیکن بعد ازاں روایتی محنت کے بجائے سوشل میڈیا کے ذریعے تیزی سے دولت کمانے کا راستہ اختیار کیا۔ ابتدا میں انہوں نے بیگو لائیو پر نشریات شروع کیں، تاہم مطلوبہ آمدنی حاصل نہ ہونے پر ٹک ٹاک لائیو کی طرف منتقل ہو گئے۔ یہاں ہونے والے مقابلوں میں گالی گلوچ، تضحیک اور متنازع حرکات کے ذریعے ناظرین کی توجہ حاصل کی جاتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ مسٹر پتلو بھی اس شعبے کے نمایاں ناموں میں شامل ہو گئے اور ان کی دولت اور شہرت کے چرچے ہونے لگے۔
ان کی شادی کی مہندی کی تقریب میں بھی یہی شہرت اور دولت کی نمائش ایک بڑے اجتماع کا سبب بنی۔ قیمتی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور نقد انعامات کی تقسیم کے اعلانات کے باعث بڑی تعداد میں لوگ وہاں پہنچے، مگر ہجوم کو منظم اور قابو کرنے کے مناسب انتظامات موجود نہیں تھے۔ نتیجتاً بھگدڑ مچ گئی، جس میں ایک شخص ہلاک اور 17 افراد زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ سوشل میڈیا پر شہرت اور سخاوت کی نمائش کرتے ہوئے عوامی تحفظ کی ذمہ داری کو کس حد تک ملحوظ رکھا گیا؟
عام صارف کے لیے ٹک ٹاک لائیو میچز محض دو افراد کا آن لائن مقابلہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن اس کے پیچھے ایک باقاعدہ ڈیجیٹل کاروباری نظام کام کرتا ہے۔ ٹک ٹاک، بیگو لائیو، ٹینگو اور دیگر اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر دو ٹک ٹاکرز عموماً چند منٹ کے مقابلے میں حصہ لیتے ہیں۔ اس دوران ان کے مداح ڈیجیٹل گفٹس بھیجتے ہیں اور ان گفٹس کی مالیت کے مطابق مقابلے کے پوائنٹس بڑھتے جاتے ہیں۔ مقررہ وقت ختم ہونے پر زیادہ پوائنٹس حاصل کرنے والا کامیاب قرار پاتا ہے۔
مسئلہ اس وقت سنگین ہو جاتا ہے جب زیادہ گفٹس حاصل کرنے کے لیے مقابلے کو گالی گلوچ، ذاتی حملوں اور نازیبا حرکات میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ بعض مقابلوں میں مرد اور خواتین ٹک ٹاکرز ایک دوسرے کی ذاتی زندگی، خاندان اور عزت کو نشانہ بناتے ہیں۔ شکست کھانے والے کو سزا دینے کے نام پر بھی تضحیک آمیز اور نامناسب مطالبات کیے جاتے ہیں، جنہیں ہزاروں ناظرین براہ راست دیکھتے ہیں۔
یہاں ناظرین محض تماشائی نہیں رہتے بلکہ مالی طور پر اس پورے نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہ اپنے کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ یا موبائل بیلنس کے ذریعے ڈیجیٹل سکے خریدتے ہیں اور اپنے پسندیدہ ٹک ٹاکرز کو مختلف مالیت کے گفٹس بھیجتے ہیں۔ بعض بڑے گفٹس کی قیمت لاکھوں روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ٹک ٹاک یونیورس جیسے مہنگے گفٹ کی قیمت تقریباً ڈیڑھ سے 2 لاکھ روپے تک بتائی جاتی ہے۔
یہ گفٹس متعلقہ پلیٹ فارم کے مقرر کردہ نظام کے تحت ورچوئل ڈائمنڈز میں تبدیل ہوتے ہیں، جنہیں ٹک ٹاکرز بعد ازاں قابلِ ادائیگی رقم میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ اس پورے عمل میں پلیٹ فارم بھی اپنا کمیشن وصول کرتا ہے، جبکہ باقی آمدنی تخلیق کاروں کو ملتی ہے۔
اس کاروباری ماڈل کا ایک اہم پہلو ناظرین کی نفسیات اور مقابلے کی شدت ہے۔ جب ایک ٹک ٹاکر دوسرے کو سرعام ذلیل کرتا ہے تو اس کے مداحوں کی انا اور جذبات متحرک ہوتے ہیں۔ وہ اپنے پسندیدہ ٹک ٹاکر کو مقابلے میں جتوانے یا مخالف کو شکست دینے کے لیے زیادہ سے زیادہ گفٹس بھیجتے ہیں۔
یوں تضحیک، اشتعال انگیزی اور ذاتی حملے زیادہ آمدنی حاصل کرنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ بعض لائیو مقابلوں میں خواتین کو نشانہ بنا کر انتہائی نامناسب زبان استعمال کی جاتی ہے، جبکہ شکست کی صورت میں انہیں ایسی سزائیں دی جاتی ہیں جو انسانی وقار اور اخلاقی حدود سے متصادم ہوتی ہیں۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے تجویز کردہ نظام پر بھی سوالات اٹھتے ہیں کہ آیا تنازعات، اشتعال انگیز مواد اور سنسنی خیز ویڈیوز کو زیادہ نمایاں ہونے سے ایسے رجحانات کو تقویت ملتی ہے۔ اگر ناظرین کی توجہ ہی آمدنی کا بنیادی ذریعہ بن جائے تو اخلاقی معیار کے بجائے زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کرنا ترجیح بن سکتا ہے۔
اس پورے نظام کا سب سے اہم سوال ان صارفین کے بارے میں ہے جو ہزاروں اور لاکھوں روپے خرچ کرکے ان مقابلوں کو مالی طور پر کامیاب بناتے ہیں۔ ان میں بعض افراد اپنے پسندیدہ ٹک ٹاکرز کی حمایت، بعض مقابلے میں کامیابی اور بعض محض تفریح یا ذاتی تعلق کے اظہار کے لیے مہنگے ڈیجیٹل گفٹس خریدتے ہیں۔
تاہم یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ یہ رقم کسی ایک ذریعے سے نہیں آتی۔ دنیا بھر میں موجود ہزاروں صارفین کی چھوٹی بڑی ادائیگیاں مل کر ٹک ٹاکرز اور متعلقہ پلیٹ فارمز کے لیے ایک بڑی مارکیٹ تشکیل دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لائیو اسٹارز چند گھنٹوں کی نشریات سے غیر معمولی آمدنی حاصل کرنے کے دعوے کرتے ہیں۔
مسٹر پتلو بھی مختلف یوٹیوب اور ٹی وی پروگراموں میں ٹک ٹاک لائیو سے ایک دن میں 24 کروڑ روپے تک کمانے کا دعویٰ کر چکے ہیں۔ اسی طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی تقریر کے دوران اپنی لائیو نشریات کے ناظرین کی تعداد ٹرمپ سے زیادہ ہونے کا دعویٰ بھی ان سے منسوب کیا جاتا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے اور انہیں مستند آمدنی یا ناظرین کے اعدادوشمار نہیں سمجھنا چاہیے۔
اس پورے معاملے کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ جب سوشل میڈیا پر دولت اور شہرت حاصل کرنے والے متنازع کرداروں کو مختلف ٹی وی پروگراموں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے تو نوجوانوں کے سامنے کامیابی کا ایک مختلف تصور ابھرتا ہے۔
پاکستان کی بڑی نوجوان آبادی کو تعلیم، ہنر، تحقیق، کاروبار اور پیشہ ورانہ مہارتوں کی طرف راغب کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر ایک طرف ڈاکٹر، انجینئر، استاد اور محقق برسوں کی محنت کے بعد اپنا مقام بناتے ہیں اور دوسری طرف گالی گلوچ اور تضحیک کے ذریعے شہرت حاصل کرنے والے افراد اپنی دولت کی نمائش کرتے نظر آتے ہیں تو نوجوانوں کے ذہنوں میں کامیابی کے پیمانے متاثر ہو سکتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق ریاست، میڈیا، تعلیمی اداروں اور والدین کو اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔ محض کسی سوشل میڈیا شخصیت کی دولت یا مقبولیت کو خبر اور تفریح کا موضوع بنانے کے بجائے اس کے مواد، سماجی اثرات اور نوجوانوں پر مرتب ہونے والے نتائج کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔
والدین اور اساتذہ کو بچوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں سے باخبر رہنا چاہیے اور انہیں یہ سمجھانا چاہیے کہ انٹرنیٹ پر دکھائی دینے والی دولت ہمیشہ قابلِ تقلید کامیابی کی علامت نہیں ہوتی۔ حلال کمائی، تعلیم، محنت اور باوقار پیشہ ورانہ زندگی کا مقام کسی بھی وقتی شہرت اور غیر اخلاقی شارٹ کٹ سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
مسٹر پتلو کا معاملہ صرف ایک سوشل میڈیا شخصیت کی دولت اور شادی کی تقریب تک محدود نہیں بلکہ یہ پاکستان میں تیزی سے پھیلتے ڈیجیٹل کلچر، آن لائن آمدنی کے ذرائع اور نوجوانوں کی اخلاقی تربیت سے جڑا ایک وسیع مسئلہ ہے۔ ایک طرف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کروڑوں روپے کی ورچوئل تجارت ہو رہی ہے، دوسری طرف اس تجارت کے بعض طریقوں میں انسانی عزت، تہذیب اور سماجی اقدار کو تفریح کا سامان بنایا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں حکومت اور متعلقہ اداروں کو ایسے مواد کی نگرانی، صارفین کے تحفظ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی جواب دہی کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہییں۔ ساتھ ہی مین اسٹریم میڈیا کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ وہ کن شخصیات کو شہرت اور سماجی قبولیت فراہم کر رہا ہے۔
آخرکار سوال یہی ہے کہ کیا پاکستان کی نئی نسل کو محنت، علم اور کردار کے ذریعے آگے بڑھنے کا راستہ دکھایا جائے گا یا راتوں رات دولت کمانے کے ایسے راستوں کو کامیابی بنا کر پیش کیا جاتا رہے گا، جہاں شہرت کی قیمت انسانی وقار اور اخلاقی اقدار کی صورت میں ادا کی جاتی ہے؟
