پاکستانی پاسپورٹ پر قطر کی فری ویزا سروس کے مزے کیسے اڑائیں؟

قطر نے پاکستانی شہریوں کے لیے ایک اہم سفری سہولت بحال کرتے ہوئے ویزا آن ارائیول یعنی قطر پہنچنے پر مفت سیاحتی ویزا جاری کرنے کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت پاکستانی شہری مخصوص شرائط پوری کرنے پر قطر پہنچ کر 30 روز تک قیام کے لیے مفت ویزا حاصل کر سکیں گے۔ یہ سہولت رواں سال مارچ میں معطل کر دی گئی تھی، جس کے بعد قطر جانے کے خواہش مند پاکستانیوں کو سفر سے پہلے ویزا حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ تاہم اب قطری وزارتِ داخلہ نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر پاکستانی شہریوں کو دوبارہ اس سہولت کے اہل ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔ بظاہر مفت ویزا کی یہ سہولت پاکستانی مسافروں کے لیے ایک بڑی آسانی ہے، لیکن اس کے حصول کے لیے پاسپورٹ، واپسی کے فضائی ٹکٹ، ہوٹل بکنگ اور ہیلتھ انشورنس سمیت متعدد شرائط پوری کرنا لازمی ہے۔ خاص طور پر ہوٹل کی بکنگ کے لیے قطر کے سرکاری پلیٹ فارم ’ڈسکور قطر‘ کا استعمال ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ایسے میں قطر جانے کا ارادہ رکھنے والے پاکستانیوں کے لیے یہ جاننا اہم ہے کہ مفت ویزا کیسے حاصل ہوگا، کتنے اخراجات برداشت کرنا ہوں گے اور دوحہ پہنچنے کے بعد امیگریشن کا طریقہ کار کیا ہوگا۔ مفت ویزا آن ارائیول کے لیے بنیادی شرائط کیا ہیں؟

قطر کی وزارتِ داخلہ کے ماتحت پاسپورٹس اور سرحدی امور کے محکمے کی ویب سائٹ کے مطابق پاکستانی، بھارتی اور تھائی شہری مخصوص شرائط پوری کرنے پر زیادہ سے زیادہ 30 روز کے لیے مفت سیاحتی ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔

اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستانی مسافروں کا پاسپورٹ کم از کم 3 ماہ کے لیے کارآمد ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ آمد و رفت کا تصدیق شدہ فضائی ٹکٹ، قطر میں ہوٹل کی بکنگ اور منظور شدہ ادارے سے حاصل کردہ ہیلتھ انشورنس لازمی قرار دی گئی ہے۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کی ہدایات کے مطابق ہوٹل کی بکنگ لازمی طور پر قطر کے سرکاری پلیٹ فارم ’ڈسکور قطر‘ کے ذریعے کرانا ہوگی۔ عام ہوٹل بکنگ یا کسی دوسرے آن لائن پلیٹ فارم سے حاصل کردہ ریزرویشن اس شرط کو پورا نہیں کرے گی۔ ایسے میں یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ قطر میں ہیلتھ انشورنس اور اس کی قیمت کتنی ہے؟

مفت ویزا ہونے کے باوجود مسافروں کو ہیلتھ انشورنس کے اخراجات برداشت کرنا ہوں گے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق کم از کم ایک ماہ کی ہیلتھ انشورنس حاصل کرنا ضروری ہے، جس کی قیمت 50 قطری ریال، یعنی تقریباً 3800 پاکستانی روپے بتائی گئی ہے۔پاکستانی وزارتِ خارجہ نے انشورنس کے لیے قطر انشورنس کمپنی (کیو آئی سی) اور کیو ایل ایم لائف اینڈ میڈیکل انشورنس کمپنی کو ترجیح دینے کی ہدایت کی ہے۔انشورنس مکمل ہونے کے بعد مسافر کے رجسٹرڈ ای میل پتے پر رسید اور انشورنس سرٹیفکیٹ بھیجا جائے گا۔ سفر کے دوران ان دونوں دستاویزات کو اپنے پاس رکھنا ضروری ہوگا تاکہ ضرورت پڑنے پر حکام کو دکھایا جا سکے۔

قطر پہنچنے پر پاکستانی مسافروں کو براہ راست امیگریشن کاؤنٹر پر جانے کے بجائے پہلے حمد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر موجود ’ڈسکور قطر‘ کے ڈیسک سے رجوع کرنا ہوگا۔وہاں مسافر کے پاسپورٹ، ہوٹل بکنگ، واپسی کے ٹکٹ اور دیگر متعلقہ دستاویزات کی تصدیق کی جائے گی۔ دستاویزات کی جانچ مکمل ہونے کے بعد ان پر ضروری مہر لگائی جائے گی، جس کے بعد مسافر امیگریشن کاؤنٹر پر جا سکیں گے۔امیگریشن کے مرحلے میں ویزا کارروائی کے علاوہ آنکھوں کی اسکیننگ اور بائیومیٹرک تصدیق بھی کی جائے گی۔ تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد مسافر کو قطر میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔

خیال رہے کہ قطر ماضی میں بھی پاکستانی شہریوں کو آمد پر مفت ویزا کی سہولت فراہم کرتا رہا ہے۔ مئی 2018 میں دوحہ میں پاکستانی سفارت خانے نے ویزا آن ارائیول کی نظرثانی شدہ پالیسی سے متعلق اعلان کیا تھا، جس کے تحت پاکستانی شہری 30 روز کا مفت ویزا حاصل کر سکتے تھے اور اسے مزید 30 روز کے لیے توسیع دینے کی سہولت بھی موجود تھی۔تاہم مارچ 2026 میں قطر میں پاکستانی سفارت خانے نے اعلان کیا تھا کہ موجودہ حالات کے باعث پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا آن ارائیول کی سہولت عارضی طور پر دستیاب نہیں رہی۔ سفارت خانے نے مسافروں کو کسی بھی پریشانی سے بچنے کے لیے قطر روانگی سے قبل ویزا حاصل کرنے کی ہدایت کی تھی۔اب قطری وزارتِ داخلہ کی ویب سائٹ پر پاکستانی شہریوں کو دوبارہ اہل ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے، جس سے اس سہولت کی بحالی کی تصدیق ہوتی ہے۔

مبصرین کے مطابق ویزا آن ارائیول کی بحالی سے پاکستانی شہریوں کے لیے قطر کا سفر نسبتاً آسان ہو سکتا ہے، تاہم مفت ویزا کا مطلب یہ نہیں کہ سفر مکمل طور پر بلااخراجات ہوگا۔ ہوٹل بکنگ، ہیلتھ انشورنس اور فضائی ٹکٹ سمیت تمام لازمی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔اس لیے قطر جانے والے پاکستانی شہریوں کو چاہیے کہ وہ روانگی سے پہلے اپنے پاسپورٹ کی مدت، ڈسکور قطر کے ذریعے ہوٹل بکنگ، تصدیق شدہ فضائی ٹکٹ اور ہیلتھ انشورنس کی دستاویزات مکمل کر لیں۔ اس طرح دوحہ ایئرپورٹ پر غیر ضروری پریشانی اور داخلے میں ممکنہ تاخیر سے بچا جا سکتا ہے۔

Back to top button