سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا میں خود گورنر راج کیسے لگوایا؟

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ سے صرف ایک روز قبل وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والی ایک اہم ملاقات نے پی ٹی آئی کی اندرونی اختلافات اور فیصلہ سازی کے بحران سے متعلق کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے مطابق انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو احتجاج ختم کرنے اور وفاق کے بدلتے تیوروں سے خبردار کرنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن وزیراعلیٰ نے ان کا مشورہ ماننے سے انکار کر دیا۔ بیرسٹر گوہر کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اس ملاقات میں خبردار کیا تھا کہ اگر احتجاج ختم نہ کیا گیا تو وزیراعلیٰ ہاؤس بھی ہاتھ سے جا سکتا ہے، مگر انہیں یقین تھا کہ وفاق گورنر راج نافذ نہیں کرے گا۔
بیرسٹر گوہر نے یہ واقعہ 29 اکتوبر کو پی ٹی آئی کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بیان کیا۔ ان کے مطابق 10 اکتوبر کی شام وزیراعلیٰ ہاؤس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ملاقات کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ وفاق خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کے معاملے پر سنجیدہ ہے اور حالات کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے احتجاج ختم کر دینا چاہیے۔ تاہم سہیل آفریدی اپنے مؤقف پر قائم رہے اور کہا کہ وفاق صرف دھمکیاں دے رہا ہے، وہ کسی صورت گورنر راج نافذ نہیں کرے گا۔
بیرسٹر گوہر کے مطابق ملاقات کے بعد بھی انہوں نے وزیراعلیٰ کو سمجھانے کی کوشش کی اور کہا کہ وفاق کے تیور بدل چکے ہیں، شاید یہ آخری موقع ہو۔ لیکن سہیل آفریدی نے اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کیا۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ اس ملاقات سے پہلے وہ اسپیکر بابر سلیم سواتی سے بھی ملے تھے اور انہیں جذباتی فیصلوں کے بجائے سیاسی تدبر سے کام لینے کا مشورہ دیا تھا۔ ان کے بقول اسپیکر ان کی بات سے اتفاق کرتے دکھائی دیے، مگر وزیراعلیٰ ان کا مشورہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سہیل آفریدی زیادہ تر اپنی کچن کیبنٹ سے مشاورت کرتے تھے، جس میں شفیع جان، شاہد خٹک اور مینا خان آفریدی شامل تھے۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق وزیراعلیٰ آخری وقت تک اس یقین میں رہے کہ وفاق گورنر راج نافذ کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔
بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس سے روانہ ہو کر جب وہ صوابی پہنچے تو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی کال موصول ہوئی۔ محسن نقوی نے ملاقات کے نتائج پوچھے تو بیرسٹر گوہر نے جواب دیا کہ وہ سہیل آفریدی کو قائل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے مطابق محسن نقوی نے کہا کہ وفاق نے پی ٹی آئی کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے تھے، بانی پی ٹی آئی تک کسی حد تک رسائی اور ان کے علاج معالجے کے لیے بھی عملی اقدامات کی کوشش کی جا رہی تھی، لیکن اب شاید مزید مطالبات ماننا ممکن نہیں ہوگا۔ اس گفتگو کے بعد محسن نقوی نے فون بند کر دیا۔
بیرسٹر گوہر کے بقول 10 اکتوبر تک وفاق پی ٹی آئی کے مطالبات تسلیم کرنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن 11 اکتوبر کے بعد حالات بدل گئے اور اب پارٹی خود وفاق سے مطالبات کر رہی ہے۔ انہوں نے اس صورتِ حال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنی بنی بنائی دو تہائی اکثریت سے بھی بڑی حکومت جذبات کی نذر کر دی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بیرسٹر گوہر کا یہ بیان پی ٹی آئی کے اندر فیصلہ سازی، قیادت کے باہمی رابطوں اور احتجاجی حکمتِ عملی پر اختلافات کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس واقعے سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ جب پارٹی کی مرکزی قیادت حالات کو سنگین قرار دے رہی تھی تو صوبائی حکومت نے اس انتباہ کو کیوں نظر انداز کیا؟
