خانہ بدوش ریشماں کی آواز پاکستان کی پہچان کیسے بنی؟

 

 

 

بلبلِ صحرا کے لقب سے مشہور معروف گلوکارہ ریشماں کو مداحوں سے بچھڑے کئی برس بیت گئے لیکن دہائیوں تک دنیائے موسیقی پر راج کرنے والی گلوکارہ کے گائے ہوئے گیت آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں۔

 

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ریشماں دراصل ایک خانہ بدوش خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کی پیدائش 1947 میں راجھستان کے شہر بیکانیر میں ہوئی۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا گھرانہ ہندوستان سے ہجرت کرکے کراچی آگیا۔ اس وقت ریشماں کی عمر صرف ایک ماہ تھی ان کے گھرانے کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جنہوں نے اسلام کو قبول کرکے اپنے آبائی ہندو مذہب کو چھوڑ دیا تھا۔ خانہ بدوش ہونے کے سبب ان کا گھرانہ ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتا رہتا تھا۔ ریشماں نے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ سندھ میں صوفی بزرگ لال شہباز قلندر کے مزار پر اپنے خاندان کے دوسرے افراد کے ساتھ صوفی کلام پڑھتے ہوئے گزارا۔ روائتی تعلیم سے محروم ریشماں منفرد آواز کی مالک تھیں جس کو ان کی روح کی خوبصورتی نے اور بھی متاثر کن کر دیا تھا۔

 

بارہ برس کی عمر میں ایک روز جب وہ لعل شہباز قلندر کے مزار پر لعل میری رکھیو گاتے ہوئے دھمال ڈال رہی تھیں تو ان کی آواز کی گہرائی نے ریڈیو پاکستان کے پروڈیوسر سلیم گیلانی کو اس حد تک متاثر کیا کہ انہوں نے اسی وقت انہیں ریڈیو پاکستان کے لیے گانے کی آفر کردی جس کو ریشماں نے قبول کرلیا۔

 

کلاسیکی موسیقی کی تعلیم سے نا آشنا ریشماں جب سر بکھیرتیں تو سننے والے سر دھننے پر مجبور ہو جاتے۔

ریڈیو پاکستان سے ریشماں پاکستان ٹیلی وژن کی جانب آئی اور پھر انہوں نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ دھیرے دھیرے ریشماں پاکستان کی مقبول ترین فوک سنگر بن گئیں۔ انہوں نے پاکستانی فلموں کےلیے بھی متعدد گیت گائے۔

جس طرح پرندوں کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ہے اسی طرح ریشماں کی آواز بھی ایک ایسا ہی آزاد پرندہ تھی جس نے سرحد پار کے لوگوں کے دلوں کو بھی مسحور کر دیا اور انڈیا کے معروف ڈائریکٹر اور پروڈیوسر سبھاش گھئی نے انہیں اپنی فلم ہیرو کےلیے ایک گانا گانے کی آفر کی۔ اس فلم کا گانا چار دناں دا پیار او ربّا، بڑی  لمبی جدائی، اپنے وقت کا سپر ہٹ نغمہ ثابت ہوا اور ریشماں راتوں رات پاکستانی گلوکارہ سے بین الاقوامی گلوکارہ بن بیٹھیں جن کی شہرت پوری دنیا میں پھیلنے لگی۔

 

1983ء کی اس بھارتی فلم کو آج بھی ریشماں کے اس گانے کی وجہ سے ہی جانا جاتا ہے۔ لمبی جدائی کے بارے میں ریشماں کا یہ کہنا تھا کہ ان کو اسٹوڈیو جاتے ہوئے خوف آتا تھا اس لیے انہوں نے سبھاش گھئی سے کہا کہ وہ اسٹوڈیو جا کر گانا ریکارڈ نہیں کروائيں گی۔ اس وجہ سے یہ گانا دلیپ کمار کے گھر پر ریکارڈ کروایا گیا۔ ان کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ان کو ہندوستان کے گجرال سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو غرض ہر دور کے سربراہان مملکت نے نہ صرف پسند کیا بلکہ قیمتی تحائف سے بھی نوازا یہاں تک کہ ہندوستانی حکام نے انہیں ہندوستان کی شہریت کی بھی آفر کی جس کو انہوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔

 

ریشماں کے مقبول گیتوں میں’سُن چرخے دی مِٹھی مِٹھی کُوک ماہیا مینوں یاد آؤندا‘، ’وے میں چوری چوری‘، ’دما دم مست قلندر‘، ’انکھیاں نوں رین دے انکھیاں دے کول کول‘ اور ’ہائے ربا نیئوں لگدا دِل میرا‘ شامل ہیں۔ ریشماں نے کئی عشروں تک لوک موسیقی میں اپنی آواز کا جادو جگایا اور اردو کے علاوہ پشتو، سندھی اور راجستھانی زبانوں میں گیت گائے، حکومت پاکستان کی جانب سے ریشماں کو اُن کی خدمات کے اعتراف میں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ پھر اس عظیم گلوکارہ کا برا وقت شروع ہوا اور ریشماں گلے کے کینسر میں مبتلا ہو گئیں۔ کینسر میں مبتلا ہونے کے باعث جب ڈاکٹروں نے انہیں گانا گانے سے منع کیا تو ریشماں نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ ان کا یہ ماننا تھا کہ گانا ان کی زندگی ہے اور زندگی کی آخری سانس تک جب تک ان کی سانس چل رہی ہے وہ اپنی آواز کو گانے کے لیے استعمال کرتی رہیں گی۔ 3 نومبر 2013 کو لاہور کے ایک نجی اسپتال میں کینسر کے عارضے کے سبب وہ ہم سے جدا ہو گئيں مگر ان کی آواز آج بھی کانوں میں رس گھولتی ہے اور ان کی یاد دلاتی ہے۔

Back to top button