ایران جنگ اور مہنگائی نے ٹرمپ کی لٹیا کیسے ڈبوئی؟

امریکی مڈ ٹرم الیکشن میں صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کی شکست کی چھ بڑی وجوہات سامنے آ گئی ہیں، جن میں بنیادی وجہ ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ جنگ کے خلاف عوامی ناراضی، ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت، ڈیموکریٹس کی منظم انتخابی مہم، سیاہ فام ووٹرز کی ریپبلکن پارٹی سے دوری اور امیگریشن پالیسیوں پر عوامی تحفظات بھی ریپبلکنز کی شکست کی وجہ بنے۔
یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فروری میں ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد تہران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کر دیا، جس سے عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل متاثر ہوئی اور ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ امریکی شہریوں کو بھی پیٹرول پمپوں پر اس کے اثرات برداشت کرنا پڑے، جبکہ مہنگائی نے روزمرہ زندگی کے اخراجات بڑھا دیے۔ ستمبر تک کے ایک سال کے دوران امریکہ میں قیمتوں میں 3.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ ایندھن اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں تھیں۔
امریکی ووٹرز کے ایک سروے کے مطابق 80 فیصد افراد نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران مہنگائی نے انہیں اور ان کے خاندانوں کو شدید یا درمیانے درجے کی مشکلات سے دوچار کیا، جبکہ 60 فیصد سے زائد ووٹرز نے غیر معمولی مہنگائی کا ذمہ دار صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو قرار دیا۔ اکتوبر کے آغاز میں امریکہ میں ڈیزل کی اوسط خوردہ قیمت تقریباً 6.52 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی تھی۔ ایران کے خلاف جنگ بھی امریکی عوام میں غیر مقبول ثابت ہوئی اور ایک سروے میں 63 فیصد افراد نے کہا کہ امریکہ کا ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ غلط تھا، جبکہ 74 فیصد ووٹرز نے اس تنازع کو کانگریس کے انتخاب میں اپنے ووٹ کے فیصلے کا اہم عنصر قرار دیا۔
ریپبلکن پارٹی کی شکست کی ایک اور بڑی وجہ صدر ٹرمپ کی گرتی ہوئی عوامی مقبولیت بھی بنی، کیونکہ مہنگائی اور ایران کے ساتھ جنگ دونوں معاملات براہ راست ان کی پالیسیوں سے جوڑے جا رہے تھے۔ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران اپنے حامیوں کو متحرک کرنے کے لیے ووٹرز سے کہا تھا کہ وہ تصور کریں کہ جیسے ان کا نام بھی بیلٹ پیپر پر موجود ہے، تاہم ان کی یہ حکمت عملی الٹا اثر کرتی دکھائی دی۔ 2024 میں ٹرمپ کی حمایت کرنے والی بعض ریاستوں میں بھی ریپبلکن امیدواروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ واشنگٹن میں اپنی آخری انتخابی تقریر کے دوران بھی ٹرمپ نے عوامی مہنگائی کے بجائے وائٹ ہاؤس کے پول کی تزئین و آرائش کے منصوبے پر زیادہ بات کی۔
ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی میں اس کے امیدواروں کی منظم انتخابی مہم اور عوام کے بنیادی مسائل پر واضح توجہ نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ڈیموکریٹس نے مہنگائی، روزمرہ اخراجات اور صحت کی سہولتوں تک رسائی کو اپنی انتخابی مہم کا مرکزی موضوع بنایا اور ایسے امیدوار میدان میں اتارے جو روایتی طور پر ریپبلکنز کے مضبوط سمجھے جانے والے علاقوں میں بھی ووٹرز کو متاثر کرنے میں کامیاب رہے۔
ریپبلکن پارٹی کی شکست کا پانچواں بڑا سبب ہسپانوی اور سیاہ فام ووٹرز کا دوبارہ ڈیموکریٹس کی جانب جھکاؤ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ 2024 کے صدارتی انتخابات میں ان دونوں آبادیاتی گروہوں کے بعض حلقوں میں ٹرمپ کی حمایت میں اضافہ ہوا تھا، جس سے انہیں کامیابی حاصل کرنے میں مدد ملی، تاہم اس بار یہ رجحان تبدیل ہوتا دکھائی دیا۔ ڈیموکریٹس نے ٹیکساس اور میکسیکو کی سرحد کے ساتھ واقع ہسپانوی اکثریتی اضلاع میں ایوان نمائندگان کی تینوں نشستیں جیت لیں، جبکہ 2024 کے صدارتی انتخابات کے مقابلے میں ہسپانوی اکثریتی اضلاع میں ریپبلکن سینیٹ امیدواروں کی حمایت میں 22 فیصد پوائنٹس سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔
ایران کی معاونت ، بھارتی اور ترک کمپنیوں پر امریکی پابندیاں عائد
اس تبدیلی کی ایک اہم وجہ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں اور امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی ناراضی بھی تھی۔ سروے کے مطابق امریکہ میں 56 فیصد شہریوں نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے بارے میں منفی رائے کا اظہار کیا، جبکہ سیاہ فام اکثریتی اضلاع میں بھی سینیٹ کے الیکشن کے دوران ڈیموکریٹ امیدواروں کی حمایت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ مسیسیپی میں سینیٹ کی دوڑ بھی انتہائی سخت مقابلے میں تبدیل ہو گئی، جہاں سیاہ فام آبادی کا تناسب تقریباً 37 فیصد ہے۔
خود صدر ٹرمپ نے بھی انتخابی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ ڈیموکریٹس نے اچھی انتخابی مہم چلائی، جبکہ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایران جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو امریکی عوام نے پسند نہیں کیا۔

One Comment