کیا چوہدری سالک کو بھائی لوگوں کی حمایت حاصل ہے

 

 

 

وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کی جانب سے مریم نواز کی حکومت پر عائد کردہ کرپشن الزامات واپس لینے کی بجائے ان پر ڈٹے رہنے کے اعلان کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا انہیں اس معاملے میں بھائی لوگوں کی حمایت حاصل ہے؟ چوہدری سالک نے پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مریم نواز کی جانب سے ہرجانے کا نوٹس نہیں ملا لیکن وہ اس نوٹس کا بھرپور جواب دیں گے چونکہ مریم چند روز پہلے خود تسلیم کر چکی ہیں کہ پنجاب میں کرپشن ہو رہی ہے۔

 

اس تنازع نے دونوں اتحادی جماعتوں کے تعلقات خراب کرنے کے ساتھ ساتھ چوہدری شجاعت حسین کے لیے بھی نئی سیاسی مشکل پیدا کر دی ہے۔ مریم نواز کی جانب سے چوہدری سالک حسین کو 5 ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوائے جانے کے بعد دونوں جماعتوں کے تعلقات ایک نئے امتحان سے دوچار ہیں۔ بظاہر یہ تنازع پنجاب حکومت پر کرپشن کے الزامات اور ان کے جواب میں قانونی کارروائی سے شروع ہوا، تاہم اس کے پس منظر میں انتظامی تقرریوں، سیاسی سفارشات اور دونوں جماعتوں کے درمیان پہلے سے موجود تحفظات کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

 

یاد رہے کہ چوہدری سالک حسین وفاقی وزیر ہونے کے ساتھ مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کے صاحبزادے بھی ہیں، جبکہ ان کے بھائی چوہدری شافع حسین پنجاب کابینہ کا حصہ ہیں۔ مریم نواز نے ایک نجی ٹی وی انٹرویو میں پنجاب میں کرپشن کی کہانیوں اور فائلوں کا ذکر کرنے پر سالک حسین کو 5 ارب روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوایا ہے۔ وزیراعلیٰ کے وکیل کے مطابق سالک حسین اپنے الزامات کے حق میں کوئی مستند ثبوت پیش نہیں کر سکے۔ قانونی نوٹس میں ان کے الزامات کو بے بنیاد، غیر مصدقہ اور ہتک آمیز قرار دیتے ہوئے پروگرام کے میزبان اور چینل انتظامیہ کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

 

تاہم قانونی نوٹس کے باوجود چوہدری سالک حسین کی جانب سے اپنے الزامات پر قائم رہنے کے اعلان نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ایک اتحادی جماعت سے تعلق رکھنے والا وفاقی وزیر اپنی حکومت کی اتحادی وزیراعلیٰ کے خلاف اس قدر سخت مؤقف کسی سیاسی پشت پناہی کے بغیر اختیار کر سکتا ہے؟ اسی تناظر میں یہ قیاس آرائیاں بھی ہو رہی ہیں کہ آیا سالک کو اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد حاصل ہے یا وہ اپنی جماعت کے سیاسی مفادات کے تحت مریم نواز کو چیلنج کر رہے ہیں۔

 

اس تنازع کے پس منظر میں گجرات کے ڈپٹی کمشنر کی تبدیلی کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چوہدری سالک حسین اس انتظامی فیصلے پر ناراض تھے اور ان کی ایک سفارش پر عمل نہ ہونا دونوں جانب کشیدگی کی ممکنہ وجہ ہے۔ لیکن سالک نے وضاحت کی ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ بظاہر مریم نواز اس معاملے کو محض سیاسی بیان بازی تک محدود رکھنے کے بجائے قانونی سطح پر آگے بڑھانا چاہتی ہیں تاکہ ان کی حکومت پر لگائے گئے الزامات کا جواب دیا جا سکے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر کسی وفاقی وزیر کے پاس کرپشن کے شواہد موجود ہیں تو انہیں منظر عام پر لانا چاہیے۔

 

دوسری جانب چوہدری سالک حسین کی جانب سے اپنے ماموں پرویز الٰہی کی سابقہ پنجاب حکومت کو موجودہ حکومت سے بہتر قرار دینے کے بیان کو بھی سیاسی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس بیان کو چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی کے درمیان پہلے سے موجود سیاسی اختلافات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ دونوں خاندانوں کے درمیان قریبی رشتہ داری کے باوجود سیاسی معاملات پر ان کے راستے کئی مواقع پر جدا رہے ہیں، اس لیے سالک حسین کا یہ بیان مسلم لیگ (ق) کے اندرونی معاملات کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

جانشینوں کی لڑائی:کیا پنجاب میں سیاسی صف بندی بدلنے والی ہے؟

تجزیہ کاروں کے مطابق چوہدری شجاعت حسین اور نواز شریف کے درمیان طویل عرصے سے احترام اور سیاسی وضع داری کا تعلق رہا ہے اور ماضی میں اختلافات کے باوجود دونوں رہنماؤں کے رابطے برقرار رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ان دونوں بزرگ رہنماؤں کا کردار اہم ہو سکتا ہے، کیونکہ چوہدری شافع حسین بدستور پنجاب کابینہ کا حصہ ہیں اور ان کے بھائی کی مریم نواز کے ساتھ محاذ آرائی مسلم لیگ (ق) کی حکومتی شراکت داری کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ تاہم فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ معاملہ وزرا کے استعفوں یا مسلم لیگ (ق) کی حکومتی اتحاد سے علیحدگی تک پہنچے گا۔

 

اب دیکھنا یہ ہے کہ چوہدری سالک حسین اپنے الزامات کے حق میں شواہد سامنے لا کر مریم نواز کی قانونی کارروائی کا سامنا کرتے ہیں یا یہ تنازع مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے درمیان سیاسی فاصلے مزید بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔ بالخصوص اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنے کے اعلان کے بعد اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے متعلق قیاس آرائیوں نے اس تنازع کو ایک نیا سیاسی رخ دے دیا ہے، جبکہ اس کا حتمی انجام شجاعت حسین کے کردار اور دونوں جماعتوں کی آئندہ پالیسی پر منحصر ہوگا۔

Back to top button