بی ایل اے چیف کو ہٹانے کے بعد زہر دیے جانے کی اطلاع

 

 

 

 

کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے سربراہ بشیر زیب کو قیادت سے ہٹائے جانے کے بعد اب یہ اطلاع آئی ہے کہ انہیں تنظیم کے اندر سے ہی کسی قریبی ساتھی نے زہر دے دیا تھا، جس کے بعد ان کی حالت تشویش ناک ہوگئی اور انہیں افغانستان کے شہر قندھار سے علاج کے لیے بھارت منتقل کر دیا گیا، جبکہ بعض اطلاعات میں ان کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق بشیر زیب کو قیادت سے ہٹانے کا اعلان ممکنہ طور پر ان کی ہلاکت کے باعث کیا گیا، تاہم اس اطلاع کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

 

اس دوران بی ایل اے کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سینئر کمانڈ کونسل کے فیصلے اور تنظیمی آئین کے مطابق بشیر زیب اب بی ایل اے کے سربراہ کی حیثیت سے کام نہیں کریں گے، جبکہ نئے سربراہ کے نام کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ بشیر زیب گزشتہ کئی برس سے بی ایل اے کی قیادت کر رہے تھے اور ان کے دور میں بی ایل اے کی مسلح کارروائیوں، بالخصوص خودکش حملوں میں شدت آئی۔ تاہم ان کی قیادت کے آخری عرصے میں تنظیم کے اندر مالی معاملات، حکمت عملی اور اختیارات کی تقسیم پر اختلافات بڑھنے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔

 

ذرائع کے مطابق بشیر زیب اور تنظیم کے دیگر اہم رہنماؤں کے درمیان اختلافات کی ایک بڑی وجہ مالی بے ضابطگیاں اور تنظیمی فنڈز کے استعمال پر تنازعات تھے۔ بشیر زیب کے بعض قریبی ساتھیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے تنظیم کے لاکھوں ڈالرز یورپ کے شہروں سٹاک ہوم اور پیرس منتقل کیے، جس کے باعث قیادت کے خلاف بداعتمادی پیدا ہوئی۔ اسکے علاوہ بلوچ خواتین کو بطور فدائین خودکش حملوں میں استعمال کرنے پر بھی اختلافات پائے جاتے ہیں۔

 

بی ایل اے کے اندر اختلافات کی ایک اور وجہ نام نہاد آپریشن ہیروف 3‘ کی ناکامی کو بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ آپریشن ہیروف ون اور ٹو کے تحت بی ایل اے نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بیک وقت حملے کیے تھے جن میں شاہراہوں، سکیورٹی تنصیبات اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کے مطابق آپریشن ہیروف تھری کے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے پر بی ایل اے کے ایک بڑے دھڑے میں شدید مایوسی اور غصہ پایا جاتا ہے، بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ’را‘ کی مالی معاونت کے باوجود کارروائی کی ناکامی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

 

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق بشیر زیب کو زہر دینے کی بنیادی وجہ تنظیمی دھڑے بندی ہے اور رحمان گل گروپ کو اس واردات کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ بشیر زیب کا تعلق بلوچستان کے ضلع نوشکی کے علاقے احمدوال سے ہے اور وہ محمد حسنی قبیلے سے وابستہ ہیں۔ ان کے والد محکمہ صحت میں ملازم رہے ہیں۔ بشیر زیب نے ابتدائی تعلیم نوشکی سے حاصل کی، کوئٹہ ڈگری کالج سریاب روڈ سے ہائر سیکنڈری تعلیم مکمل کی اور بعد ازاں پولی ٹیکنک کالج کوئٹہ سے مکینیکل انجینئرنگ میں ڈپلومہ حاصل کیا۔ انہوں نے بلوچستان یونیورسٹی میں بلوچ ادب میں ماسٹرز کے لیے داخلہ بھی لیا، تاہم دوران تعلیم انکے یونیورسٹی داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ ان کی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز طلبہ سیاست سے ہوا، جہاں وہ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد سے وابستہ ہوئے اور 2006 سے 2012 تک اس کے چیئرمین رہے۔

 

بشیر زیب نے 2018 میں طلبہ سیاست کو خیرباد کہہ کر بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی۔ اس سے قبل وہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے نظریات سے متاثر تھے اور بلوچ لبریشن فرنٹ میں شمولیت کے خواہش مند بھی رہے، تاہم یہ خواہش پوری نہ ہونے پر انہوں نے بی ایل اے کا رخ کیا۔ تنظیم میں ان کے آنے سے پہلے نوابزادہ بالاچ مری نمایاں قیادت کے طور پر سامنے آئے تھے، جن کی نومبر 2007 میں افغانستان کی سرحد کے قریب ایک جھڑپ میں ہلاکت ہو گئی تھی۔ اس کے بعد اسلم بلوچ عرف استاد اسلم اچھو بی ایل اے کے مرکزی کمانڈر بنے، تاہم دسمبر 2017 میں تنظیمی اصولوں کی خلاف ورزی کے الزامات کے بعد اسلم بلوچ اور بشیر زیب کو بی ایل اے سے نکال دیا گیا، چنانچہ ان دونوں نے الگ دھڑا قائم کیا۔ اسلم بلوچ اس گروہ کے سربراہ بنے، لیکن 2018 میں افغانستان میں ایک خودکش حملے میں ان کی ہلاکت کے بعد بشیر زیب نے بی ایل اے کی قیادت سنبھال لی۔

 

بشیر زیب کی قیادت میں بی ایل اے نے اپنے تنظیمی ڈھانچے اور کارروائیوں کی حکمت عملی میں بھی بڑی تبدیلیاں کیں۔ نومبر 2018 میں بی ایل اے، بلوچ لبریشن فرنٹ اور بلوچ ریپبلکن گارڈز سمیت مختلف مسلح تنظیموں نے براس کے نام سے بلوچ اتحاد قائم کیا، جس میں بعد ازاں سندھودیش ریولوشنری آرمی بھی شامل ہوئی۔ بی ایل اے نے خودکش حملوں کے لیے مجید بریگیڈ، جبکہ ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کی کارروائیوں کے لیے الگ سکواڈز بنا رکھے تھے۔ اسکے علاوہ بی ایل اے کے انٹیلی جنس اور میڈیا ونگز بھی قائم کیے گئے۔ بشیر زیب کو نومبر 2018 میں کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے سمیت متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں کے مقدمات میں پاکستان کو مطلوب قرار دیا جاتا ہے۔ ان پر کراچی سٹاک ایکسچینج، کراچی یونیورسٹی میں چینی اساتذہ اور کراچی ایئرپورٹ کے قریب چینی انجینئرز کے قافلے کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کے الزامات بھی ہیں، جبکہ کراچی ایئرپورٹ حملے کے مقدمے میں عدالت انہیں مفرور قرار دے چکی ہے۔

 

اب بشیر زیب کو قیادت سے ہٹائے جانے اور انہیں زہر دیے جانے کی اطلاعات نے تنظیم کے اندر جاری اختلافات کو ایک نئی جہت دے دی ہے۔ اگر بشیر زیب کی موت کی اطلاع درست ثابت ہوتی ہے تو بی ایل اے کو اندرونی دھڑوں کے درمیان اختیارات کی نئی کشمکش کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Back to top button