ون کانسٹیٹیوشن ایونیو پر محسن نقوی کا دھوبی پٹرا

اسلام آباد کی ون کانسٹیٹیوشن ایونیو بلڈنگ کو غیر قانونی قرار دینے کا وزیر داخلہ محسن نقوی کا مؤقف درست ثابت ہوگیا ہے اور وزیر اعظم کی جانب سے ججز، جرنیلوں اور سیاست دانوں کے دباؤ کے بعد قائم کی گئی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے بھی منصوبے کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے جے آئی ٹی کی سفارشات منظور کرتے ہوئے عمارت خالی کرا کے اسے دوبارہ اصل منصوبے کے مطابق فائیو سٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ متاثرہ اپارٹمنٹ مالکان کو معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اس سکینڈل میں ملوث سابق وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور دیگر با اثر سرمایہ کاروں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا بنیادی تنازع یہ تھا کہ اسلام آباد کے ریڈ زون میں فائیو سٹار ہوٹل کی تعمیر کے لیے مختص سرکاری اراضی پر ہوٹل بنانے کے بجائے سینکڑوں رہائشی اپارٹمنٹس تعمیر کرکے فروخت کر دیئےگئے تھے۔ اس منصوبے کے ڈویلپر سابق وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ تھے، جبکہ اس میں سرمایہ کاری کرنے والوں اور اپارٹمنٹس خریدنے والوں میں با اثر سیاست دان، اعلیٰ سرکاری افسران اور ریٹائرڈ جج بھی شامل تھے۔ اس بلڈنگ میں سستے ریٹس پر اپارٹمنٹس خریدنے والے با اثر ججز جرنیلوں اور سیاست دانوں کی جانب سے عمارت کو بچانے، سی ڈی اے کی کارروائی رکوانے اور اس بلڈنگ کو قانونی تحفظ دلانے کے لیے مختلف سطحوں پر اثر و رسوخ استعمال کرنے کی کوششیں ہوتی رہیں۔
اس دوران جب وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر قیادت سی ڈی اے نے عدالتی فیصلوں کی روشنی میں عمارت خالی کرانے اور قبضہ واپس لینے کی کارروائی شروع کی تو باثر افراد کی جانب سے مداخلت کے ذریعے یہ عمل رکوا دیا گیا، اس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے یکم مئی 2026ء کو اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کردی۔ تاہم اب جے آئی ٹی نے اس منصوبے کی قانونی حیثیت کے حوالے سے تمام ابہام دور کر دیے ہیں اور اس بلڈنگ کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ یاد رہے کہ عدالت نے اس بلڈنگ کو پہلے ہی غیر قانونی قرار دے دیا تھا جس کے بعد اسے خالی کروانے کی کوشش کی گئی لیکن وزیراعظم نے یہ عمل رکوا کر کمیٹی قائم کر دی تھی۔
اب وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو بلڈنگ کا قانونی قبضہ باضابطہ طور پر کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو منتقل ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس اراضی پر یہ عمارت تعمیر کی گئی تھی، وہ دراصل فائیو سٹار ہوٹل کے لیے مختص کی گئی تھی، چنانچہ اب اسے دوبارہ اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا اور سی ڈی اے کسی معروف بین الاقوامی ہوٹل چین کے ساتھ معاہدہ کرکے آنے والے مہینوں میں اسے فائیو سٹار ہوٹل میں تبدیل کرے گا۔
اس سے پہلے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ایک الگ پریس کانفرنس میں بتایا کہ وفاقی کابینہ نے جے آئی ٹی کی تحقیقات اور سفارشات منظور کرلی ہیں، جن میں منصوبے میں بے ضابطگیوں کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پراجیکٹ کے ڈویلپر عبدالحفیظ شیخ اور ان کی کمپنی کو مستقبل کے سرکاری منصوبوں کے لیے بلیک لسٹ کرنے اور متاثرہ سرمایہ کاروں کو معاوضہ دینے کی سفارش شامل ہے۔ ان کے مطابق تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ منصوبے کی نیلامی اور منظوری کے عمل میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں کی گئیں، بولی کے عمل میں ردوبدل کیا گیا، مخصوص مفادات کو فائدہ پہنچانے کے لیے قواعد میں نرمی کی گئی اور میرٹ پر پورا نہ اترنے والی کمپنی کو زمین کی لیز دے دی گئی۔
احسن اقبال کے مطابق جے آئی ٹی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ڈویلپر کو فائدہ پہنچانے کے لیے بینک گارنٹی کی لازمی شرط ختم کردی گئی تھی، جبکہ سی ڈی اے کے افسران نہ صرف اپنے فرائض کی ادائیگی میں غفلت کے مرتکب ہوئے بلکہ ان بے ضابطگیوں میں بھی شریک رہے۔ جے آئی ٹی نے سابق وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو اس پورے منصوبے کا مرکزی کردار قرار دیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے سی ڈی اے کے افسران کے ساتھ ملی بھگت کرکے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی۔
رپورٹ میں سابق چیئرمین سی ڈی اے کامران لاشاری، ڈاکٹر فیصل اعوان، اظہر علی چوہدری، ریٹائرڈ بریگیڈیئر نصراللہ اور مرحوم رائے نواز کھرل کے نام بھی سکینڈل میں ملوث افراد کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے ڈیویلپر اور سابق وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور ان کی کمپنی کو مستقبل کے سرکاری منصوبوں میں بلیک لسٹ کرنے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی سفارش کی ہے۔ نیب کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ منصوبے میں ملوث تمام افراد، خصوصاً ان سرکاری افسران کے خلاف جامع تحقیقات کرے جن کے دستخط متعلقہ دستاویزات پر موجود ہیں۔ جے آئی ٹی نے ون کنسٹی ٹیوشن ایونیو کا نام تبدیل کرنے کی بھی سفارش کی ہے، کیونکہ اس کے مطابق یہ نام دھوکہ دہی کے ذریعے حاصل کیا گیا اور سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
یاد ریے کہ ون کنسٹی ٹیوشن ایونیو کا تنازع تب شروع ہوا تھا جب سی ڈی اے نے 2004ء اور 2005ء میں اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع تقریباً ساڑھے 13 ایکڑ اراضی فائیو سٹار ہوٹل کی تعمیر کے لیے تقریباً 4 ارب 80 کروڑ روپے میں نیلام کی تھی۔ تاہم ڈویلپر نے معاہدے کے مطابق ادائیگیاں مکمل کرنے اور ہوٹل تعمیر کرنے کے بجائے وہاں تقریباً 250 رہائشی اپارٹمنٹس تعمیر کرکے فروخت کردیے، جن کے خریداروں میں سیاست دان، بیوروکریٹس اور ریٹائرڈ جج بھی شامل تھے۔ سی ڈی اے نے واجبات کی عدم ادائیگی اور لیز کی خلاف ورزیوں پر 2016ء میں الاٹمنٹ منسوخ کردی تھی، جسے اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔
بعد ازاں 2019ء میں سپریم کورٹ نے ڈویلپر کو تقریباً 17 ارب 50 کروڑ روپے آٹھ سال میں اقساط کے ذریعے ادا کرنے کی ہدایت کی تاکہ منصوبے کو ریگولرائز کرنے کی گنجائش پیدا ہوسکے، تاہم کمپنی اس رقم میں سے صرف 2 ارب 90 کروڑ روپے ہی جمع کراسکی۔ اس کے بعد سی ڈی اے نے دوبارہ عمارت کا قبضہ حاصل کرنے اور اسے خالی کرانے کی کارروائی شروع کی تو وزیر اعظم شہباز شریف نے مداخلت کرتے ہوئے یکم مئی 2026ء کو کارروائی رکوا دی اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کردی۔ کمیٹی کو معاملے کے تمام قانونی اور انتظامی پہلوؤں، اپارٹمنٹ خریداروں کے حقوق اور سرکاری واجبات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی تھی، جس کے بعد مزید تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی گئی۔ اب وفاقی کابینہ کی جانب سے اس کی رپورٹ منظور ہونے کے بعد عمارت کا کنٹرول سی ڈی اے کو منتقل کردیا گیا ہے اور اسے دوبارہ فائیو سٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
