بربریت،سکردو سے ملتان تک

تحریر: رؤف کلاسرا
بشکریہ: روزنامہ دنیا
حیرانی ہوتی ہے کہ ہم انسان کیوں نہیں بدلتے اور کیوں سب کچھ دہراتے رہتے ہیں۔ یہ کسی ایک انسان کی بات نہیں ہو رہی‘ نہ ہی صرف آج کے انسانوں کے بارے میں یہ جملہ کہہ رہا ہوں۔ میں ہزاروں سال پہلے کے انسانوں کے بارے میں بھی یہی رائے رکھتا ہوں جو آج کے انسان کے بارے میں ہے کہ انسانی مزاج‘ طبیعت اور فطرت نہیں بدلتی اور وہ سب کچھ فطرت کے زیرِ اثر دہراتا رہتا ہے۔ مجھے قابلِ احترام لکھاری ہارون الرشید کے کالم کی بات یاد آتی ہے جو وہ قرآن پاک سے اخذ کرتے تھے کہ انسان اپنی افتادِ طبع پر زندگی گزارتا ہے۔ مطلب یہ کہ انسان اپنی پیدائشی فطرت کے خلاف نہیں جاتا۔ جو فطرت اس کے اندر قدرت نے ڈال دی ہے‘ وہ اب اس کا قیدی ہے‘ اور رہے گا۔
جب جدید دور میں اس تھیوری پر آپ کچھ کچھ یقین کرنے لگتے ہیں کہ انسانی فطرت کو اپنے قابو میں لایا جا سکتا ہے تو عین اسی وقت سکردو میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ ہوتا ہے کہ نوجوان میاں بیوی کو ان کے دو چھوٹے چھوٹے بچوں سمیت گھر میں ذبح کر دیا جاتا ہے اور یہ ظلم کرنے والے لڑکی کے اپنے گھر والے ہیں۔ وجہ یہ تھی کہ لڑکی نے چند سال قبل اپنی مرضی سے شادی کر لی تھی‘ جس سے اب اس کے دو بچے بھی ہو چکے تھے۔ گھر والے شادی پر راضی نہ تھے اور انتظار کرتے رہے کہ کب موقع ملے کہ وہ اپنی بچی اور اس کے خاوند کو بچوں سمیت قتل کردیں۔ اب ذرا تصور کریں کہ ماں کے سامنے اس کے دو بچے ذبح کیے گئے‘ پھر ماں کو ذبح کیا گیا اور پھر خاوند گھر آیا تو اسے بھی ذبح کر دیا گیا۔ پھر کہتا ہوں کہ ذبح کرنے والے غیر نہیں‘ لڑکی کے بھائی اور عزیز تھے۔ اس سے بڑی بربریت کیا ہو سکتی ہے جو دکھائی گئی کہ انسان کی فطرت اس سے کیا کیا گھناؤنے کام کرا دیتی ہے۔
ابھی میں سکردو والے واقعے پر افسردہ بلکہ پریشان تھا کہ اب ملتان سے خبر آئی ہے کہ وہاں ایک نوجوان نے اپنی ماں اور دو چھوٹی بہنوں کو پٹرول چھڑک کر جلا دیا۔ اس ہولناک واقعے کی تفصیلات کیلئے ملتان میں اپنے صحافی دوست شکیل انجم کو فون کیا تو دل مزید دکھی ہوا کہ انسان کیسے ایک لمحے میں حیوان بن جاتے ہیں۔ جب انسانی سفاکی کی یہ کہانیاں سنتا ہوں تو مجھے ڈارون کی ارتقائی تھیوری جھوٹی لگنے لگتی ہے کہ انسان ارتقائی عمل کے نتیجے میں یہاں تک پہنچا ہے۔ جانور اس عمل کا ساتھ نہ دے سکے تو جنگلوں میں رہ گئے۔ جب ایسی بربریت کی داستانیں سنتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ ہم انسان آج تک جنگلوں اور غاروں میں رہتے ہیں۔ وہی بربریت اور وحشیانہ پن ہمارے اندر آج بھی موجود ہے۔ بس موقع ملنے کی دیر ہے‘ وہ ایک لمحے میں اچھل کر باہر نکل آتا ہے۔
ماضی میں جنگجو فتح پانے کے بعد انسانی کھوپڑیوں کے مینار کھڑے کرتے تھے۔ ہم اس دور کو وحشیوں کا دور سمجھتے ہیں اور آج تک اس عمل سے نفرت کرتے ہیں۔ لیکن پھر میں نے پڑھا کہ یہ اُس دور کا رواج تھا کہ بربریت پھیلانے والوں کو یہ سزائیں دی جاتی تھیں جو میدانوں میں تباہی اور بربادی کرتے تھے۔ اگر یہ کام نہ کیے جاتے تو وہ لوگ ان کی کھوپڑیوں کے مینار کھڑے کر دیتے۔ تاتاریوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ گاؤں کے گاؤں جلاتے‘ دہشت پھیلاتے اور ان کی دہشت ان سے پہلے سفر کرتی تھی۔ مخالفین بغیر جنگیں لڑے قلعے ان کے حوالے کر دیتے تھے کہ اگر مزاحمت کی تو وہ بدترین موت کا شکار ہوں گے۔ اس بربریت اور دہشت نے انہیں دنیا کو فتح کرنے میں بہت مدد دی کہ ان کے حملوں سے پہلے ہی ان کی وحشت سے لوگوں کے حوصلے پست ہو جاتے تھے۔ اس بربریت سے وہ دنیا بھر کو آگ لگاتے چلے گئے اور آخرکار بغداد جا پہنچے‘ جہاں عباسیوں کے آخری خلیفہ مستعصم باللہ کو ایک بوری میں بند کر کے تشدد کیا اور مار ڈالا۔ اس طرح کی بربریت آپ کو یورپ میں بھی ملتی ہے‘ جہاں رومن کو باربیرینز کا سامنا تھا جو رومن سلطنت کیلئے ایک مستقل دردِ سر تھے اور سرحدی علاقوں میں بربریت پھیلاتے تھے۔ بربریت انسانوں کا ایک مہلک ہتھیار رہی ہے کہ جو جتنا ظالم‘ بے حس‘ لہو کا پیاسا اور جنونی ہو گا‘ لوگ اس سے اتنا ہی ڈریں گے‘ اس کا سامنا یا مقابلہ نہیں کر پائیں گے‘ آسانی سے اس کے آگے ہتھیار ڈال دیں گے اور جو نہیں ڈالیں گے‘ انہیں عبرت کا نشان بنایا جائے گا یا نیزے پر سر لٹکا رہے گا تاکہ آتے جاتے سب عبرت پکڑیں۔ اس طاقت اور دہشت کے ذریعے ہی انسانوں نے اپنے جیسے انسانوں کو غلام بنایا‘ ان پر حکومت کی اور آج تک کرتے آ رہے ہیں۔
اگرچہ وقت کے ساتھ جمہوری کلچر اور سوچ نے اس بربریت کو قابو میں لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے‘ خصوصاً انگریزوں نے جمہوری نظام دے کر اس خون ریزی کو ختم کیا جس نے بادشاہت سے جنم لیا تھا۔ ترکوں کے ہاں تو خونیں روایت تھی کہ بادشاہ کے مرتے ہی بڑا بیٹا بادشاہ بنتا اور اس کا پہلا کام سب چھوٹے بھائیوں کا سر قلم کرانا ہوتا تھا تاکہ کل کو کوئی بھائی بغاوت نہ کر سکے۔ اگر کوئی بادشاہ قتل کرنے سے ہچکچاہٹ سے کام لیتا تو اسے سمجھایا جاتا کہ یہ ریاست اور عوام کیلئے بہتر ہے‘ ورنہ بھائی زندہ رہے تو عدم استحکام رہے گا۔ یوں استحکام کے نام پر بھائیوں کے ہاتھوں بھائی قتل ہوتے رہے۔ تاہم یہ خونی روایت سلطان احمد اول (1603ء تا 1617ء) نے ڈھائی سو سال کے بعد ختم کی۔ جب وہ بادشاہ بنا تو اس نے اپنے بھائیوں کو قتل کرانے سے انکار کر دیا۔ اس سے پہلے یہ خونیں شاہی رسم سلطان محمد دوم نے شروع کی تھی‘ جب اس نے بادشاہ بنتے ہی ایک رات میں اپنے 19 بھائیوں کو قتل کرا دیا تھا‘ جن میں چھوٹے چھوٹے بچے بھی شامل تھے۔ ان سب کو گلا گھونٹ کر مارا گیا تھا۔ سلطان احمد اول دراصل بادشاہ محمد سوم کا بیٹا تھا۔ اس نے بادشاہ بن کر اپنے چھوٹے بھائی مصطفی کو قتل کرانے سے انکار کر کے اس رسم کو ختم کیا تھا۔ بربریت کی یہ داستانیں آپ کو یہاں ہندوستان میں سلطنتِ دہلی پر تین سو سال تک مسلم بادشاہوں میں بھی ملتی ہیں۔ انہوں نے بھی جنگیں لڑیں‘ شاہی خاندان کے بچوں کو قتل کیا تاکہ کل کو کوئی وارث باقی نہ رہے۔ وہ بھی صرف دس سال حکمرانی کیلئے‘ کیونکہ اوسطاً ایک بادشاہ دس سال ہی دلّی پر حاکم رہا۔ میں نے جب سلاطینِ دہلی کی تاریخ پڑھی تو جہاں میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے وہیں یہ احساس بھی ہوا کہ سوا تین سو سالوں میں کل 33بادشاہ دلّی پر حکمران رہے اور ان میں سے صرف تین بادشاہ ایسے تھے جنہوں نے خون خرابے اور بربریت سے گریز کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہی کا دورِ حکمرانی سب سے کم تھا۔ جو جتنا ظالم تھا‘ اس کا دور اتنا لمبا رہا۔
یہ بربریت انسان صدیوں سے اٹھائے پھرتا ہے۔ وقت کے ساتھ یقینا اس میں کمی آئی ہے لیکن جنگیں آج بھی ہو رہی ہیں‘ ہزاروں لوگ اور بچے آج بھی مارے جا رہے ہیں‘ جیسے غزہ میں ہوا۔ سکردو میںباپ اور بھائی جا کر اپنی بیٹی‘ اس کے خاوند اور دو بچوں کو آج بھی ذبح کر تے اور خون کی ہولی کھیل کر دلی سکون پاتے ہیں۔ آج بھی ملتان میں نوجوان بیٹا ماں اور دو بہنوں کو غیرت کے نام پر آگ لگا کر ان کی چیخیں سنتے ہوئے سکون محسوس کرتا اور اپنی جھوٹی انا اور غیرت کو انسانی خون پلا کر اس کی پیاس بجھاتا ہے۔ یہ الگ بات کہ کچھ دن بعد وہ خود ہی تھانے پیش ہو جاتا ہے کہ مجھے ماں اور بہنوں کی چیخیں سونے نہیں دیتیں۔ ایسے مجرم کو عمر بھر وہ چیخیں سننے دیں اور عمر قید کی سزا دیں‘ نہ کہ سی سی ڈی کے حوالے کریں۔ یہ موت سے بڑی سزا ہے‘ جو اسے سونے نہیں دے رہی۔ اسے یہ سزا بھگتنے دیں ۔ بات ایک ہی ہے۔ انسان ہزاروں سال سے بربریت پسند تھا اور آج بھی ہے‘ چاہے وہ بربریت سکردو یا ملتان میں ہو‘ جو ذرا سا موقع ملتے ہی پوری دہشت سے باہر نکل آتی ہے۔
