اسلام آباد کے ہر گھر اور گاڑی پر نظر رکھنے کا حکومتی منصوبہ تیار

 

 

 

وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے ہر گھر اور گاڑی پر نظر رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ’سیف اینڈ سیکیور اسلام آباد‘ منصوبہ شروع کر دیا ہے۔ جس کے تحت نہ صرف اسلام آباد کے ہر گھر، دکان اور دفتر کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا بلکہ اس گھر یا دکان کے مالکان، کرایہ داران حتیٰ کہ ملازمین کے حوالے سے بھی تمام معلومات حاصل کی جائیں گی تاکہ وفاقی دارالحکومت کے باسیوں، کاروباری اداروں اور غیر ملکی مہمانوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ شہر میں جرائم کی روک تھام اور نظم و ضبط کو بہتر بنایا جا سکے.

 

حکام کے مطابق ’سیف اینڈ سیکیور اسلام آباد‘ کے تحت اسلام آباد کے رہائشی اب نہ صرف اپنا مکمل ڈیٹا ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو فراہم کرنے کے پابندی ہوں گے بلکہ شہر میں چلنے والی تمام گاڑیوں اور موٹرسائیکلز کے علاوہ داخل ہونے والی وہیکلز کی بھی اب ای ٹیگنگ کی جائے گی۔ ای ٹیگ سٹیکرز کی حامل گاڑیوں کو ہی اسلام آباد میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔ای ٹیگ کے حصول کے لیے گاڑی کا رجسٹریشن کارڈ لانا لازمی ہوگا۔ اسلام آباد کی شاہراہوں پر چلنے والی ہر گاڑی کے لیے ای ٹیگ کا ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔یہ پابندی اسلام آباد کے ساتھ ساتھ دیگر صوبوں سے رجسٹرڈ گاڑیوں پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوگی، جس کا مقصد شہر میں سکیورٹی، ٹریفک مینجمنٹ اور نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانا ہے۔

 

اسلام آباد انتظامیہ کے مطابق اسلام آباد میں شروع کئے جانے والے سیکیورٹی سروے کے مطابق اسلام آباد میں مقیم تمام شہریوں سے ذاتی معلومات بھی حاصل کی جائیں گی کہ کس گھر میں کون رہائش پذیر ہے۔ سروے کے حوالے سے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے ’آئی سی ٹی ہاؤس ہولڈ سروے‘ کے نام سے ایک ایپ بھی تیار کی ہے جو پلے سٹور یا ایپل سٹور سے ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے۔ شہری یہ ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے اپنی رجسٹریشن کا آغاز کر سکتے ہیں۔ اس ایپ میں شہری خود کار طریقے کے تحت گھر کے تمام افراد کا نام، پتا اور شناختی کارڈ نمبر درج کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی گھر میں کام کرنے والے تمام عملے کا ریکارڈ بھی ایپ میں درج کرنے کے پابند ہوں گے۔ اسی طرح ایپ میں یہ تفصیلات بھی شامل کرنا ہوں گی کہ آیا آپ جس گھر میں رہ رہے ہیں وہ آپ کی اپنی ملکیت ہے یا آپ کرایہ دار ہیں۔

اسلام آباد انتظامیہ کے مطابق 17 نومبر سے ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں اسلام آباد کے تمام گھروں کا دورہ کریں گی اور وہاں جا کر چیک کریں گی کہ کس کس کا ڈیٹا ایپ میں موجود ہے اور کس کا نہیں۔ ڈی سی اسلام آباد نے میڈیا کو بتایا کہ جو ٹیمیں وزٹ کریں گی ان کے پاس ٹیبلٹس ہوں گے جن میں یہ ایپ انسٹال ہوگی اور وہ موقع پر ہی ڈیٹا انٹری کر سکیں گی۔تاہم جن شہریوں نے اپنا ڈیٹا پہلے ہی انٹر کروا دیا ہوگا، ان کو دوبارہ انٹری کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

 

تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ کے مجوزہ ’سیف اینڈ سیکیور‘ منصوبے پر عمل درآمد کتنا مشکل یا آسان ہوگا اور اس کے کیا فوائد اور نقصانات ہو سکتے ہیں؟ ماہرین کے مطابق اسلام آباد میں شہریوں کی رجسٹریشن کی سکیمیں پہلے بھی آتی رہی ہیں اور اس حوالے سے انتظامیہ اور پولیس کے پاس پہلے ہی مناسب ڈیٹا موجود ہے۔ اس بار جو اچھا اضافہ کیا گیا ہے وہ ڈیٹا کو ایپ پر منتقل کرنے کا ہے جو ڈیجیٹلائزیشن کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ اس سے ڈیٹا دینے والے اور ڈیٹا لینے والے دونوں کے لیے آسانی ہوگی۔

جسٹس امین اپنی کس خوبی کی وجہ سے آئینی عدالت کے سربراہ بنے؟

سیکیورٹی ماہرین کے بقول یہ منصوبہ اسلام آباد میں رہنے والے شہریوں کے لیے ایک محفوظ ماحول فراہم کرے گا۔ اس کے ذریعے جرائم کی روک تھام، مشکوک سرگرمیوں کی شناخت، اور شہریوں کی حفاظت کو بہتر بنایا جا سکے گا۔اس کے علاوہ انتظامیہ کو شہر کے مختلف علاقوں میں نگرانی کے لیے جدید اور مربوط نظام حاصل ہوگا، جس سے کسی بھی غیر قانونی کارروائی یا خطرناک واقعے کی بروقت اطلاع ممکن ہوگی۔تاہم یہ منصوبہ کامیاب تب ہی ہو سکتا ہے جب شہری مکمل تعاون کریں اور اپنے مکانات اور دکانوں کی درست معلومات فراہم کریں۔

 

تاہم دوسری جانب سینیئر وکیل اور فوجداری مقدمات پر کام کا وسیع تجربہ رکھنے والے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کے مطابق شہریوں کے گھروں میں کون رہتا ہے اور کون نہیں، اس قسم کا ڈیٹا پولیس یا ضلعی انتظامیہ کو فراہم کرنا اس لیے خدشے سے خالی نہیں ہے کیونکہ پاکستان میں شہریوں کا ڈیٹا لیک ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور دیگر اداروں کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ شہریوں کا فراہم کردہ ڈیٹا کسی طرح بھی لیک نہ ہو اور وہ صرف سرکاری و آفیشل مقاصد کے لیے استعمال ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جب سرکاری اداروں کی جانب سے شہریوں کا ڈیٹا لیک ہوا، جس سے جرائم پیشہ عناصرنے فائدہ اٹھایا۔ حکومت کو پبلک ڈیٹا کی سیکیورٹی کے حوالے سے ٹھوس اقدامات کرنے چاہیں تاکہ تمام ڈیٹا محفوظ رہے۔

 

Back to top button