حکومت کا ججز کی تقرری کا طریقہ بدلنے کے لیے ترمیم کا فیصلہ

اسلام آباد میں باخبر زرائع نے دعوی کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے ججز کی تقرری کے طریقہ کار کے تبدیل کرنے اور ہائی کورٹ کے ججز کی ان کی رضامندی کے بغیر کسی بھی دوسری ہائی کورٹ میں ٹرانسفر یقینی بنانے کے لیے آئینی ترامیم لانے کا فیصلہ کیا ہے اور پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت قانون نے آئینی ترمیم کا جو مسودہ تیار کیا ہے اس میں ججز کی تقرری سے متعلقہ آئین کے آرٹیکل 175 اے میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے جس سے جوڈیشل کمیشن کی ساخت تبدیل ہوجائے گی۔ یوں ججز کے تقرر میں عدلیہ کا اختیار کم ہو جائے گا اور حکومتی کردار بڑھا دیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ اس حوالے سے اس سال مارچ میں جوڈیشل کمیشن کا ایک اجلاس بھی چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی زیر صدارت منعقد ہو چکا ہے۔ اس اجلاس میں سپریم کورٹ کے 5 سینیئر ججز، وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس، پانچوں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان، ہائیکورٹس کے سینیئر ججز، وفاقی وزیرقانون اعظم تارڑ، صوبائی وزرائے قانون، اور بارکونسلز کے نمائندے اور اٹارنی جنرل شرکت ہوئے تھے۔ اب اسی تجویز کو فائنل کرنے کے لیے معاملہ پارلیمنٹ میں لے جایا جائے گا۔
ذرائع نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ وفاقی حکومت ممکنہ طور پر ججوں کی رضامندی کے بغیر ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ میں ان کے تبادلے کے لیے آئینی شق میں تبدیلی بھی کر سکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آئین میں ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلے سے متعلق آرٹیکل 200 میں ترمیم کو حکومتی لیگل ٹیم کی جانب سے حتمی شکل دی جارہی ہے۔ یاد رہے کہ موجودہ قانون کے مطابق صدر کسی ہائی کورٹ کے جج کو دوسری ہائی کورٹ میں منتقل کر سکتا ہے، لیکن جج کو اسکی رضامندی اور صدر کی چیف جسٹس آف پاکستان اور دونوں ہائیکورٹس کے چیف جسٹس کے ساتھ مشاورت کے بغیر تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ اس آرٹیکل میں مجوزہ ترمیم میں لفظ ’ججز کی رضامندی‘ کو ختم کردیا جائے گا، اس کے بعد حکومت چیف جسٹس آف پاکستان اور تبادلہ دینے اور لینے والی عدالتوں کے چیف جسٹس کی مشاورت سے جج کا تبادلہ کرنے کے قابل ہو جائے گی۔ یوں حکومت کو ان ججوں سے جان چھڑوانے میں آسانی ہو جائے گی جو تحریک انصاف یا کسی اور جماعت کا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھاتے ہوئے مرضی کے فیصلے کرتے ہیں۔
کیا جسٹس منصور شاہ پارلیمنٹ کو سپریم تسلیم کریں گے یا نہیں؟
یاد رہے کہ ابتدائی طور پر 5ویں ترمیم کے ذریعے صدر کو اجازت تھی کہ وہ ہائی کورٹ کے کسی بھی جج کو اسکی رضامندی یا مشاورت کے بغیر ٹرانسفر کر سکتے ہے۔ تاہم، صدر آصف زرداری کے پہلے دور صدارت میں 18ویں ترمیم کے ذریعے اس شرط کو ختم کر دیا گیس تھا اور جج کی رضامندی سے تبادلے کو مشروط کر دیا گیا تھا۔ماضی میں کچھ ججز ایسے تھے جن کا ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ میں تبادلہ ہوا تھا۔ فروری 2008 میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سردار محمد اسلم کا اسلام آباد ہائی کورٹ میں تبادلہ کر دیا گیا، جب کہ 2009 میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ایم بلال خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر تبدیل کر دیا گیا۔ تاہم اس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کو ختم کر دیا گیا کیونکہ یہ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے جاری کردہ عبوری آئینی آرڈر یعنی پی سی او کے تحت تشکیل دیا گیا تھا۔ 18ویں ترمیم کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے دوبارہ قیام کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے ایک اور جج جسٹس اقبال حمید الرحمن کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنا دیا گیا تھا۔ ماضی قریب میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد انور خان کاسی کی ریٹائرمنٹ سے کچھ دن پہلے اہور ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ کے ججوں کو اس اعلیٰ عہدے کے لیے چنا گیا تھا۔
تاہم وکلا تنظیموں نے مطالبہ کیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ہی کسی جج کو چیف جسٹس بنایا جائے، بالآخر جسٹس اطہر من اللہ کو اس عہدے پر فائز کر دیا گیا تھا۔
اگر جسٹس شوکت صدیقی کو فیض حمید ان کے عہدے سے برطرف نہ کرواتا تو اطہر من اللہ کی جگہ وہ چیف جسٹس بنتے۔ ایک سینئر حکومتی اہلکار نے بتایا کہ اس بل کو جلد ہی پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمران اتحاد اس بل کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے قانونی مشیر اس معاملے پر خاموشی سے کام کر رہے ہیں اور ترمیم کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔ تبصرے کے لیے رابطہ کرنے پر وزارت قانون و انصاف کے سیکریٹری راجہ نعیم اکبر نے اس پیشرفت سے لاعلمی کا اظہار کیا۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں قانون سازی کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت نہیں کی گئی ۔
