کیا آپ ہارٹ فیلیئر جیسے مرض کی عام علامات جانتے ہیں؟

ہارٹ فیلیئر ایسی طویل المعیاد بیماری ہے جس کے دوران جسم کے لیے دل مناسب مقدار میں خون پہنچانے سے قاصر ہوجاتا ہے۔یعنی ایسا نہیں ہوتا کہ دل کام کرنا بند کر دیتا ہے، بس وہ پہلے کی طرح ٹھیک کام نہیں کر پاتا۔اس بیماری کا علاج نہیں بلکہ ادویات کی مدد سے اسے بڑھنے سے روکا جاتا ہے۔

ہارٹ فیلیئر سے متاثر ہونے کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں جو دل کے افعال پر اثر انداز ہوتی ہیں جیسے عمر بڑھنے کے ساتھ دل کے افعال کمزور ہونے لگتے ہیں۔مگر ہارٹ فیلیئر کا سامنا جوان افراد کو بھی ہو سکتا ہے اور ہائی بلڈ پریشر، دل کی شریانوں کے امراض، ہارٹ اٹیک یا پھیپھڑوں کے امراض سے اس کا خطرہ بڑھتا ہے۔

موٹاپے، ذیابیطس اور نیند کے دوران خراٹے لینے کے مسئلے یا سلیپ اپنیا کو بھی اس سے منسلک کیا جاتا ہے۔یہ اس بیماری کی ایک عام علامت ہے۔

درحقیقت ہارٹ فیلیئر کے مریضوں کو جسمانی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ آرام کرتے ہوئے بھی سانس لینے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔خون کے بہاؤ میں مسائل سے  پھیپھڑوں میں پانی جمع ہونے لگتا ہے جس کے باعث سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔اگر دل درست طریقے سے کام نہ کرے تو دماغ جسم کے کم اہم حصوں جیسے ہاتھوں اور پیروں کے مسلز سے خون اہم اعضا کے لیے کھینچتا ہے۔
اس سے ہاتھوں اور پیروں میں کمزوری محسوس ہوسکتی ہے جبکہ روزمرہ کے کاموں جیسے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے یا کمرے میں چلتے ہوئے شدید تھکاوٹ کا احساس بھی ہوسکتا ہے۔

ہارٹ فیلیئر کی ایک اور نشانی تکلیف دہ کھانسی اور خرخرانا بھی ہے۔ایسا اس وقت ہوتا ہے جب خون کے بہاؤ میں مسائل کے باعث سیال پھیپھڑوں میں جمع ہونے لگتا ہے۔کئی بار کھانسی کے دوران سفید یا گلابی رنگ کا بلغم بھی

عمران ہو یا نواز شریف، عدلیہ ڈکٹیشن قبول نہیں کریگی

نظر آتا ہے۔

Back to top button