خیبر پختون خواہ 9 مئی کے مجرموں کی پناہ گاہ کیسے بنا؟

خیبر پختونخواہ کی گنڈاپور سرکار 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے جرم میں عدالتوں کی جانب سے اشتہاری قرار دیے گئے پی ٹی آئی رہنماؤں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن گئی ہے۔ خیبر پختونخوا اس وقت پاکستان کا واحد صوبہ بن چکا ہے جہاں سزا یافتہ اور اشتہاری رہنمامکمل حکومتی تحفظ کے ساتھ نہ صرف سرِ عام گھومتے دکھائی دیتے ہیں بلکہ سیاسی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے ہیں اور عدالتی فیصلوں کو غیر اعلانیہ طور پر مسترد کر کے ملکی نظام عدل کو ٹھینگا نظر آتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت 9 مئی کے واقعات میں ملوث سزا یافتہ افراد کو پناہ دے کر نہ صرف قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے بلکہ پورے عدالتی نظام کا تمسخر بھی اڑا رہی ہے۔ خیبرپختونخوا میں قانون کی عملداری کی بجائے جماعتی وفاداری غالب آ چکی ہے۔ گنڈاپور سرکار کا یہ رویہ محض قانون شکنی نہیں بلکہ ریاستی نظم و نسق کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔

خیال رہے کہ پنجاب اور دیگر صوبوں میں مختلف کیسز میں گرفتاری سے بچنے کے لیے پی ٹی آئی رہنماؤں کےپشاور کا رخ کرنے کی وجہ سے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ ہاؤس اور سرکاری مہمان خانوں میں کچھ عرصے سے مہمانوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی تیسری بار حکومت بننے کے بعد سے متعدد پارٹی رہنما 9 مئی اور دیگر سیاسی نوعیت کے کیسز میں گرفتاری اور پولیس کارروائی سے بچنے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کے مہمان بنے ہوئے ہیں اور کچھ رہنما مستقل طور پر وزیراعلیٰ ہاؤس میں بھی قیام پذیر ہیں۔ تاہم گزشتہ 2 ماہ کے دوران 9 مئی کے کیسز میں فیصلے سنائے جانے اور پی ٹی آئی رہنماؤں کو سزائیں ملنے کے بعد مہمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے 9 مئی کے کیسز میں سزائیں سنائے جانے کے سلسلے میں تیزی آئی۔ جس کے بعد انسداد دہشتگردی عدالت نے فیصل آباد اور لاہور میں دائر مختلف کیسز میں شبلی فراز، عمر ایوب، حمید رضا، اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی سمیت پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں کو سزائیں سنائی تھیں پنجاب میں 9 مئی کیسز میں سزا کے خلاف روپوش رہنما پشاور میں منظر عام پر آئے اور فیصلے کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی۔ تاہم پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے اراکین عمر ایوب، شبلی فراز، عبدالطیف کی درخواستوں پر الیکشن کمیشن کو کارروائی سے روک دیا جبکہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے اراکین کو متعلقہ ہائیکورٹس سے رجوع کرنے کی ہدایت کرکے درخواستیں واپس کر دیں۔سماعت کے دوران سزا یافتہ افراد رائے حیدر علی، صاحبزادہ حامد رضا، رائے حسن خان، رائے مرتضیٰ اور رائے انصار، زرتاج گل عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ عدالت نے ان کی نااہلی کے خلاف دائر درخواستوں کو واپس کر دیا اور واضح کیا کہ یہ معاملہ اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا اور درخواست گزاروں کو لاہور یا اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔ تاہم 9 مئی توڑ پھوڑ کیسز میں سزا یافتہ پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کے رہنما پنجاب، اسلام آباد اور دیگر صوبوں میں گرفتاری سے بچنے کے لیے پنجاب جانے سے گریزاں ہیں اور متعلقہ ہائیکورٹس میں درخواستیں تک نہیں دے سکے۔ گرفتاری سے بچنے کے لیے ایسے رہنماؤں نے خیبر پختونخوا میں مبینہ طور پر روپوشی اختیار کر رکھی ہے۔

پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق حکومت بننے کے بعد سے ہی دیگر صوبوں کے رہنما کے پی میں قیام کو ترجیح دے رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے باقاعدہ طور پر کابینہ ممبران اور اراکین صوبائی اسمبلی کو ہدایات جاری کر رکھی ہیں کہ مفرور اور اشتہاری پارٹی رہنماؤں کا خیال رکھا جائے۔ جب بھی کوئی ایسا مہمان آتا ہے تو کسی ایک وزیر یا رکن کی ذمہ داری لگا دی جاتی ہے کہ ان کے رہائش اور دیگر انتظامات کرے‘۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے مرکزی ترجمان شیخ وقاص اکرم اور گلگت بلتستان کے سابق وزیر اعلیٰ خالد خورشید بڑے عرصے سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہی قیام پذیر ہیں اور وہاں ان کو کمرے اور دفتر بھی دیے گئے ہیں۔جبکہ کچھ مطلوب پی ٹی آئی رہنما گلیات اور ایبٹ آباد میں روپوش ہیں ان کی رہائش سمیت دیگر انتظامات یا تو حکومت کر رہی ہے یا متعلقہ پارٹی رہنما۔ زرتاج گل اور صنم جاوید بھی پشاور میں ہی روپوش ہیں۔ صنم جاوید وزیر اعلیٰ گنڈاپور کے کہنے پر ایک خاتون حکومتی عہدیدار کے گھر میں روپوش ہیں۔ پارٹی کی جانب سے انھیں ہدایت کی گئی ہے کہ جب تک سزا معطل نہیں ہوتی وہ صوبے سے باہر نہ جائیں۔

مزدوروں کی اجرت 40 ہزار روپے ماہانہ مقرر ،نوٹیفکیشن جاری

سزا یافتہ رہنماؤں کو مبینہ پناہ فراہم کرنے کے حوالے سےتجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشکل حالات میں خیبر پختونخوا پی ٹی آئی کیلئے محفوظ پناہ گاہ بن چکاہے کیونکہ یہاں دوسرے صوبوں کی پولیس کارروائی نہیں کر سکتی جبکہ خیبرپختونخوا حکومت اپنے رہنماؤں کو مکمل تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ علی امین گنڈاپور کے دور میں وزیراعلیٰ ہاؤس پارٹی کا مرکز بنا ہوا ہے ’خواہ احتجاج کے لیے لوگ نکالنے ہوں یا رہنماؤں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنی ہوں پی ٹی آئی کا مکمل انحصار علی امین گنڈاپور اور صوبائی حکومت پر ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے تمام سزا یافتہ لوگ جو باہر ہیں وہ سب کے پی میں روپوش ہیں کیونکہ پی ٹی آئی کے لیے کے پی مکمل طور پر محفوظ ہے کیونکہ یہاں تو مقتدر حلقے بھی کارروائی نہیں کر سکتے جبکہ پنجاب پولیس صرف شور مچا سکتی ہے تاہم کسی رہنما کو گرفتار نہیں کر سکتی۔

Back to top button