نواز شریف نے پاکستانی عوام کا خوف کیسے ختم کیا؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ پاکستانی میں حقیقی تبدیلی آنے میں ابھی وقت لگ سکتا ہے لیکن نواز شریف کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے صرف چند سالوں میں اس سماج کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ وہ باتیں جو کہنے سے پہلے لوگ ہزار دفعہ سوچتے تھے اب ہر گلی اور ہر کوچے میں ہو رہی ہیں۔ وہ خوف جو سارے معاشرے پر طاری تھا لوگ اب اس سے باہر نکل رہے ہیں۔
وہ رکاوٹیں جو آزادی اظہار کے راستے میں حائل تھیں لوگ اب انہیں سوشل میڈیا پر عبور کر رہے۔ وہ نعرے جو کبھی زبان پر نہیں آ سکتے تھے اب ہر گلی محلے میں لگ رہے ہیں۔ در انصاف ہو یا ریاست کے اہم ستون، سب جانتے ہیں کہ نواز شریف جس تبدیلی کا ذکر رہے ہیں وہ اس معاشرے میں وقوع پذیر ہو چکی ہے۔ اب اس کے ثمرات عوام تک پہنچنے میں دیر ہو سکتی ہے مگر اندھیر نہیں مچ سکتا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں ایک تبدیلی وہ تھی جس کا ڈھنڈورا 2018 سے پہلے اور آج تک عمران خان پیٹتے پھر رہے ہیں۔ لہکن وقت رفتہ رفتہ گواہی دے رہا ہے کہ اس تبدیلی کے دامن میں سوائے دروغ، دشنام، دہشت اور دھمکی کے کچھ نہیں تھا۔ یہ وہی تبدیلی تھی کہ جس سے تین سو پچاس ڈیم بننے تھے، جانے کتنے ارب درخت لگنے تھے، ہر بچے نے سکول جانا تھا، اس ملک کے عوام کو آزادی اظہار کا حق ملنا تھا، ملک سے کرپشن کو ختم ہونا تھا، پاکستانی پاسپورٹ کی عزت ہونی تھی، دنیا کے ممالک نے ہم سے قرض کی بھیک مانگنی تھی۔
غربت ختم ہونی تھی، معیشت نے اتنی ترقی کرنی تھی کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے لوگوں نے نوکریاں چھوڑ چھوڑ کر عازم پاکستان ہونا تھا، ملکی خزانہ چشم زدن میں ڈالروں سے سنہرا ہو جانا تھا۔ نئے سکول بننے تھے، خواتین کو ان کے بنیادی حقوق ملنے تھے، صحافیوں کو سچ کہنے کی اجازت ملنی تھی اور ملک نے ترقی کی منزلیں مارتے مارتے کہیں کا کہیں نکل جانا تھا۔
لیکن عمار کے بقول، ساڑھے تین سال گزرنے کے بعد قوم کے سر سے تبدیلی کا بخار اتر چکا ہے۔ لوگوں کو اس بات کا ادراک ہو چکا ہے کہ یہ تبدیلی لانے کے لیے واقعی الیکشن کا ڈرامہ رچایا گیا اور عوام کو غیر جمہوری قوتوں، میڈیا اور عدالت کی مدد سے بے وقوف بنایا گیا۔ اس عرصے میں معیشت تباہ ہو گئی، ملکی ساکھ برباد ہو گئی.
اداروں کی عزت نیلام ہو گئی، غریب کا گھر لٹ گیا، افلاس خودکشیوں پر مجبور کرنے لگا، کرپشن پہلے سے کہیں ذیادہ بڑھ گئی اور بے روزگاری میں اضافہ ہو گیا۔ یہ عمران خان کی تبدیلی تھی جو بائیس کروڑ لوگوں کے لئے ایک اتنا بھیانک خواب ثابت ہوئی کہ اب لوگ تبدیلی کے نام سے ڈرنے لگے ہیں۔
عمار۔مسعود کہتے ہیں کہ اب جب کہ لوگ تبدیلی کے نام سے بھی خائف ہیں ایسے میں نواز شریف ایک تبدیلی کے متقاضی ہیں۔ ان کی اس تبدیلی میں نہ دروغ ہے نہ دشنام ہے نہ دھمکی نہ ڈھونگ۔ ان کی تبدیلی کا کلیہ بہت سادہ اور آسان ہے۔ نواز شریف جس تبدیلی کا ذکر کرتے ہیں وہ چند بنیادی نقاط پر مبنی ہے۔
نواز شریف کا تقاضا یہی ہے کہ ووٹ کو عزت دی جائے، پارلیمان کی حرمت کا خیال رکھا جائے، سول سپریمیسی کے تصور کو بالاتر سمجھا جائے۔ آزادی اظہار کا حق سب کو دیا جائے اور غیر جمہوری قوتیں کا سیاست میں کوئی کردار نہ ہو۔ انہی نقاط کی بناء پر نواز شریف نے جی ٹی روڈ کا سفر اختیار کیا، اسی وجہ سے جیل کاٹی، اس جرم میں سارا خاندان اور تمام عزیز تر ساتھی پابند سلاسل رہے۔ اتنا کچھ ہو جانے کے باوجود نواز شریف اپنی ہٹ پر قائم ہیں اور اپنی تبدیلی کے بنیادی نقاط سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹے کو تیار نہیں۔
بقول عمار مسعود، نواز شریف نے جو کہا اور جو چاہا اس کے ثمرات ابھی تک منصہ شہود پر نہیں آئے۔ اب بھی وزیر اعظم عمران خان ہیں اور ان کے جعلی اقتدار کو کسی چیز سے بظاہر کوئی خطرہ نہیں۔ چاہے درجنوں کرپشن کے سکینڈل آ جائیں، چاہے ہر وزیر ہر مشیر کسی ایک نئے جرم میں ملوث نظر آئے۔ چاہے معیشت تباہ ہو جائے، چاہے ایک پیج پھٹ ہی کیوں نہ جائے، چاہے الیکشن کمیشن کچھ بھی نہ کہتا پھرے۔
عدالت کا نیب کو مشرف کے خلاف کارروائی کا حکم
چاہے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کچھ بھی کہتی رہے۔ عمران خان ابھی تک وزیر اعظم ہیں اور اپنی جھوٹی تبدیلی کے مزے دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ دوسری جانب جس تبدیلی کی طرف نواز شریف کا اشارہ تھا اس کا پھل ہمیں ابھی تک کہیں نظر نہیں آتا۔ نہ ابھی تک ووٹ کو عزت دی گئی، نہ پارلیمان کی حرمت ہوئی نہ سول سپریمیسی کی جنگ میں فتح حاصل ہوئی نہ غیر جمہوری طاقتوں کا سیاست میں عمل دخل کم ہوا۔ نہ نواز شریف بر سر اقتدار آئے نہ نئے صاف اور شفاف الیکشن ہوئے، نہ عمران خان کی تبدیلی سے قوم کو نجات ملی، نہ صحافیوں پر قدغنیں ختم ہوئیں، نہ عدلیہ کے در انصاف کے لئے کھلے۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ نواز شریف کا نظریہ تبدیلی عمران خان کی تبدیلی سے یکسر مختلف ہے۔ نواز شریف کسی انقلاب کے داعی نہیں۔ لیکن ان کی تبدیلی نے لوگوں کی شعوری سطح کو ضرور جھنجھوڑا ہے۔ ان کو چوہتر سال کی تاریخ یاد کروائی ہے۔ ان کی توجہ تاریخ کی بڑی غلطیوں کی طرف دلائی گئی ہے۔ عوام کو ان کے بنیادی حقوق یاد کروائے گئے ہیں۔ ان کی سوچ کے دھارے کو ایک مختلف سمت موڑا گیا ہے۔ ان کو آئین کی حرمت کا درس دیا گیا ہے اور ان کو آبرو سے جینے کا سلیقہ سکھایا گیا ہے۔
یہ تبدیلی کسی سونامی کی طرح معاشرے کو دریا برد نہیں کرے گے۔ بلکہ اس کے اثرات بہت دور رس ہوں گے۔ شعور کی جو لہر اس ملک میں آ چکی ہے اب اس سے جان چھڑانا غیر جمہوری قوتوں کے بس کی بات نہیں۔ یاد رکھیئے جس معاشرے میں ایک دفعہ احساس محرومی در آئے اس معاشرے سے اس احساس کو کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔
نواز شریف کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے صرف چند سالوں میں اس سماج کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ وہ باتیں جو کہنے سے پہلے لوگ ہزار دفعہ سوچتے تھے اب ہر گلی اور ہر کوچے میں ہو رہی ہیں۔ وہ خوف جو سارے معاشرے پر طاری تھا لوگ اب اس خوف سے باہر نکل رہے ہیں۔
عمار کا کہنا یے کہ نواز شریف نے اس جمہوری سفر میں جو جو قربانی دی وہ رائیگاں نہیں جانے والی۔ اس کا پھل بہرحال اس ملک کے عوام نے آج نہیں تو کل چکھنا ہی ہے۔ اس تبدیلی نے اگرچہ عمران خان کی حکومت کو چلتا نہیں کیا لیکن یقین مانیے اس تبدیلی نے طاقت کے تمام ستونوں کو لرزہ براندام ضرور کر دیا ہے۔
آپ اس حقیقت سے چاہے کتنی ہی جان کیوں نہ چھڑائیں، میڈیا کے پاؤں میں چاہے کتنی ہی بھاری زنجیر کیوں نہ ڈالیں لیکن سچ تو یہ کہ پاکستان کے گلی کوچوں میں شہروں اور گاؤں میں، ہر قریے اور ہر صوبے میں لوگ اب نواز شریف کی ہی زبان بول رہے ہیں۔
