کیا عمران کا دورہ، چین کے خدشات دور کر پائے گا؟

سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئےچین کے دورہ پر جا رہے وزیر اعظم عمران خان کو پاک چین سی پیک منصوبوں کی سست روی اور چینی ورکز کی سیکورٹی بارے چینی قیادت کو مطمئن کرنے جیسے کڑے چیلنجز کا سامنا ہے لہذا سفارتی حلقوں میں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا وزیراعظم کا یہ دورہ کامیاب ہو پائے گا۔

دفتر خارجہ کے مطابق عمران خان چینی صدر شی جن پنگ کی دعوت پر دارالحکومت بیجنگ میں ہونے والے سرمائی اولمپکس کی تقریبات میں شرکت کے لیے تین سے پانچ فروری کے دوران بیجنگ کا دورہ کریں گے تاہم عالمی امور کے مبصرین کا کہنا ہے کہ ان کے دورے کا مقصد بیجنگ کے سی پیک اور پاکستان میں چینی کارکنوں کے تحفظ سے متعلق خدشات دور کرنا اور دونوں پڑوسی ممالک کے دیرینہ اوردوستانہ تعلقات کے تاثر کو قائم رکھنے کی کوشش ہے۔

بین الاقوامی امور کے استاد اور محقق پروفیسر ڈاکٹر رفعت حسین کے خیال میں وزیر اعظم عمران خان دورے کے دوران چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات میں انہیں اعتماد میں لینے کی کوشش ضرور کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسرے ممالک کے چین میں ہونے والے سرمائی اولمپکس کے بائیکاٹ کے بعد پاکستان کی عدم شرکت دونوں ملکوں کی دوستی کا اچھا تاثر نہ چھوڑتی۔

واضح رہے کہ کئی یورپی، امریکی اور ایشیائی ممالک نے چار فروری سے چین میں شروع ہونے والے سرمائی اولمپکس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے، جس کی بینادی وجہ چین میں انسانی حقوق کی مبینہ پامالی ہے۔ تاہم روسی صدر ولاد میر پوتن بھی سرمائی اولمپکس کی تقریبات میں شرکت کے لیے بیجنگ جائیں گے۔

نواز شریف نے پاکستانی عوام کا خوف کیسے ختم کیا؟

پروفیسر ڈاکٹر رفعت حسین کے مطابق اسلام آباد میں وزیر اعظم عمران خان کے دورے کے دوران چین کی جانب سے اٹھائے جانے والے متوقع سوالات پر غور ہو رہا ہے۔ تھینک ٹینک انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز آف اسلام آباد سے منسلک محقق دوست محمد کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کے دورے کا بنیادی مقصد بیجنگ کا اسلام آباد پر اعتماد بحال کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوران سی پیک کے منصوبوں پر کام تقریباً بند رہا، جس پر چینی قیادت ناراض ہے تاہم عمران خان کی جانب سے چین کے ساتھ یغور مسئلے پر یکجہتی کی عملی اظہار سے پاک چین تعلقات میں بہتری آئے گی۔ دوست محمد کے خیال میں عراق اور افغانستان کے علاوہ دوسرے کئی ملکوں میں انسانی حقوق کی پامالی ہوتی رہی ہے، لیکن مغرب اور حتی کہ کئی مسلمان ملک بھی اس پر خاموش رہے۔

اور یہی صورت حال بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی ہے، جہاں ہونے والی ظلم و بربریت پر دنیا خاموش ہے، اور اس کی یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی سیاست اور تعلقات میں اخلاقیات کی بجائے مفادات زیادہ اہم سمجھے جاتے ہیں۔

اینکر پرسن اور تجزیہ کار ڈاکٹر معید پیرزادہ کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال داسو میں دہشت گرد حملے میں چینی کارکنوں کی ہلاکتوں اور سی پیک کی سست روی کی وجہ سے چین اور پاکستان کے تعلقات سردمہری کا شکار رہے ہیں، اور وزیر اعظم عمران خان کے دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان پیش رفت دیکھنے کو ملے گی۔

ڈاکٹر معید پیرزادہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی چینی اور روسی صدور سے ملاقاتوں کے پاکستان کے حق میں بہت بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے پاکستان اور خصوصاً وزیراعظم عمران خان کو فارغ کیے جانے کے بعد اب ک0تان حکومت کا چین اور روس کی طرف جھکاؤ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

Back to top button