تاریخ جسٹس گلزار کو کن الفاظ میں یاد کرے گی؟

یکم فروری کو ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کو قانونی حلقوں میں اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کا نگہان اور کراچی میں بلڈنگ کنٹرولر پکارا جاتا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے دور میں اصل کام کرنے کی بجائے نہ صرف انصاف پسندوں ججز کے ساتھ برا سلوک کیا بلکہ سندھ میں پیپلز پارٹی حکومت کے انتظامی امور میں بے جا مداخلت کے علاوہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ہر ممکن سہولت فرام کرنے میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے دو قدم آگے نکل گئے۔ اس لئے تاریخ انہیں اچھے کارناموں کی بجائے متنازعہ اقدامات کی بدولت یاد رکھے گی۔

سینیئر وکیل رہنما حامد خان نے ایک بار کہا تھا کہ ‘گلزار ڈاکٹرائن’ یہ ہے کہ اگر کوئی کیس اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کو گزند پہنچاتا ہو تو اسے سماعت کے لئے مقرر نہیں کیا جاتا۔ جسٹس وقار سیٹھ کی سنیارٹی کی بنیاد پر سپریم کورٹ میں تقرری کی درخواست ان کی موت تک سماعت کے لئے مقرر ہی نہیں ہوئی۔ اسی طرح فوجی اسٹیبلشمنٹ کے عتاب کا شکار ہوکر اسلام آباد ہائی کورٹ سے نکالے جانے والے جسٹس شوکت عزیز صدیقی ریٹائرڈ ہو گئے لیکن ان کی بحالی کے لیے دائر کردہ اپیل کا فیصلہ نہیں ہو سکا۔

ناقدین کا کہنا یے کہ خیبر پختونخوا میں لوگوں کو غیر قانونی طور پر بند رکھنے کے لئے بنائے گئے عقوبت خانے آج بھی قائم ہیں، کیونکہ انہیں بند کرنے کا جسٹس وقار سیٹھ کا فیصلہ سپریم کورٹ نے معطل کر دیا تھا۔ ایک خصوصی عدالت کی جانب سے مشرف کو ائین شکنی پر دی گئی سزائے موت کو لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے اپنے دائرۂ کار سے غیر معمولی طور پر تجاوز کرتے ہوئے معطل کیا گیا تھا، اس مضحکہ خیز حکم کے خلاف اپیل تاحال سپریم کورٹ میں توجہ کی طلبگار ہے۔ جس شخص نے یہ آرڈر تحریر کیا، اب وہ سپریم کورٹ میں ترقی پا چکا ہے۔

سنیئر قانون دان اور اینکر پرسن عبدالمعز جعفری کہتے ہیں کہ جسٹس گلزار احمد یکم فروری کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ اگر وہ ریٹائرمنٹ کے بعد کراچی میں رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ایئرپورٹ سے گھر کے راستے میں انہیں راشد منہاس روڈ پر وہ سنیما ہال وہیں کا وہیں کھڑا نظر آئے گا اور اس پر لگا بل بورڈ بھی۔

یا پھر وہ اسلام آباد میں اپنے بہت سے پلاٹوں میں سے کسی پر گھر بنا کر وہاں رہنا چاہیں گے جن کی بیلٹنگ کے لئے انہوں نے اپلائی کیا اور قرعہ ان کے نام کا نکل بھی آیا؟ وہ پلاٹ جو کسی ماسٹر پلان کا حصہ نہیں تھے، لیکن انصاف کے نام پر جسٹس گلزار کے نام پر الاٹ ہوں تو سب چلتا ہے؟بقول جعفری جب جسٹس گلزار احمد پاکستان کے چیف جسٹس بنے تو کچھ لوگ پریشان تھے۔

انہوں نے اس غیر قانونی طریقہ کار کا نوٹس لینا شروع کر دیا تھا جس کے ذریعے کنٹونمنٹ کی ایسی زمین جو فوج کے استعمال میں لانے کی گنجائش یا ضرورت نہیں تھی، وہ حکومت کو واپس کرنے کی بجائے اس کے پلاٹ بنا کر شہریوں کو بیچے جا رہے تھے۔

انہوں نے کراچی کی راشد منہاس روڈ پر فوجی زمین کے اوپر ایک سنیما ہال کا بھی نوٹس لیا۔ انہوں نے ایسی غیر قانونی تعمیرات پر ایک مفصل رپورٹ طلب کی۔29 نومبر 2019 کو، جب جسٹس گلزار نے چیف جسٹس کا حلف اٹھایا تو برسوں سے نظر انداز چلے آ رہے شہر کراچی کا ایک بیٹا اب چیف جسٹس بن چکا تھا۔

بقول جعفری، امید کی جا رہی تھی کہ سپریم کورٹ آرٹیکل 140-A کے تحت دائر مقامی حکومتوں کی بحالی پر خصوصی توجہ دے گی جس کے تحت صوبائی حکومتیں فنانس کمیشن کو مقامی حکومتوں کی سطح پر لے جانے کی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے بجٹ کی ذمہ داری اور اختیارات کو ان تک منتقل کریں گی۔

اس معاملے پر کبھی فیصلہ نہیں ہوا اور بااختیار مقامی حکومتیں اب بھی سندھ میں کہیں نہیں، بشمول کراچی شہر کے۔ ہمارے حالیہ چیف جسٹس صاحبان نے اپنے ادوار من مرضی کے مطابق گزارے ہیں، مثلاً سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے خود کو ڈیم انجینیئر اور جیلوں میں کھانے کا ذائقہ چیک کرنے والے ملازم میں تبدیل کر لیا۔

جسٹس گلزار خود کو کراچی میں بلڈنگ کنٹرولر کے طور پر دیکھتے تھے۔ بجائے قومی فنانس ایوارڈز کی طرح صوبائی فنانس ایوارڈز میں دس گنا اضافے کا حکم دینے کے، بجائے اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کا حکم دینے کے، انہوں نے سوچا کہ بہتر یہ ہے کہ یہ اختیارات اوپر کی طرف آئیں، اور ان کی ذات میں مرتکز ہو جائیں۔

کیا عمران کا دورہ، چین کے خدشات دور کر پائے گا؟

عبدالمعز جعفری یاد دلاتے ہیں کہ اگست 2020 میں، جب وہ کراچی میں موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں گرنے والے بل بورڈز پر لیے گئے سو موٹو نوٹس کے ایک کیس میں بنچ کی سربراہی کر رہے تھے، جسٹس گلزار نے پوچھا کہ کیا ایک بہت بڑا بل بورڈ اب بھی راشد منہاس روڈ والے سنیما گھر پر لگا ہوا تھا۔ انہوں نے سب کو یاد دہانی کروائی کہ صرف یہ بل بورڈ نہیں، وہ سنیما گھر بھی غیر قانونی تھا جس پر یہ لگا ہوا تھا۔

کراچی میں، جسٹس گلزار چاہتے تھے کہ ان کے بچپن میں نظر آنے والے بنگلے واپس آ جائیں اور ان کے ایئر پورٹ سے گھر کے رستے میں نظر آنے والے بھدے ٹاور جن میں مڈل کلاس شہری رہتے تھے صفائی دیں کہ یہ یہاں کیوں تھے، بھلے سے شہریوں کے لئے رہنے کی جگہ کی قلت ہو۔ پارکس کے حوالے سے بھی ان کے معیارات بہت بلند تھے اور کراچی کے الہ دین پارک کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اس کا کمرشل استعمال کیوں کیا جا رہا ہے، حالانکہ لیز کے کاغذات میں اس کی گنجائش تھی۔

انہوں نے حکم دیا کہ اس کو گرا دیا جائے، اور یہ درخواست ماننے سے انکار کر دیا کہ ان معاملات کو حکومت پر چھوڑا جائے۔ جہاں پہلے بچے پانی کی گھیسیاں لے رہے تھے، اب وہاں نشئی لوہا چوری کر کے اپنی اگلی پڑیا کے پیسے پورے کر رہے ہیں۔ بقول عبدالمعز جعفری جب نسلہ ٹاور گرانے اور گجر نالے کی اطراف کو انسانوں سے پاک کرنے کا حکم دیا گیا تو انہیں فوجی زمین والا وہ پہلا حکم یاد کروایا گیا جس کے بارے میں انہوں نے سوال کیا تھا اور کنٹونمنٹ اور فوجی زمین کے بارے میں رپورٹ طلب کی تھی لیکن وہ کہیں گم ہو چکی تھی۔

اس کے کچھ ہی عرصے بعد، جسٹس گلزار نے فوج کی ملکیت میں تمام زمینوں پر تمام کاروباری سرگرمیاں روکنے کا حکم دیا تھا۔ انہیں بتایا گیا کہ روک دی گئی ہیں۔ نتیجتاً پہلے جو عمارت فالکن مال کہلاتی تھی، جہاں کسی زمانے میں ایک ایئر بیس تھی اور اب استعمال نہیں کی جاتی، وہ ‘ایئر وار کالج انسٹیٹیوٹ’ بن گیا۔ پھر ہماری توجہ دوبارہ نسلہ کو گرانے پر مرکوز ہو گئی۔ اور چیف جسٹس صاحب کا یہ حکم فراموش کر دیا گیا کہ وہ تمام زمین جو اب فوجی استعمال میں نہیں تھی یہ حکومت کو واپس کی جانی تھی۔

مئی 2020 میں انہوں نے سندھ کی کورونا پالیسی کو وفاق کے اقدامات کے تابع کیا اور صوبے کو حکم دیا کہ وہ عید سے پہلے شاپنگ مالز کھولنے کے لئے اسلام آباد کی اجازت طلب کرے۔ انہوں نے تبصرہ کیا کہ عدالت میں موجود لوگوں کو چاہے ضرورت نہ ہو لیکن کچھ لوگوں کو عید پر شاپنگ کرنا ہوتی ہے، اور یہ بھی کہا کہ ویک اینڈ پر مالز بند کرنا امتیازی سلوک تھا کیونکہ تمام دن برابر ہوتے ہیں۔

عید کے بعد جب متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا تو انہوں نے وفاقی حکومت کو حکم دیا کہ اب کووڈ کو سنجیدگی سے لیا جائے، اور ویک اینڈ پر شاپنگ مالز کھلے رکھنے کا حکم واپس لے لیا اور تاویل یہ کی کہ اب عید گزر چکی ہے۔

Back to top button