افغان طالبان نے خواتین اور تاجروں کی زندگیاں عذاب کیسے بنائیں؟

 

 

 

طالبان حکومت کی جانب سے عائد سخت پابندیوں نے پاکستان اور ایران سے واپس لوٹنے والے افغان مہاجرین کی زندگیاں عذاب بنا دی ہیں۔ طالبان کی غیر انسانی پالیسیوں نے جہاں خواتین کو سماجی اور تعلیمی طور پر دیوار سے لگا دیا ہے وہیں وطن واپس لوٹنے والے تاجر اور مزدور معاشی بے یقینی کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ افغان خواتین پر تعلیم کے دروازے بند ہو چکے ہیں اور ناموافق کاروباری ماحول کی وجہ سے صاحب حیثیت افغان بھی فاقہ کشی پر مجبور نظر آتے ہیں۔

 

مبصرین کے مطابق پاکستان اور ایران سے اپنے وطن واپس جانے والے افغان باشندوں کو شدید ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خاص کر پاکستان میں زیر تعلیم اور ملازمت کرنے والی خواتین کا افغانستان میں مستقبل تاریک ہو چکا ہے کیونکہ افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے خواتین کی تعلیم سمیت دیگر معاملات پر پابندی سے ہزاروں خواتین گھروں میں بیٹھنے پر مجبور ہیں جبکہ پاکستان میں اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر افغانستان جانے والی خواتین پر تعلیم کے دروازے مکمل بند ہو چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق افغانستان پہنچنے والی بیشتر خواتین نے تعلیم مکمل کرنے کیلئے دوبارہ ویزا لے کر پاکستان واپس آنے اور تعلیم مکمل کرنے پر غور شروع کر دیا جبکہ متعدد خواتین کی جانب سے اس حوالے سے پاکستانی سفارت خانے سے بھی رابطوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ افغان خواتین حکومت پاکستان سے درخواست کررہی ہیں کہ تعلیم ادھوری چھوڑ کر اپنے خاندان کے ساتھ افغانستان واپس جانے والی خواتین کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر واپس پاکستان آ کر تعلیم پوری کرنے کی اجازت دی جائے۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق صرف افغان خواتین ہی افغان طالبان کی جابرانہ پالیسیوں سے متاثر نہیں ہوئیں بلکہ کاروباری حضرات کو بھی افغانستان میں نئے سرے سے کام شروع کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ خاص کر اپنے ذاتی مکانات کے حصول کے لئے افغان باشندے تشویش میں مبتلا ہیں کیونکہ بعض افغان تاجروں کی پراپرٹی ابھی تک پاکستان میں فروخت نہیں ہوئی اور وہ اپنی جائیداد دوستوں یا رشتہ داروں کے حوالے کر کے واپس گئے ہیں۔ اسی لئے ان کا تمام سرمایہ پاکستان میں ہی موجود ہے۔ پشاور سمیت صوبے کے دیگر اضلاع سے ہزاروں کی تعداد میں ایسے افغان تاجر واپس جاچکے ہیں جن کی جائیداد اور کاروبار تا حال یہاں موجود ہے اور پراپرٹی کے ریٹ گرنے کی وجہ سے ان کو فروخت میں مشکلات کا سامنا ہے۔ کیونکہ جو جائیداد افغان تاجروں نے کروڑوں روپے میں خریدی تھی اب انھیں اپنی پراپرٹی کا مناسب ریٹ نہیں مل رہا کیونکہ افغان باشندوں کی بے دخلی کی وجہ سے پشاور اور گردونواح میں پراپرٹی کا ریٹ 50 فیصد تک گرچکا ہے۔ اس وجہ سے پاکستان سے بے دخل کئے جانے والے افغانی اپنی پراپرٹی فروخت کرنے کی بجائے دوست احباب اور رشتہ داروں کے حوالے کرنے پر مجبور ہیں تاکہ مالی نقصان سے بچا جا سکے تاہم وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے اب انھیں افغانستان میں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق پراپرٹی کی قیمتوں میں 50 فیصد تک کمی نے سرمایہ کاری کو منجمد کر دیا ہے۔ اس وجہ سے کئی افغان تاجر پاکستان سے اپنا سرمایہ نکالنے میں ناکام رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ افغانستان واپس جا کر نئے کاروبار شروع کرنے میں بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کی معاشی پالیسیوں اور غیر یقینی حالات نے نجی سرمایہ کاری کو مزید غیر محفوظ بنا دیا ہے۔

 

مبصرین کے بقول افغانستان میں جہاں افغان باشندوں کو رہائش اور کاروبار کے حوالے سے مسائل درپیش ہیں وہیں افغان طالبان کی جانب سے خواتین کی تعلیم اور ملازمت پر عائد پابندیوں نے ان کی زندگیاں مزید اجیرن بنا دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پشاور میں افغان خواتین کی ایک بڑی تعداد پرائیویٹ اداروں میں ملازمت کر رہی تھی جس میں نجی اسپتالوں میں نرسز کی ایک بڑی تعداد بھی افغان خواتین پر مشتمل تھی۔ تاہم افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے خواتین کی تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں لگائی جانے والی پابندیوں کی وجہ سے ان خواتین کو سخت مالی مشکلات سمیت مستقبل کی فکر بھی لاحق ہوگئی ہے کیونکہ افغان طالبان کی جابرانہ پالیسیوں کی وجہ سے جہاں خواتین کیلئے تعلیم کا حصول مشکل ہو گیا ہے وہیں ملازمت پیشہ خواتین بھی گھروں میں محصور ہو کر رہ گئی ہیں جن سے ان کی پیشہ وارانہ زندگی برباد ہو گئی ہیں جس سے ایک نیا معاشرتی بحران س اٹھاتا دکھائی دیتا ہے۔ جبری واپسی،  بنیادی سہولتوں کی شدید کمی اور خواتین کی تعلیم اور روزگار پر عائد پابندیوں نے نہ صرف خواتین کی ذاتی آزادیوں کو محدود کیا ہے بلکہ پورے خاندانوں کی بقا پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ مبصرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو افغان نوجوانوں اور خواتین میں شدید مایوسی اور نقلِ مکانی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔

 

Back to top button