چیف جسٹس آفریدی کی اصول پسندی الٹا ان کے گلے کیسے پڑ گئی؟

چیف جسٹس یحیی آفریدی اپنا عہدہ سنبھالنے کے فوری بعد جلدی میں لیے گے کچھ فیصلوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوتے نظر آتے ہیں۔ یاد رہے کہ قاضی فائز عیسی کی جگہ چیف جسٹس بنتے ہی جسٹس یحیی آفریدی نے اصولوں کا جھنڈا بلند کرتے ہوئے تین رکنی ججز کمیٹی میں سے جسٹس امین الدین خان کو نکال کر منیب اختر کو شامل کر دیا تھا، یوں اس اہم ترین کمیٹی میں دو عمراندار ججز یعنی جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کی اکثریت ہو گئی جو اب نئے چیف جسٹس کے گلے پڑ گئی ہے۔

عمران اور انکی تحریک انصاف کے لیے آخری حد تک جانے والے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منصور اختر نے بطور چیف جسٹس آفریدی کو ایک خط لکھتے ہوئے یاد دلایا ہے کہ 31 اکتوبر کو ججز کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کا فل بینچ 4 نومبر کو حکومت کی 26 ویں آئینی ترمیم کا جائزہ لے گا۔ لیکن چار نومبر گزر گئی اور اس کیس کی کاز لسٹ بھی جاری نہیں کی گئی۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں شامل جسٹس منصور شاہ اور جسٹس منیب نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ججز کمیٹی کے فیصلے کے مطابق 26 ویں ترمیم کا کیس فل کورٹ میں لگانے کا مطالبہ کیا یے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ 2  سینئیر ترین ججز نے 26 اکتوبر کے اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ 26 ویں ترمیم کے خلاف کیس 4 نومبر کو سپریم کورٹ کی فل کورٹ سنے گی اور یہ فیصلہ اب بھی برقرار ہے۔ ججز کے خط  کے مطابق کمیٹی اجلاس میں کیے گئے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے کاز لسٹ جاری کی جانی چاہیے اور  اسی ہفتے 26 ویں ترمیم کے خلاف درخواستیں فل کورٹ کے سامنے لگائی جائیں۔

جسٹس منصور اور جسٹس منیب اختر نے اپنے خط میں 31 اکتوبر کے میٹنگ منٹس رجسٹرار کو ویب سائٹ پر جاری کرنے کی ہدایت بھی کر دی ہے جس کے بعد جسٹس یحیی آفریدی کے لیے مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ چیف جسٹس کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے 26 اکتوبر کے فل کورٹ اجلاس میں اس تجویز کی مخالفت کی تھی کیونکہ 26 ویں ترمیم کے بعد تمام آئینی تنازعات اب آئینی بینچ نے ہی سننا ہیں، تاہم چونکہ وہ اقلیت میں تھے اس لیے دو ججز نے اکثریتی فیصلہ سنا دیا جس پر عمل درامد کے لیے اب دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

تاہم دوسری جانب حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ 4 نومبر کو پارلیمنٹ کی جانب سے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترمیم کے بعد 3 رکنی ججز کمیٹی کی ہئیت ایک مرتبہ پھر تبدیل ہو چکی ہے اور اب جسٹس منیب اختر اس کے ممبر نہیں رہے لہذا کمیٹی میں یوتھیے ججز کی اکثریت بھی ختم ہو گئی ہے۔

یاد رہے کہ ججز کمیٹی میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور سینیئر ترین جج کے علاوہ چیف جسٹس کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ اپنی مرضی کا کوئی تیسرا جج شامل کر لیں۔ فائز عیسی نے جسٹس امین الدین خان کو کمیٹی میں شامل کیا تھا جب کہ یحی آفریدی نے عہدہ سنبھال کر ان کی جگہ منیب اختر کو کمیٹی میں گھسا دیا جنہوں نے اب منصور علی شاہ کے ساتھ مل کر اپنے ہی چیف جسٹس کے خلاف بغاوت کر دی ہے۔

یوتھیا ازم کا شکار جسٹس منیب اختر ججز کمیٹی سے دوبارہ فارغ

اس حوالے سے سینیئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ یحییٰ آفریدی ایک بڑی جنگ کے بعد چیف جسٹس کے عہدے تک پہنچے ہیں اور اب ان کی قابلیت اصول پسندی کی اصل آزمائش شروع ہوچکی ہے۔ ایسے میں نئے نویلے چیف جسٹس کی عہدہ سنبھالنے کے ساتویں روز جیل اصلاحات کی میٹنگ۔ انتظامی امور پر  کمیٹی کی تشکیل اور احد چیمہ کے علاوہ 9 مئی کی سابقہ ملزمہ خدیجہ شاہ کی شمولیت عدلیہ کی انتظامیہ میں مداخلت اور فوج کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں اچھا شگون نہیں سمجھا جا رہا۔

عاصمہ کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس ایک متوازن شخصیت کے حامل انسان ہیں جن سے تحریک انصاف غیر معمولی توقعات جوڑے ہوئے ہے جب کہ حکومت بھی مطمئن دکھائی دیتی ہے کہ کم از کم جسٹس یحییٰ ایڈونچرز کے قائل نہیں۔

لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ چیف جسٹس کے ساتھی سینیئر جج ہی ایڈونچر پر اتر ائے ہیں لہٰذا اب یحی آفریدی کےلیے بھی صورت حال کو سنبھالنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایک حکومتی شخصیت نے دلچسپ تبصرہ کیا کہ جسٹس یحییٰ نے برے حالات میں متوازن فیصلے دیے ہیں لہٰذا ان سے برے کی توقع نہیں۔ ان حالات میں جسٹس یحییٰ کیا پالیسی اختیار کرتے ہیں کہ سب خوش رہیں یہ اہم ہو گا۔ فیصلے متوازن نہیں انصاف پر مبنی ہونا چاہییں، اسی کی اس وقت ضرورت ہے۔

Back to top button