امریکہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے پر کیسے راضی ہوا؟

ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ سے کوئی بھی رعایت مذاکراتی میز پر نہیں بلکہ اپنی دفاعی اور میزائل طاقت کے ذریعے حاصل کی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی حالیہ سفارتی اور سیاسی کامیابیاں دراصل اس کی عسکری صلاحیتوں، قومی استقامت اور مضبوط دفاعی حکمت عملی کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر ایران آج مضبوط پوزیشن میں مذاکرات کر رہا ہے تو اس کی بنیادی وجہ ملک کی میزائل قوت اور دفاعی تیاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران مخالف فریق کی زبانی یقین دہانیوں یا کاغذی ضمانتوں پر انحصار نہیں کرتا بلکہ صرف عملی اقدامات کو اہمیت دیتا ہے۔ ان کے مطابق ماضی کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ صرف تحریری معاہدوں یا سیاسی وعدوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، اس لیے ایران اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے زمینی حقائق اور عملی اقدامات کو ترجیح دیتا ہے۔
محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ جب تک امریکا یا کوئی دوسرا فریق ایران کے خلاف کوئی جارحانہ اقدام نہیں کرتا، ایران بھی کشیدگی بڑھانے کی طرف نہیں جائے گا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے مفادات یا سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو ملک اپنے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ایرانی سپیکر نے اپنے بیان میں کہا کہ کسی بھی معاہدے میں حقیقی فاتح وہی فریق ہوگا جو معاہدے کے اگلے دن بھی اپنی دفاعی تیاری برقرار رکھے اور ہر ممکن صورتحال کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ امن اور استحکام صرف اسی وقت برقرار رہ سکتے ہیں جب قومی دفاع مضبوط ہو۔
خیال رہے کی ایرانی سپیکر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کی بحالی، پابندیوں میں نرمی اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات جاری ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار دعویٰ کر چکے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی مفاہمت کے اہم نکات پر پیش رفت ہوئی ہے اور آبنائے ہرمز، افزودہ یورینیم اور جوہری سرگرمیوں سے متعلق معاملات پر بات چیت آگے بڑھ رہی ہے۔ تاہم ایرانی حکام مسلسل امریکی بیانات کی بعض تفصیلات سے اختلاف کرتے رہے ہیں اور تہران کا مؤقف ہے کہ حتمی معاہدے سے قبل تمام شرائط اور ضمانتوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔
سیاسی و دفاعی مبصرین کے مطابق محمد باقر قالیباف کا حالیہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران مستقبل کے کسی بھی معاہدے میں اپنی عسکری طاقت اور دفاعی صلاحیت کو مرکزی حیثیت دینا چاہتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ تہران کی کوشش ہے کہ سفارتی پیش رفت کے باوجود اپنی دفاعی پوزیشن کمزور نہ ہونے دے اور مذاکرات کے دوران زیادہ سے زیادہ سٹریٹجک فوائد حاصل کرے۔
