ریاست فیصلہ کرے قومی مفاد اہم ہے یا ن لیگ کے مفاد کو تحفظ دینا : بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ریاست نے فیصلہ کرنا ہے قومی مفاد اہم ہے یا ن لیگ کے مفاد کو تحفظ دینا اہم ہے ۔ ہم اپنے ووٹ پر ڈاکا مارنے نہیں دیں گے، یہ ممکن نہیں کہ چوہدری یاسین شہر سے جیتیں اور آبائی حلقے سے ہار جائیں۔پیپلزپارٹی کے کامیاب امیدواروں کومبارکباد دیتا ہوں۔
مظفر آباد میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہم قومی مفاد میں حکومت پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ن لیگ کے مفاد میں ہم کسی کے ساتھ کھڑے ہونے کےلیے تیار نہیں،ن لیگ کے مفاد کے نام پر جو ملک کا حال ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ تباہی پھیلاتے ہیں،پھر امن کا نام دیتے ہیں،آزادکشمیر میں جو ہورہا ہے،کیا اس کو جمہوریت کا نام دے سکتے ہیں؟ ووٹ کی گنتی جو بھی ہو، پیپلز پارٹی اکثریت سے جیت چکی ہے، آزاد کشمیر کے عوام باشعور ہیں،ہم اپنی سیٹیں چھین کر رہیں گے۔پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جمہوریت کےلیے قربانیاں دی ہیں، ہم اپنے ووٹوں کا تحفظ کریں گے، ہم کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے، دھاندلی سے متعلق میرے پاس ویڈیو ثبوت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرپور کی عوام نے انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لیا، عوام کی خدمت ہمارا مشن ہے، عوام کا کام تھا پیپلز پارٹی کو ووٹ دینا، ہمارا کام ان کے ووٹوں کا تحفظ کرنا ہے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھاکہ ہم پیچھےہٹیں گے نہ کسی کے سامنے جھکیں گے، ہم اپنی سو فیصد نشستیں واپس لےکر رہیں گے، ہم آزاد کشمیر کو کبھی مقبوضہ کشمیر نہیں بننے دیں گے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ 30 پولنگ سٹیشنز پر قبضہ کیا اور پیپلز پارٹی کے کارکن کو شہید کیا گیا، اگر ایسے حالات ہوں گے تو یہ آزاد کشمیر نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر لگے گا، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ساری سیاسی جماعتیں بیوقوف ہیں۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھاکہ عوام دیکھ رہےہیں کہ آپ کشمیر کے ساتھ کیا کر رہے ہیں، یہ دھاندلی کی کہانی آج سے شروع نہیں ہوئی۔ ن لیگ کے مفاد کو ترجیح دینا آج سے شروع نہیں ہوا۔ آزاد کشمیر کے صدر کا الیکشن آئین کےمطابق ہونا چاہیے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ ان کا یہ پہلے سے پلان تھاکہ دباؤ آزاد کشمیر کو،خوف پھیلاؤ آزادکشمیر میں،مایوسی پھیلائیں آزاد کشمیر میں،بائیکاٹ کروائیں آزاد کشمیر میں تاکہ لوگوں کی تعداد کم ہو اور جتنی تعداد کم ہوگی اتنی آسانی ہوگی انہیں دھاندلی کرنےمیں، انتی آسانی ہوگی زور زبردستی سے حکومت قائم کرنے میں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ آزاد کشمیر کے تشخص،عوامی حقوق اور جمہوری وقار کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جانا چاہیے۔امن و امان کی بحالی،عوام کے جان و مال کا تحفظ اور نوجوانوں کے مسائل کا آئینی و پرامن حل وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آزاد کشمیر میں شفاف انتخابات ہوئے، ن لیگ کو واضح برتری حاصل ہوئی: رانا ثنا اللہ
انہوں نے واقعات کی تحقیقات کےلیے عدالتی یا آزاد تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کرتےہوئے کہاکہ ذمہ داروں کا تعین کیاجائے اور قانون ہاتھ میں لینےوالوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
