پیکا اور تعزیرات پاکستان ایکٹ کے تحت نورین نیازی کیخلاف مقدمہ درج

بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی کے خلاف این سی سی آئی اے اسلام آباد میں پیکا 2016 اور تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق نورین نیازی نے پوڈکاسٹ انٹرویو کے دوران پاکستان کی ریاست اور اس کے اداروں، بشمول مسلح افواج، کے خلاف مبینہ طور پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات عائد کیے، جن کا مقصد ریاست پر عوام کے اعتماد کو متزلزل کرنا اور سراسیمگی پھیلانا تھا۔
ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نورین نیازی نے سوشل میڈیا کے ذریعے مبینہ طور پر جھوٹا، اشتعال انگیز، توہین آمیز اور دھمکی آمیز مواد پھیلایا، جبکہ ریاستی اور سکیورٹی اداروں کے خلاف منظم پروپیگنڈا بھی کیا۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ نورین نیازی نے معرکۂ حق کے دوران افواجِ پاکستان کی کامیابیوں کو جھٹلانے اور مبینہ طور پر جھوٹا بیانیہ پھیلا کر عوام میں ریاستی اداروں کے خلاف نفرت، خوف اور بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کی۔
دستاویز کے مطابق نورین نیازی کو متعدد بار نوٹس جاری کرکے بیان ریکارڈ کرانے اور تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت کی گئی، تاہم ابتدائی شواہد کی بنیاد پر بادی النظر میں جرم بنتا پائے جانے پر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
بھارتی کاکروچ جنتا پارٹی کے پاکستان میں چرچے کیوں؟
این سی سی آئی اے کے مطابق مقدمے میں دیگر ممکنہ کرداروں کا تعین بھی تفتیش کے دوران کیا جائے گا۔
