جسٹس منصور علی شاہ PTIکوواپس اقتدار کیسے دلوائیں گے؟

ماضی میں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو باپ قرار دینے والی تحریک انصاف نےاب اپنا ابا بدلنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے دوسرے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ سے اپنی امیدیں وابستہ کر لی ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ قریب آنے کے ساتھ ہی پی ٹی آئی کو اقتدار کے سہانے خواب شدت سے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ 25 اکتوبر کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی ریٹائرمنٹ کو دیکھتے ہوئے تحریک انصاف نے دسمبر میں وفاقی حکومت سنبھالنے کے دعوے شروع کر دئیے ہیں۔

عمران خان کو فوجی عدالت کے ڈراؤنے خواب کیوں آنے لگے؟

سینئر صحافی انصار عباسی کی ایک رپورٹ کے مطابق  حکومت کی ممکنہ تبدیلی کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر نظریں قاضی فائز عیسیٰ کے بعد سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں۔ اگر سپریم کورٹ کی جانب سے ایسا کوئی فیصلہ ہوتا ہے تو یہ حکمران جماعت نون لیگ کیلئے ایک اور ’’عدالتی تختہ پلٹ‘‘ لیکن پی ٹی آئی کیلئے ’’انصاف کی فراہمی’’ ہوگی۔

انصار عباسی کے بقول حالیہ دنوں میں، نون لیگ سے تعلق رکھنے والے وزیر دفاع خواجہ آصف نے خدشہ ظاہر کیا کہ سپریم کورٹ رواں سال اکتوبر نومبر کے بعد 8؍ فروری کے انتخابات کو ہدف بنا سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سپریم کورٹ کے انتخابات بارے کسی فیصلے کے نتیجے میں شہباز حکومت کے خاتمے کا امکان ہے۔ اس کے برعکس، پی ٹی آئی رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپنی پارٹی کی طرف سے یہ امید ظاہر کی ہے کہ عدلیہ پی ٹی آئی کو اس کا ’’چوری شدہ‘‘ مینڈیٹ واپس دے گی اور پارٹی رواں سال دسمبر میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی۔

انصار عباسی کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ نون لیگ کا خوف اور پی ٹی آئی کی امیدیں قاضی فائز عیسیٰ کے بعد سپریم کورٹ کے آئندہ چیف جسٹس منصور علی شاہ سے وابستہ ہیں کیونکہ موجودہ چیف جسٹس اکتوبر کے دوسرے نصف یعنی 25 اکتوبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ کے بعد منصور علی شاہ چیف جسٹس بنیں گے۔

انصار عباسی کا مزید کہنا ہے کہ نون لیگ اور پی ٹی آئی دونوں کو توقع ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ کی قیادت میں سپریم کورٹ 8؍ فروری کے عام انتخابات کے حوالے سے تنازعات اور کیسز کی سماعت ارجنٹ بنیادوں پر کریں گے جس سے پی ٹی آئی کے حق میں اور نون لیگ کیخلاف فیصلہ آ سکتا ہے کیونکہ جسٹس منصور علی شاہ کی طرف سے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس میں حال ہی میں لکھے گئے اکثریتی فیصلے کے بعد، وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کو وہ مل گیا جو اس نے سپریم کورٹ سے نہیں مانگا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ایجنڈا تھا کہ 8 فروری کے انتخابات کو ہدف بنایا جائے گا اور اس کیلئے اکتوبر یا نومبر کا انتظار کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ کے 12 جولائی کو پی ٹی آئی کے حق میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کے حوالے سے خواجہ آصف نے عدالتوں سے کہا کہ وہ ’’سیاسی فیصلے‘‘ سنانے سے گریز کریں اور ایسے فیصلے سنائیں جن سے اُن کے احترام میں اضافہ ہو۔ خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ اس وقت عدلیہ نے 2018 کے انتخابی نتائج کا نوٹس کیوں نہیں لیا؟  کیا انہوں نے 2018 کے عام انتخابات کا نتیجہ نہیں دیکھا؟ تاہم کچھ دن بعد، پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر نے امید ظاہر کی کہ مشکلات کا شکار پارٹی کے حالات بہتر ہو جائیں گے اورموجودہ حکمرانوں کو بے دخل کرنے کیلئے درکار ’’جادوئی نمبر‘‘ کے حصول کے بعد پی ٹی آئی دسمبر میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ دسمبر تک صورتحال بہتر ہو جائے گی اور یقین ہے کہ ہمیں قومی اسمبلی میں حکومت بنانے کیلئے کافی نشستیں مل جائیں گی۔ انہوں نے 8 فروری کے انتخابی نتائج میں مبینہ ہیرا پھیری کیخلاف پارٹی کی درخواستوں کو سمیٹنے کیلئے عدلیہ سے امیدیں وابستہ کیں۔ اسد قیصر نے کہا کہ ’’فارم 45کی بنیاد پر الیکشن جیتنے والے کامیاب امیدواروں‘‘ کی درخواستوں پر جلد فیصلے کیلئے پی ٹی آئی عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن ٹربیونلز میں دائر درخواستوں پر فیصلے سے قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ارکان کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سال دسمبر تک پی ٹی آئی مرکز میں اپنی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہو سکتی ہے۔

تاہم مبصرین کے مطابق اسد قیصر کو اصل امیدیں سپریم کورٹ سے نہیں بلکہ انھوں نے حقیقت میں جسٹس منصور علی شاہ سے اپنی امیدیں باندھ لی ہیں کہ وہ ہی انھیں دوبارہ اقتدار کے ایوانوں میں واپس لائیں گے۔

Back to top button