9 مئی کے ملزمان کو اب تک سزا سے کس نے بچا رکھا ہے؟

9مئی کے واقعات کوایک سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ تاہم تمام تر ویڈیوز اور شواہد موجود ہونے کے باوجود حیرت انگیز طور پرکسی ملوث فرد کو ابھی تک سزا نہیں ہوئی۔ کوئی بھی شرپسند اپنے انجام تک نہیں پہنچا۔ تاریخوں پر تاریخیں اور ضمانتوں وحاضری لگوانے کالامتنا ہی سلسلہ جاری وساری ہے۔ ایک طرف سے ’’ہم ملوث افراد کو نہیں چھوڑیں گے‘‘ کے لاحاصل عزم کا اظہار کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف سے ’’ ہم کسی سے نہیں ڈرتے‘‘ کی بیان بازیوں کی لفظی جنگ جاری ہے جو ملک میں بلاوجہ کے عدم استحکام کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اس صورتحال سے قوم تو حیران وپریشان ہے ہی لیکن بیرونی سرمایہ کار بھی تذبذب اور بےیقینی کی وجہ سے سرمایہ کاری کیلئے قدم نہیں بڑھا رہے۔ تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہورہا ہے وہ کون ہیں جو 9 مئی کے ملزمان کی سزا کے عمل میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ وہ کون ہیں جو اداروں میں بیٹھ کر اس شرپسند ٹولے کی سہولتکاری کرتے ہوئے انھیں سزاؤں سے بچائے ہوئے ہے۔ کیا ایسے عناصر اتنے طاقتور ہیں کہ انکی مرضی کے بغیر ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام ناپید ہوچکا ہے۔ ملک میں عدم استحکام پیدا کرنیوالے دندناتے پھررہے ہیں۔ملک انارکی کی طرف بڑھ رہا ہے۔آخر کب اور کون ایسے عناصر کو لگام دے گا۔ تاکہ جہاں ریاست دشمن عناصر اپنے انجام کو پہنچیں اور ملک میں سیاسی و معاشی استحکام پیدا ہو سکے۔

جسٹس منصور علی شاہ PTIکوواپس اقتدار کیسے دلوائیں گے؟

روزنامہ جنگ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک طبقہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی کانفرنس پرکیوں معترض ہے۔ آخرانہوں نےا یسا کیا کہا ہے جو ملکی سلامتی اور امن کے قیام کے خلاف ہے۔ کیا دہشت گردوں اور انکے سہولت کاروں کیخلاف کارروائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ کیا اس اہم ترین معاملے پربھی سیاست چمکانا جائز عمل ہے؟ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہےکیا کوئی بتاسکتا ہے کہ دنیا میں ایسا کوئی قانون موجود ہے جو دہشت گردی کو جائز قرار دیتا ہو یا وہاں دہشت گردوں کےخلاف سخت آپریشنز اور کارروائیاں نہ ہوتی ہوں۔ شاید ایسا کوئی ملک سوائے پڑوسی ملک افغانستان کے دنیا میں موجود نہیں۔ تاہم پاکستان جیسے ملک میں جہاں دہشتگردی ایک بار پھر اپنے پر پھیلا رہی ہے وہاں اپوزیشن جماعتیں صرف دباو بڑھانے اور اپنے مطالبات منوانے کیلئے دہشتگردی کے معاملے پر بھی سیاست کھیل رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جہاں تک آپریشن عزم استحکام کا تعلق ہے تو یہ کئی بار واضح کیا جاچکا ہے کہ اس میں کسی کے بے گھر ہونے کا زیروپرسنٹ بھی کوئی امکان نہیں ہے۔ تاہم جولوگ دہشت گردوں اور انکے سہولت کاروں کے خلاف اس آپریشن کو رکوانے کی کوشش یا بیان بازی کررہے ہیں وہ یا توسیاسی دکان چمکانے کی غرض سے کوشاں ہیں یا پھر انکے کوئی اور مقاصد ہیں۔ ورنہ سب دیکھتے ہیں کہ ملک میں روزانہ دہشت گردی کے واقعات ہورہے ہیں جن میں پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کے علاوہ ایف سی اور پولیس اہلکار جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں گوکہ ان خوارجی دہشت گردوں کیخلاف آپریشن اور کارروائیاں توجاری ہیں ،عزم استحکام کا نام تو دہشت گردوں اور انکےسہولت کاروں کے خلاف منظم کارروائیوں اور ملک کو ایسے بدبختوں سے صاف کرنے اور امن وامان واستحکام کیلئے دیا گیا ہے۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ جو مرضی کر لیں حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ یہ طے کر چکی ہے کہ ملک میں دہشت گردی میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث ہونیوالوں اور ملک میں عدم استحکام پیدا کرنیوالوں کو کوئی رعایت نہیں دی جائےگی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آہستہ آہستہ پی ٹی آئی کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آنا شروع ہو گیا ہے اسی لئے تحریک انصاف کے جلسوں اور احتجاجی ریلیوں میں ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام کی شمولیت کم سے کم۔ہوتی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ قوم اپنے محافظوں کے ساتھ کھڑی ہے اور اس کو نظر آرہا ہے کہ کون ملک اور قوم کیلئے جانوں کے نذرانے پیش کرتے جام شہادت نوش کرتاہے اور کون ملک اور نقصان پہنچانے کیلئے بیرونی طاقتوں کے ساتھ مل کر ریاست کیخلاف سازشیں کرتا ہے۔SIFCمیں آرمی چیف اور اعلیٰ عسکری قیادت کا کیا کردار ہے اور وہ کس طرح ملکی معیشت کو بحالی کی پٹری پر چڑھانے کیلئے کوشاں ہیں۔ اسمگلنگ کے خاتمےکیلئے پاک فوج اعلیٰ قیادت کی ہدایات پر دن رات مصروف عمل ہے۔ بلوچستان اور کے پی کے میں تعلیم،پینے کے صاف پانی، صحت اور مواصلات کے نظام میں بہتری کیلئےپاک فوج کاکتنا اہم بلکہ بنیادی کردار ہے۔ قوم کو یہ بھی معلوم ہےکہ پس ماندہ علاقوں میں ضروری اور اہم تعلیم کا انتظام کرکے پاک فوج نے وہاں کے نوجوانوں کو فوج میں سپاہی سے لے کر آفیسر تک بھرتی ہونے کے کس طرح مواقع فراہم کیے ہیں۔ تاہم یہاں عسکری قیادت کی ملکی معاشی استحکام کیلئے تمام تر کوششوں کے باوجود نہ صرف انھیں ہدف تنقید بنایا جاتا ہے بلکہ ان پر بے بنیاد الزام تراشی بھی کی جاتی ہے لیکن کسی کیخلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق متحدہ عرب امارات کا یہ اقدام نہایت قابل تحسین ہے کہ وہاں پاکستان، پاک فوج کی اعلیٰ قیادت اور حکومتی شخصیات کے خلاف سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی جس کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں دینے کا بھی اعلان کیاگیا ہے۔ امید ہے کہ دیگر عرب ممالک، یورپ ، برطانیہ اور امریکہ بھی اس طرح کے اقدامات کا جلد اعلان کریں گے۔

Back to top button