اداکارہ عفت عمر نے سیاست کیلئے خود کو نااہل قرار دیدیا

خواتین کے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے والی پاکستانی اداکارہ عفت عمر نے خود کو سیاست کیلئے نااہل قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ آئین کی باتیں میرے سر کے اوپر سے گزر جاتی ہیں، لیکن انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہوں گی۔
اداکارہ نے بتایا کہ کہ وہ سیاست کرنا بہت مشکل کام ہے اس لیے وہ سیاست دانوں کی عزت کرتی ہیں لیکن وہ خود سیاست دان بننے کی اہل نہیں ہیں۔
عفت عمر اکثر و بیشتر سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا کھُل کر اظہار کرتی ہیں، انہیں کئی اکثر مداحوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے، تاہم وہ کسی کی بھی پروا کیے بغیر اپنی رائے دیتی ہیں۔
انہیں اکثر اوقات خواتین، سیاست، سماجی مسائل اور دیگر موضوعات پر بات کرتے ہوئے دیکھا گیا، حال ہی میں انہوں نے سما ٹی وی کے پروگرام ’حد کردی‘ میں شرکت کی جہاں انہوں نے میزبان مومن ثاقب کے پُرمزاح سوالوں کا اپنے جواب اپنے انداز میں دیا۔
مومن ثاقب نے عفت عمر سے بھارتی فلم رئیس کی آفر ہونے سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ انہیں کبھی بھارتی فلموں میں کام کرنے کی کوئی آفر نہیں ہوئی، تاہم ماہرہ خان سے قبل ایمان علی کو یہ فلم آفر ہوئی تھی، مجھے اس بات کا دُکھ نہیں ہے، شاید میں اس قابل نہیں ہوں گی۔
اداکارہ نے کہا کہ بالی ووڈ کا شمار دنیا کی بڑی انڈسٹری میں ہوتا ہے، انہیں کبھی بھی بھارت سے آفر آئی تو وہ ضرور کام کریں گی، لیکن اب حالات اتنے خراب ہوگئے ہیں کہ شاید ہی کوئی فلم آفر ہوں، مجھے اپنی زندگی میں پاک بھارت تعلقات اچھے ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہے۔
میزبان نے سیاست میں قدم رکھنے سے متعلق سوال کیا تو عفت عمر نے کہا کہ میں سیاست میں نہیں جانا چاہتی، بہت مشکل کام ہے، میں سیاست دانوں کی عزت کرتی ہوں، بہت پڑھنا پڑتا ہے، اور سیاست دان بننا بہت مشکل کام ہے، جیلوں میں بھی جانا پڑتا ہے، لیکن میں جیل میں نہیں جانا چاہتی۔
اداکارہ نے کہا کہ سیاست میں ایکٹ اور جی ڈی پی کی باتیں میرے سَر کے اوپر سے گزر جاتی ہیں، میں سیاست میں جا کر کیا کروں گی؟ عفت نے کہا کہ وہ سیاست میں جانے کی اہل نہیں ہیں، مجھ سے جتنا ہوگا میں بلوچستان، لاپتا افراد اور خواتین کے حقوق اور ان کے مسائل کے بارے میں بولتی ہوں۔
ایک اور سوال کے جواب پر انہوں نے کہا کہ معاشرے میں سب سے بڑی خرابی عدم برداشت ہے، ہمارے خیالات جنونی ہو گئے ہیں، مجھ میں بہت زیادہ برداشت ہے، جہاں اچھی بات نظر آئے وہ سیکھنا چاہتی ہوں، اور ہماری بُری باتیں ماننا چاہتی ہوں، اب یہ دنیا ڈیڑھ انچ کی مسجد بنا کر نہیں رہ سکتی۔

Back to top button