صحافتی ناقدین کو دبانے کیلئے صدارتی آرڈیننس کا نفاذ

وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے اپنا فاشسٹ ایجنڈا آگے بڑھاتے ہوئے اپنے سیاسی اور صحافتی ناقدین کو ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے دبانے اور خوفزدہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے حکومت اور حکومتی اداروں پر تنقید کو قابل دست اندازی جرم قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکومت نے بدنام زمانہ ہیکا قانون یعنی پریوینشن آف الیکڑانک کرائمز ایکٹ 2016 میں ایک ترمیم کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد حکومت، عدلیہ، فوج اور دیگر اداروں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے والوں کے خلاف فوری کارروائی ہو گی۔ ترمیم کے ذریعے تنقید کرنے والوں کو 3 سے 5 سال تک قید کی فوری سزا دی جا سکے گی۔
یاد رہے کہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ وہ بدنام زمانہ قانون ہے جسے وفاقی تحقیقاتی ادارہ حکومت کے سیاسی اور صحافتی ناقدین کا احتساب کرنے کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ تاہم اب پیکا قانون میں ترمیم کے ذریعے پولیس اور کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ کو بھی تنقید کرنے والوں کو کردار کشی کے الزامات پر فوری گرفتار کرنے کا اختیار حاصل ہو جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ایک حکومتی اجلاس میں کیا گیا جس کی بنیادی وجہ حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر وزیراعظم، خاتون اول اور مراد سعید کے حوالے سے چلائی جانے والی مہم ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ صدارتی آرڈینینس آنے کے بعد محض ایک سوشل میڈیا پوسٹ، ٹویٹ یا خبر کسی شخص کو گرفتار کرنے اور جیل بھیجنے کے لیے کافی ہوگی۔
حلیم عادل شیخ نے پی ٹی آئی سے استعفیٰ دیدیا
یوں اب سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پر حکومتی شکنجہ مزید مزید تنگ ہو جائے گا اور رہی سہی صحافت کا بھی جنازہ نکل جائے گا۔ خیال رہے کہ کپتان دور میں ڈریکونین پیکا قانون مسلسل پاکستانی صحافیوں کو خوفزدہ کرنے اور خاموش کرانے کی خاطر استعمال کیا گیا یے کیونکہ اس میں آن لائن اظہار کو جرم قرار دیا گیا ہے۔ اب اس قانون میں ترمیم کے ذریعے اسے اور بھی زیادہ ڈریکونین بنا دیا گیا ہے۔
دوسری جانب سابق وزیر اعظم نواز شریف نے وفاقی ادارے فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عمران خان کے انتقامی ایجندے کو علمی جامہ پہنانے اور صحافیوں کی گرفتاری کے مکروہ کام میں ان کا ساتھ نہ دیں۔ یہ بات انہوں نے لندن میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
ان سے سوال کیا گیا تھا کہ حکومت کی جانب سے محسن بیگ کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور اب حامد میر اور عاصمہ شیرازی سمیت دیگر جرنلسٹس کو بھی گرفتار کرنے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ آپ اس پر کیا کہیں گے۔ جواب میں نواز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان کے سارے فیصلے انکے اندر کوٹ کوٹ کر بھری نفرت اور انتقام کا شاخسانہ ہیں۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کو چاہیے کہ وہ ایسے معاملات میں استعمال نہ ہو اور اس مکروہ کام کا حصہ نہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں اور اندھا دھند اپنے سیاسی اور صحافتی ناقدین کو کچلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایف آئی کو چاہیے کہ وہ عمران خان کا انتقامی ایجنڈا آگے بڑھانے سے باز رہے۔
