2023 کے انتخابات طاقتور حلقوں کیلئے فیصلہ کن کیوں؟

اسٹیبلشمنٹ کو پہلی مرتبہ ایسی صورت حال درپیش ہے جہاں معیشت کی مسلسل بگڑتی حالت کے پیش نظر اب وہ محض اقتدار کے مزے لوٹنے کے بجائے پورے ملک کے لیے سوچنے پر مجبور ہو چکی ہے۔ اسے احساس ہو گیا ہے کہ سکڑتی ہوئی معیشت کے باعث اسے دنیا کی طاقتور ریاستوں کے تابع رہ کر ان کے مطالبات کو ماننا ہوگا۔

نیا دور کی ایک رپورٹ کے مطابق موجودہ ملکی منظرنامے میں چار سٹیک ہولڈرز اہم ترین ہیں، پی ٹی آئی، پی پی پی، مسلم لیگ ن اور اسٹیبلشمنٹ۔ ان میں سے جو بھی 2023 کے انتخابات میں زیادہ سے زیادہ طاقت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا، باقی فریقین کے مقابلے میں وہی لمبے عرصے تک طاقتور رہے گا کیونکہ یہ محض انتخابات ہی نہیں ہوں گے بلکہ پاکستان کی مستقبل کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوں گے، معرکہ خیر و شر کی مانند، جمعیت علمائے اسلام، متحدہ قومی موومنٹ، پاکستان مسلم لیگ ق اور جماعت اسلامی جیسے چھوٹے حصے دار کبھی کبھار عیش و آرام حاصل کرنے والے پیادوں کی صورت اس وقت جہاں ہیں، آئندہ بھی ان کے یہیں رہنے کا امکان ہے۔

عمران خان اور نواز شریف دونوں اپنی زندگی کے آخری دور اقتدار کی تیاری کر رہے ہیں کیونکہ امکان ہے کہ اس کے بعد دونوں وہاں پہنچ چکے ہوں گے جہاں اس وقت جنرل مشرف ہیں یعنی 2028 تک جسمانی توانائیاں کھو چکے ہوں گے۔ اسٹیبلشمنٹ بھی بہت سالوں سے طاقت پر قابض ہے اور اس نے ساری طاقت اپنے پاس جمع کر رکھی ہے۔ پہلی مرتبہ اسے ایک ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جہاں معیشت کی مسلسل بگڑتی حالت کے پیش نظر اب وہ محض اقتدار کے مزے لوٹنے کے بجائے پورے ملک کے لیے سوچنے پر مجبور ہو چکی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسے اب احساس ہو گیا ہے کہ سکڑتی ہوئی معیشت کے باعث اسے دنیا کی طاقتور ریاستوں کے تابع رہ کر ان کے مطالبات کو ماننا ہوگا۔ نتیجے کے طور پر ملک کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کی اپنی طاقت بھی سکڑ کر رہ جائے گی۔

ایک جانب تو اسٹیبلشمنٹ اس وقت تحریک طالبان، تحریک لبیک، افغان طالبان، داعش، چین اور امریکہ کے بڑھتے اثرورسوخ اور امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے بعد کے حالات سے معاملہ کرنے والے دوستوں اور دشمنوں کے ملے جلے گروہ میں گھری کھڑی ہے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا کی مقبولیت کے باعث جو بطور آلہ چوکیدار سے لے کر وزیر اعظم تک ہر شخص کے استعمال میں ہے، اسٹیبلشمنٹ کو ان پریشر گروپس سے بھی نمٹنا ہوگا جو ان کی اپنی پالیسیوں کے غیر ارادی نتائج کے طور پر سامنے آئے ہیں۔  ان چیلنجز میں ملک میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت کے باعث سول سوسائٹی میں پیدا ہونے والے غم و غصے میں اضافہ بھی شامل ہے۔

ہر سٹیک ہولڈر کے پاس اپنے مخصوص کارڈ ہیں اور اگرچہ بہت مؤثر انداز میں یہ نہیں کھیلے جا رہے تاہم ہر کوئی ان کو بھرپور طریقے سے کھیل رہا ہے۔ اس لیے ان میں سے کوئی بھی سیاست کے میدان کو بغیر لڑائی کیے چھوڑنے کو تیار نہیں ہوگا۔

اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مزاحمت شروع کر کے نواز شریف اپنے کچھ پتے کھیل چکے ہیں مگر آخری کارڈ ابھی ان کے ہاتھ میں ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ عمران خان اپنے تمام تجربات میں ناکام ہو چکے ہیں اور ان تمام تر ناکامیوں کے بعد ملک کو دوبارہ معمول پر لانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس کے ساتھ ساتھ عمران خان کے پاس قیادت کا بہت محدود تجربہ ہے اور فی الوقت ان کا مکمل انحصار اسٹیبلشمنٹ کو بلیک میل کرنے پر ہے۔ یہاں تک کہ ڈی جی آئی ایس آئی جیسے اہم عہدے کے نوٹیفکیشن میں تاخیر کرکے عمران خان اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو ناراض کر چھوڑا ہے۔

اس وقت پاکستان مسلم لیگ ن کرکٹ میچ کی ایک ایسی ٹیم کی طرح محض وقت پورا کر رہی ہے جسے تقریباً یقین ہو چکا ہوتا ہے کہ اس کے مخالف کے پاس ہدف حاصل کرنے کے لیے بہت کم گیندیں باقی رہ گئی ہیں۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ ایمان دار دشمن جعلی دوست سے بہتر ہوتا ہے۔ نواز شریف اس پہلو سے بھی واقف ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے اقتدار کو پھر سے پی ٹی آئی اور پی پی پی کے حوالے کرنے پہ راضی ہونے کے امکان بہت کم ہیں کیونکہ یہ دونوں جماعتیں اپنے حالیہ ادوار میں مسلم لیگ ن کے مقابلے میں ملک چلانے میں بری طرح ناکام رہی ہیں جس سے آخر کار اسٹیبلشمنٹ کو خود بھی اپنے انتخاب کی وجہ سے ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اگر اسٹیبلشمنٹ مسلسل پاکستان کے اجتماعی تشخص کو نظر انداز کرتے ہوئے دنیا کے سامنے محض خود کو بہترین سکیورٹی ایجنسی کے طور پر پروموٹ کرتی رہی تو پھر پاکستان کا اللہ ہی حافظ ہے۔ ملک میں تحریک طالبان پاکستان، تحریک لبیک، پشتون تحفظ موومنٹ اور تحریک انصاف جیسے گروہ بدستور ابھرتے رہیں گے اور اسٹیبلشمنٹ کے پاس اپنی عملداری قائم کرنے کے لیے نہ ہی عوام بچیں گے اور نہ کچھ اور۔

مونس الہٰی کا ایک اور دوست غائب

Back to top button