عمران کی پلاسٹر والی ٹانگ کی فلم کتنے ہفتے چلے گی؟

پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں سیاست کے مکرو فریب سے کون آگاہ نہیں؟ ایسے ہی جیسے جمہوریت عوامی طاقت کا دوسرا نام ہے لیکن در حقیقت یہ اشرافیہ کا مشغلہ ہے، سیاست اور جمہوریت کا گرو وہی کہلاتا ہے جو عوام کی ضروریات اور مجبوریوں کا فائدہ اٹھا کر انھیں خون کے آنسو رُلانے میں کامیاب ہو جائے۔ شاید ہی کوئی عوامی لیڈر یا سیاستدان ایسا ہوگا جو اپنی دولت، طاقت اور سٹیٹس کے بل بوتے پر جمہوریت کی یہ بازی نہیں کھیلتا۔۔ یہاں تک کہ یہ اپنی بیماری اور کسی انہونے واقعے کو بھی حالات کے مطابق استعمال کرنے کا ہنر خوب جانتے ہیں اور ماضی کی نسبت آج کل یہ چلن کچھ زیادہ ہی عام ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو ہی دیکھ لیں، تین مہینے گزر جانے کے باوجود ان کی ٹانگ کا زخم بھرنے کو نہیں آ رہا۔
کہنے والے تو کہتے ہیں کہ ان کی جگہ اقتدار سے محرومی اور پے در پے مقدمات کی تلوار جس کے سر بھی لٹک رہی ہوتی اس کی بیماری اسی طرح طول پکڑتی، لیکن عمران کا پلاسٹر ”عجب سیاسی چال کی گجب مثال“ ہے۔ خیرمسلم لیگ ن کے رہنما بھی کسی سے کم نہیں، ان کی بیماریوں کی کہانیاں تو اب زبان زدِ عام ہیں جن میں نظریہٴ ضرورت کے تحت اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے۔ وزیر اعظم صاحب کو ہی دیکھ لیجیئے، علاج کے لئے کبھی امریکہ کبھی برطانیہ، کمر کا درد ہلنے نہیں دیتا تھا لیکن اب ملک کے اندر ہی نہیں ملک سے باہر بھی ان کی پھرتیاں دیکھنے لائق ہوتی ہے۔
اسحٰق ڈار انتہائی بےبسی کی حالت میں لندن، ہسپتال کے بستر پر جانے کب تک پڑے رہتے اگر انھیں پاکستان کی گِرتی معیشت کو کندھا دینے کا بلاوہ نہ آتا۔ اسی طرح عام حالات میں پارٹی کی چیف آرگنائزر مریم نواز کے گلے کا انتہائی حساس آپریشن ٹھیک ہوتے ہوتے شاید مہینوں لگ جاتے لیکن چونکہ انھیں اپنے والد نواز شریف کی ہدایات کے مطابق چچا شہباز شریف پر بھروسہ نہیں کرنا اور پارٹی کو ان کی خواہش کے مطابق آرگنائز کرنا ہے تو انھیں جلسوں پر جلسے کرنے اور گھن گرج کے ساتھ تقاریر کرنے میں بھی کوئی ایشو نہیں۔
تاہم عمران خان کی ٹانگ ان سب سے اونچی ہے، حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ان کے اپنے ہسپتال کے ڈاکٹرز کی ٹیم کے مطابق ان کی ٹانگ کی ہڈی کو نقصان نہیں پہنچا پھر یہ کون سی نئی میڈیکل ریسرچ ہے جس میں گولی کے ٹکڑے نکالنے کے لئے کی گئی سرجری کو مہینوں پلاسٹر میں جکڑنا پڑا۔۔اور یہ کیسا زخم ہے جسے بھرنے نہیں دیا جا رہا؟ طبی ماہرین کے مطابق عمران خان کی ہڈی کو نقصان نہیں پہنچا اور ان کے زخم کو درمیانی سطح کی چوٹ کہا جا سکتا ہے جو عمران خان جیسے سوپر فِٹ بندے کے لئے معمولی بات ہے۔ البتہ یہ درست ہے عمران کی عمر کے لوگوں کی ہڈیاں زیادہ مضبوط نہیں ہوتیں مگر یہاں بھی عمران کا جِم کرنا ان کے کام آگیا کہ ان کی ہڈیاں عام لوگوں سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں یعنی اس صورتحال میں ان کی ریکوری 6 سے 8 ہفتوں میں ہو جانی چاہئے۔
تو کیا یہ چہ مگوئیاں درست ہیں کہ عمران خان کے خلاف جب تک عدالتوں میں کیس لگے رہیں گے ان کا پلاسٹر نہیں اترے گا یا ممکن ہے کہ ان کا پلاسٹر کسی بڑی ”سیاسی موو“ کا انتظار کر رہا ہو جیسے الیکشن یا معجزانہ طور پر ہر قسم کے مقدمات اور الزامات سے بریت وغیرہ۔۔ فی الحال تو یہ پلاسٹر عدالتوں سے عبوری ضمانت میں توسیع اور عدالتی پیشیوں پر حاضری سے استثناء جیسے معاملات سے نمٹ رہا ہے۔
خیر عمران خان اور ان کا پلاسٹر، یہ فلم تو ابھی چلتی رہے گی بلکہ پاکستانی سیاست ایسی فلمی کہانیوں سے بھری پڑی ہے۔ کبھی جیل جانے کے خوف میں، کبھی کرپشن کے پول کھلنے پر، کبھی مخالف کی آنکھوں میں دھول جھونک کر، سیاستدانوں کی علالت نیا حربہ نہیں۔ جیسے ہی یہ قانون کے شکنجے میں آتے ہیں، دل گھٹنے لگتا ہے، بلڈ پریشر ہائی ہو جاتا ہے، آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جاتا ہے اور ان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ جیل کی کال کوٹھری کی بجائے کسی ”فائیو سٹار“ ہسپتال میں کمرہ بُک ہو جائے۔ گورنر جنرل غلام محمد ڈوگر سے لے کر جنرل ایوب خان، جنرل یحیٰ خان، جنرل پرویز مشرف، آصف علی زرداری اور نواز شریف تک کتنے ہی چھوٹے بڑے سیاستدان اور آمر ہیں جو بیمار ہوئے تو نام بھی خوب ہوا۔ زیادہ بدگمانیوں یا افواہوں نے اس وقت جنم لیا جب کچھ سیاستدان ملک میں علاج نہ ہونے کا بہانہ بنا کر بیرونِ ملک گئے تو اس وقت تک نہیں لوٹے جب تک حالات ان کی ”فیور“ میں نہیں ڈھل گئے یا غیر مرئی قوتوں سے ڈیل نہیں ہوئی تو کیا عمران خان بھی کسی بڑی ڈیل کے منتظر ہیں؟
