عمران خان کے بیانیے جو ان کے گلے کی ہڈی بن گئے!!

اپریل 2022 میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ سے خان صاحب کی سیاست میں جو زلزلہ آیا، دس ماہ گزر جانے کے باوجود اس کے ”آفٹر شاکس“ جاری ہیں۔یہی وجہ ہے کہ عمران خان اب تک نہیں سنبھل پائے۔ رہی سہی کسر ان کے قول و فعل میں تضاد نے پوری کر دی ہے۔ مانا کہ ینگ ایج میں عمران خان نے جو شہرت، دولت اور عزت کمائی اور دنیا بھر میں ان کا جو ایکسپوژر ہوا، وہ بہت کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے تاہم سیاست ایک الگ ہی کھیل ہے۔ شہرت، دولت اور عزت کی یہاں بھی ریل پیل ہے لیکن خصوصاً پاکستان میں یہ سب کمانے کے لئے مخالف ٹیم کو ہی نہیں کئی اندرونی اور بیرونی قوتوں کو بھی بچھاڑنا پڑتا ہے۔ آج کے دوست کل کے دشمن اور کل کے دشمن دوست، صرف یہی نہیں بارہا اپنی کہی گئی باتوں کی نفی کرنا پڑتی ہے یعنی یو ٹرن لینا پڑتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ یو ٹرن کی اصطلاح خان صاحب سے ہی کیوں منسوب ہوئی؟ اس کا جواب نہایت سادہ ہے، دراصل عمران خان نے اس کا استعمال اتنے تواتر سے کیا ہے کہ ان کی پہچان بن گئی۔

کنفیوژڈ اتنے ہیں کہ بیس پچیس سالہ سیاسی تجربے کے بعد ابھی تک کسی واضح سمت کا تعین نہیں کر سکے۔ سیاسیات اور اخلاقیات کو انھوں نے اس مہارت سے الجھایا ہے کہ اس کا سِرا خود ان کے ہاتھ بھی نہیں آرہا۔ اب یہی دیکھ لیں، کبھی وہ کہتے ہیں کہ انھیں امریکی سازش نے اقتدار سے نکلوایا اور کبھی کہتے ہیں میں امریکہ کو ہی موردِ الزام ٹھہراتا رہا یہاں توسابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ پہلے ہی ان کا پتہ کاٹ چکے تھے اور امریکہ کو بھی انھوں نے ہی اُکسایا تھا۔ آج کل وہ جنرل باجوہ کی آڑ میں ہر ادارے پر جو تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں، بھول جاتے ہیں کہ ایک زمانے میں اسی جنرل کے چہیتے کھلاڑی تھے۔ اس وقت نہ تو انھیں اخلاقی قدریں یاد تھیں، نہ جمہوری تقاضے اور نہ ہی آئینی ضابطے۔کیونکہ اس وقت وہ جنرل باجوہ کے کندھے پر سوار جس راستے پر سر پٹ دوڑ رہے تھے، وہ سیدھے سیدھے وزیراعظم ہاؤس تک جاتا تھا۔

اسٹیبلشمنٹ سے ہاتھ ملانا، ذاتی جہاز رکھنے والے مل اونرز سے دوستی بڑھانا اور کرپٹ سیاستدانوں کو ساتھ بٹھانا، عمران خان کا موٹو ہے جو سیاسی اصول و ضوابط سے بالا تر ان کا اپنا وضع کردہ ہے اور یہ بھی کہ وہ سیاسی پچ پر کھیلنے کی بجائے دینی اوراخلاقی پچ پر کھیلنا پسند کرتے ہیں، جیسے ریاست مدینہ کا ماڈل ان کے اخلاقی بیانیے کا حصہ تو ہو سکتا ہے، سیاسی بیانیے کا نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ قول و فعل کے تضاد ہی نے نہیں ان کے دوہرے سیاسی معیار نے بھی انھیں کافی نقصان پہنچایا ہے۔ مخالفین جوڑ توڑ کریں یا اراکین کی وفاداریاں حاصل کرنے کے لئے روپے پیسے کی چمک دکھائیں تو غیر آئینی اور یہی خریدوفروخت ان کے بیوپاری کریں تو عملی ضرورت۔ عمران خان کا سب سے اہم بیانیہ فوج پر کھلے لفظوں میں تنقید ہے جس نے عسکری اور سول قیادت کے سیم پیج پر ہونے کے تاثر کی دھجیاں اُڑا دی ہیں۔ انھیں یقین ہے کہ وزیراعظم ہاؤس سے انھیں دھکا فوج کی اعلیٰ قیادت نے دیا ہے جبکہ انھیں رجیم چینج آپریشن کو پایہٗ تکمیل تک پہنچانے کی بجائے نیوٹرلز کا کردار نبھانا چاہیئے تھا۔ موجودہ آرمی چیف عاصم منیر سے وہ یہ امید تو رکھتے ہیں کہ انھیں آئینی وسیاسی استحکام، دوسر ےلفظوں میں کرپٹ حکومت کو ختم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں لیکن انہی آرمی چیف کی تقرری کے وقت اپنا ردِعمل بھول جاتے ہیں۔

عمران خان کا ایک بڑا بیانیہ افغان طالبان کے حوالے سے بھی تھا جب انھوں نے ایک امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں طالبان کا کوئی متبادل نہیں اس لئے ہمیں مل کر کام کرنا ہو گا اور یہ کہ جلد یا بدیر طالبان کی حکومت کو تسلیم کئے بنا کوئی چارہ نہیں۔دو تین ماہ پہلے لانگ مارچ کے شوق اور لاہور سے چند گھنٹوں کی دوری پر ان کے کنٹینر پر ہونے والے قاتلانہ حملے نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا۔ لیکن ابھی عمران خان کی ٹانگ کا پلاسٹر اترا نہیں کہ انھوں نے آصف علی زرداری پر قاتلانہ حملے کا الزام داغ دیا جس کی تائید کے نتیجے میں ان کے ایک اہم اتحادی شیخ رشید جیل پہنچ گئے لیکن خان صاحب کی بیان بازیاں ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔خیر ابھی تو ان کے اس بیان کے آفٹر شاکس بھی ختم نہیں ہوئے جس میں انھوں نے اپنے مہان وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو وسیم اکرم پلس قرار دیا تھا جبکہ یہ تعیناتی ان کی پیرومرشد بشریٰ بی بی کے کمالات میں سے ایک تھی۔

پیپلزپارٹی کا ضمنی الیکشن میں حصہ نہ لینے کا اصولی فیصلہ

Back to top button