آخری پتّہ سب سے پہلے کھیلنا عمران کی فاش غلطی کیسے بنا؟

سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت مخالف تحریک میں لانگ مارچ کا آخری پتہ سب سے پہلے کھیل کر ایک بڑی سیاسی غلطی کی جس کے نتیجے میں موجودہ حکومت کو فوجی اسٹیبلشمنٹ سے وہ گارنٹیاں مل گیئں جن کے لیے مسلسل کوشش کی جا رہی تھی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی طرف سے لانگ مارچ شروع کرنے اور حکومت کو نئے انتخابات کا اعلان کرنے کی ڈیڈلائن دینے کے بعد حکومت بھی ڈٹ گئی اور اسٹیبلشمنٹ پر اپنا ساتھ دینے کے لیے دباؤ ڈالا۔ حکومت نے یہ موقف اختیار کیا کہ اگر پہلے فوری انتخابات کی کوئی گنجائش تھی بھی تو عمران کی جانب سے ڈیڈ لائن دیے جانے کے بعد اس کا کوئی امکان باقی نہیں رہا کیونکہ اگر حکومت اس بلیک میلنگ میں آ کر نئے انتخابات کا اعلان کرتی ہے تو یہ عمران کی جیت ہوگی جس کے نتیجے میں اگلے الیکشن میں حکومتی اتحادی جماعتوں کا دھڑن تختہ ہو جائے گا۔ حکومت کا موقف تھا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ عمران کی جانب سے فوج کے خلاف چلائی گئی مہم کا دباؤ لیتی ہے تو پھر گیارہ حکومتی اتحادی جماعتیں بھی دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

یاد رہے کہ عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ شروع کرنے سے پہلے شہباز شریف حکومت اسٹیبلشمنٹ سے اپنی آئینی معیاد پوری کرنے کی گارنٹی مانگ رہی تھی تاکہ وہ فوکسڈ ہوکر معیشت کی بحالی کے لیے کام کر سکے۔ چنانچہ عمران کی جانب سے احتجاج کی کال کے بعد اسٹیبلشمنٹ کا وہ طاقتور دھڑا بھی نیوٹرل ہو گیا جو موجودہ حکومت پر فوری الیکشن کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا۔ یوں عمران خان نے احتجاج کا آخری پتہ سب سے پہلے کھیل کر اپنا نقصان اور حکومت کا فائدہ کردیا۔

معروف اینکر پرسن اور سینئر صحافی عاصمہ شیرازی اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتی ہیں کہ انتخابات کا اعلان کرنے کا سوچنے والی کمزور اتحادی حکومت کو جب اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ’طاقت کا انجکشن‘ لگا تو فیصلہ آئینی مدت پوری کرنے کی صورت نکلا۔ پنجابی میں کہتے ہیں کہ کُبے کو ٹانگ پڑی اور اُس کا کُب نکل گیا۔ یعنی دونوں جانب سے جو ضمانتیں لی اور دی جا سکتی تھیں وہ طے پائیں اور معاملات آگے بڑھنے لگے۔عاصمہ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے آزادی مارچ کی ناکامی کے اسباب میں جہاں تنظیمی سطح کی کمزوریاں تھیں وہیں سیاسی طور پر اپنے تمام پتے پہلے ہی شو کر دینا بھی تھا۔ تحریک انصاف نے نہ صرف اپنی تمام توانائیاں کھیل کے پہلے حصے میں ہی صرف کر دیں بلکہ اپنے تمام پتے بھی شروع میں ہی کھیل لیے۔ اداروں کے خلاف محاذ آرائی مہم سے لے کر میڈیا کے خلاف جنگ اور اسمبلیوں سے مستعفی ہونے سے لے کر جماعتی اختلاف تک کے تمام مراحل ’بخوبی‘ اور ’کم ترین وقت‘ میں طے کر لیے گئے اور اب بچے کُچے بیانیے کو بچانے کی جنگ میں تحریک انصاف کو اسمبلیوں کی رکنیت سے بھی ہاتھ دھونے کا احتمال ہے۔

عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ اتحادی حکومت تحریک انصاف کے استعفوں کا مرحلہ شروع کر رہی ہے۔ اسمبلی کے فلور پر تقاریر کے دوران مستعفی ہونے والوں کے استعفوں کی منظوری کا امکان ہے جبکہ باقی اراکین سے تصدیق کے بعد استعفے منظور کیے جائیں گے۔ اطلاعات ہیں کہ کچھ اراکین اسمبلی پہلے ہی استعفے نہ دینے کا ذہن بنا چکے ہیں اس لیے عمران خان نے اپنے تمام ممبران قومی اسمبلی کو ہدایت کی ہے کہ وہ سپیکر راجہ پرویز اشرف کے پاس اپنے استعفوں کی تصدیق کے لیے نہیں جائیں گے۔

اس دوران ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ تحریک انصاف کی کور کمیٹی میں قومی اسمبلی سے مستعفی نہ ہونے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا ہے۔ عاصمہ شیرازی اس امید کا اظہار کرتی ہیں کہ تحریک انصاف غلطیوں سے سیکھے گی اور ایوان میں واپس آئے گی، وگرنہ سوا سال سڑکوں پر احتجاج ہی کرتی نظر آئے گی۔ انکا کہنا ہے کہ عمران کویہ بھی دیکھنا ہے کہ انکی طاقت کے مرکز کی طرف رجوع اور شُنوائی کن شرائط پر ہو گی کیونکہ اس وقت انکے حالات کچھ اچھے نہیں ہیں، خصوصا ًحالیہ لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد۔

عاصمہ کا کہنا ہے کہ حالات اور واقعات بدلتے زیادہ دیر نہیں لگتی، اقتدار کی سیڑھی کے لیے کندھے تو استعمال کیے جا سکتے ہیں لیکن سر استعمال نہیں ہو سکتے۔ تحریک انصاف نے اپنی سیاست میں کندھوں کے ساتھ سر استعمال کرنے کی کوشش کی ہے اور سر بھی وہ جو کسی کو سردار بننے نہیں دیتے۔ انکا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ گذشتہ سینٹ الیکشن میں ہو چکا تھا کہ اب سیاسی غلطیوں کا بوجھ فوج کا ادارہ نہیں اُٹھا پائے گا کیونکہ ناکامی بانجھ ہوتی ہے اور اُس کی کوئی سانجھ نہیں ہوتی۔ تاہم عمران کی ناکام حکمرانی نے پانچ سال کا سبق فقط چند ماہ میں ہی کھول کر رکھ دیا۔ پنجاب میں عثمان بُزدار کی حکومت اور اُن کے گرد چند متنازع کرداروں کی نشاندہی پہلی دراڑ ثابت ہوئی تو دوسری دراڑ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے تنازع نے ڈالی۔ عمران کی جانب سے فوج کے ادارے کو من مانے طریقے سے چلانے اور من پسند تعیناتیوں اور تقرریوں سے قابو کرنے کی خواہش نے یہ دراڑ مزید گہری کر دی۔ عمران خان کو اقتدار میں رکھنے کے لیے مقتدر حلقے کبھی ناراض اراکین سے اعتماد کے ووٹ اور کبھی بجٹ کی منظوری کے لیے استعمال ہوتے رہے مگر نتیجہ دھاک کے تین پات یعنی بری ترین کارکردگی اور عالمی سطح پر پاکستان کی تنہائی کی صورت مسلسل نکل رہا تھا۔ یہاں تک کہ مقتدر حلقے عوامی دباؤ کا شکار ہونے لگے۔

عمران کے کہنے پر فوج مخالف سوشل میڈیا ٹریندز میں کمی

عاصمہ کے بقول، تحریک عدم اعتماد تک کسی بھی امریکی سازش اور خط کا تذکرہ موجود نہ تھا۔ عدم اعتماد کی تحریک سیاست دانوں اور خاص طور پر پیپلز پارٹی کا ’برین چائلڈ‘ تھی، سیاسی جماعتوں نے لوہا گرم دیکھ کر چوٹ لگانے کا فیصلہ کیا تھا اور اس بات کی یقین دہانی کے بعد کہ حالات اُن کے لیے سازگار ہیں یعنی مقتدر حلقے غیر سیاسی ہو رہے ہیں۔۔۔ اس موقع کو غنیمت سمجھا گیا۔ یہ تفصیلات اب نہ تو کوئی راز ہیں اور نہ ہی انکشافات بلکہ یہ زبان زد عام ہے کہ خان کی جانب سے ’نیوٹرلز‘ کو بار بار اپنے حق میں مداخلت کی درخواست کی گئی، یہاں تک کہ طاقت ور حلقوں کی اہم ترین شخصیت کو بُلایا گیا اور عدم اعتماد واپس لینے کی صورت انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کا وعدہ کیا گیا مگر حزب اختلاف کی دس سیاسی جماعتوں نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا۔

اس موقع پر ن لیگ کے چند سرکردہ رہنما اس حمایت میں تھے کہ انتخابات کی تاریخ لے کر عدم اعتماد واپس لی جائے، تاہم اپوزیشن کی اکثریت نے اس معاملے پر پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا اور یوں ’مصالحت‘ کرانے والے اپنی آخری کوشش کو اللہ کی مرضی قرار دے کر گھر روانہ ہو گئے۔

بقول عاصمہ شیرازی، یہ وہ مرحلہ تھا جب کہانی میں سازشی خط کا موڑ آیا۔ یہ آئیڈیا جہاں سے بھی آیا اور جو بھی لایا اُس کے دماغ کے اختراع کو داد دینا تو بنتی ہے۔ اس دوران سماجی رابطے کے پلیٹ فارم، جلسے اور ٹی وی خطاب بیانیے کو دو چند کر رہے تھے تو دوسری جانب ’خاموش انقلاب‘ کے خاموش مجاہد تحریک میں اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔ بہرحال خان صاحب بنی گالہ سے پشاور کُوچ کیے اور انقلاب کی تیاری کے لیے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے عوام کو پکارنے لگے۔ اس دوران ان کی تقریروں کا موضوع کبھی ریاستی ادارے تو کبھی پرانے چور، ڈاکو رہے۔ عمران کا بیانیہ ’سوشل میڈیا‘ پر سر چڑھ کر بول رہا تھا اور 25 لاکھ لوگوں کی اسلام آباد آمد کا ڈھول پیٹا جا رہا تھا۔ مگر چشم فلک نے دیکھا کہ حقیقی انقلاب پختونخوا سے ہی ہیلی کاپٹر پر اُڑا اور ’اسلامی ٹچ‘ دیتا ہوا اسلام آباد میں بیچ چوراہے پھوٹ پڑا۔ جلاؤ، گھیراؤ اور مار ڈالو کے نعرے لگانے والے یہیں کہیں انقلاب کی راہ میں گُم ہو گئے اور پنجاب بھر سے تحریک انصاف کے چند ایک رہنما ہی دن بھر کی خبروں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔ ہاں البتہ شام پھر عدالت عظمیٰ کی بدولت متحرک ہوئی، مگر شعلوں سے بھری اس شام نے تحریک انصاف کے بیانیے کو بھی کافی حد تک جلا دیا۔

عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے پاس اب بھی عوام کی حمایت تو کسی حد تک موجود ہے تاہم پارٹی اندرونی بحران کا شکار اور منقسم ہے۔ جماعت کے سر سے ’سایہ‘ اور ’مایا‘ دونوں ہی اُٹھ چکے ہیں جبکہ مخلص رہنما پہلے ہی غیر منتخب مشیروں کے ہاتھوں عزت بچاتے دیوار سے لگ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو یاد رکھنا چاہیے کہ انتخابات میں صرف ووٹ نہیں بلکہ سپورٹ اور چہرے بھی درکار ہوتے ہیں جبکہ یہاں ان کا سب کچھ داؤ پر لگ چکا ہے۔

Back to top button