عمران کی سینیئر صحافی کے ساتھ غنڈہ گردی اور گالی گلوچ

اڈیالہ جیل راولپنڈی پہنچ کر عمران خان کی کوریج کرنے والے اسلام آباد کے صحافیوں کے ساتھ تحریک انصاف کے ورکرز کی غنڈہ گردی کے بعد اب خود بانی تحریک انصاف بھی دھمکیوں اور گالی گلوچ پر اتر آئے ہیں، چنانچہ صحافی برادری نے ان اقدامات کے خلاف احتجاج کا شروع کر دیا ہے۔ تازہ ترین واقعے میں عمران خان نے اسلام آباد کے سینیئر صحافی اعجاز احمد کو کالے منہ والا ٹاؤٹ قرار دے کر ماں بہن کی گالیاں تک دے ڈالیں۔ جب سینیئر صحافی نے ان سے احتجاج کرتے ہوئے معذرت کا مطالبہ کیا تو خان صاحب نے انہیں مزید ننگی اور غلیظ گالیاں دیں۔
لیکن یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ صحافیوں کے ساتھ اس طرح کی بدسلوکی کی گئی ہو۔ یاد رہے چند ہفتے پہلے علیمہ خان سے سخت سوالات کرنے پر اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کے کارکنان نے سینیئر صحافی طیب بلوچ کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ علیمہ خان کی میڈیا ٹالک کے دوران ان کی امریکی جائیدادوں بارے سوال کرنے پر درجنوں ورکرز نے علیمہ کے وکیل نعیم پنجوتہ کی قیادت میں طیب پر حملہ کر دیا تھا۔ انہوں نے تشدد کرتے ہوئے نہ صرف سینیئر صحافی کا موبائل فون چھین لیا بلکہ ان کا مائیک بھی توڑ دیا۔ اس کے بعد تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بریگیڈ کی جانب سے سینیئر صحافی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کر کے انہیں نشان عبرت بنانے کی دھمکیاں دی گئیں۔ اس واقعے کی ایف ائی آر میں علیمہ خان اور نعیم پنچوتہ کو نامزد کیا گیا تھا۔
اب اسلام آباد کے سینیئر صحافی اعجاز احمد کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔ اڈیالہ جیل راولپنڈی میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب اعجاز نے عمران خان سے سوال کرنے کی کوشش کی تو موصوف نے ان سے اونچی آواز میں کہا، کالے منہ والے، خبردار تو نے مجھ سے سوال کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد عمران خان نے گالیوں کا سلسلہ شروع کر دیا اور سینیئر صحافی کو مختلف جانوروں سے تشبیہہ دیتے رہے۔ اعجاز احمد نے جب عمران خان سے وجہ پوچھنے کی کوشش کی تو انہوں نے انہیں ایجنسیوں کا ٹاؤٹ قرار دیتے ہوئے اونچی آواز میں لعن طعن کا سلسلہ جاری رکھا۔
عمران خان کی جانب سے اعجاز احمد کے ساتھ گالی گلوچ اور بدتہذیبی کے خلاف پر اگلے روز پارلیمنٹری رپورٹرز ایسوسی ایشن نے قومی اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا۔ بائیکاٹ کے بعد اعجاز احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عمران خان نے روٹین کے سوال پوچھنے پر مجھے ایسی گندی گالیاں دیں جو انہوں نے شاید ہی کبھی سنی ہوں۔بعد ازاں، قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کو ہدایت دی کہ وہ صحافیوں کے ساتھ مذاکرات کریں۔
واک آؤٹ کے دوران سپیکر نے بتایا کہ صحافیوں نے تحریری شکایت جمع کرا دی ہے، بعد میں اعجاز احمد نے سپیکر ایاز صادق سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور سیکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ سپیکر نے کہا کہ صحافیوں کا کام ہے کہ سیاستدانوں پر تنقید کریں، ہمیں بھی تنقید برداشت کرنی چاہیے اور سوال کرنے پر انہیں تشدد کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ اس موقع پر صحافی اعجاز احمد نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی گالی گلوچ کے بعد ان کے سوشل میڈیا بریگیڈ کی جانب سے ان کے خلاف مہم چلاتے ہوئے نفرت انگیز پوسٹس لگائی جا رہی ہیں اور لوگوں کو ان کے خلاف اکسایا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے قومی اسمبلی میں عمران کے خلاف احتجاجی قرارداد پیش کرنے کی تجویز آئی تو بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ ایسا نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ واقعے کی تحقیقات کریں گے چونکہ وہ گالی گلاچ کے روز موقع پر موجود نہیں تھے اور انہیں نہیں معلوم کہ عمران خان نے کیا باتیں کی۔ تاہم بانی تحریک انصاف کی جانب سے سینیئر صحافی اعجاز احمد کو گالی گلوچ کے خلاف مذمتی قرارداد قومی اسمبلی سے منظور کر لی گئی۔
