عمران کا اصل سیاسی امتحان بلدیاتی اور ضمنی الیکشن

معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ عمران خان کا اصل امتحان اب آنے والے ضمنی انتخابات اور بلدیاتی الیکشن ہیں جن کے نتائج ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ اس وقت خان صاحب اور پی ٹی آئی کا اصل امتحان دوبارہ لانگ مارچ نہیں بلکہ جون کے آخر اور جولائی میں ہونیوالے بلدیاتی اور پنجاب میں 20 صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے انتخابات ہیں۔ یہ مسلم لیگ (ن) اور اتحادی حکومت کا بھی بڑا امتحان ہوگا۔ 26 جون کو اندرون سندھ، 17 جولائی کو پنجاب اور 29 جولائی کو کراچی حیدرآباد میں بلدیاتی اور ضمنی الیکشن عام انتخابات سے پہلے ہونے والے ٹرائل میچ سمجھے جاسکتے ہیں۔ لہٰذا خان صاحب اور ان کے حکومتی مخالفین کو بھی ان انتخابات کے نتائج بتادیں گے کہ کس کا فیصلہ درست تھا اور کس کا غلط۔ مظہر عباس کے بقول عمران خان کے پاس اس وقت الیکشن کی حکمت عملی احتجاجی تحریک کے مقابلے میں زیادہ اہم ہوگی۔ پنجاب میں یہ 20 نشستیں یا تو پی ٹی آئی نے جیتی تھیں یا ان آزاد اراکین نے جنہوں نے پی ٹی آئی کی حمایت کی مگر ارٹیکل 63 سے کی بدولت ڈی سیٹ ہو گئے۔
ملک ریاض نے عمران کو کتنے ارب کی زمین رشوت دی؟
لہٰذا ان میں شکست خان صاحب کو بڑا دھچکا دے سکتی ہے اور کامیابی مسلم لیگ (ن) کیلئے نوشتہ دیوار بن سکتی ہے، عام انتخابات سے پہلے۔ اندرون سندھ تو لگتا ہے پی ٹی آئی بلدیاتی الیکشن لڑ ہی نہیں رہی اس لیے نہ خان صاحب نظر آرہے ہیں نہ شاہ محمود اور نہ ہی اسد عمر۔ تو بظاہر پی پی پی کو واک اوور والی صورتحال مل رہی ہے۔ البتہ 24جولائی کو کراچی اور حیدرآباد کا تاج کس سر پر سجے گا یہ انتہائی اہم ہوگا کیونکہ شہری سندھ کی اس وقت بڑی جماعت پی ٹی آئی ہے۔
لہٰذا 25مئی کے بعد کی سیاسی صورتحال میں جہاں حکومت کو معاشی سونامی کا سامنا ہے وہی عمرانی سونامی کا بھی سامنا ہے۔
بقول مظہر عباس، عمران کے پاس اس وقت عوام کو کہنے کیلئے بہت کچھ ہے۔ امریکی مخالف بیانیہ سے لے کر معاشی بحران، مہنگائی مگر کیا وہ اسے الیکشن کی جیت میں بدل سکتے ہیں یہی ان کا سیاسی امتحان ہوگا۔ دوسری طرف تجربہ کار جماعتوں اور رہنمائوں کے سامنے ایک انتہائی مشکل صورتحال ہے جو انہوں نے اپنے گلے خود ہی باندھی ہے اب اگر انتخاب سے پہلے والے انتخاب جیت گئے تو گاڑی چلے گی ورنہ جو جیتا وہی سکندر۔ مظہر عباس کہتے ہیں کہ عمران خان نے آج سے 26 سال پہلے جب عملی سیاست میں قدم رکھا تو ان سمیت ایک دو کو چھوڑ کر کسی کو بھی سیاست کا تجربہ نہیں تھا، خان صاحب کے سامنے کوئی سو سال، کوئی پچاس سال تو کوئی چالیس سال کا تجربہ رکھنے والی جماعتیں تھیں جن کے کچھ رہنمائوں کو تو مارشل لا کی اذیت سہنے کا بھی تجربہ تھا، اس کے سامنے کھڑے رہنے کا بھی اور پھر حکومتوں میں رہنے کا بھی۔ مگر خان صاحب بھی نہ ان کیلئے اور نہ عوام کیلئے اجنبی تھے۔ وہ بطور کرکٹر ایک پرکشش شخصیت تھے۔ انکا سیاسی سفر سست رفتاری سے شروع ہوا۔ انہیں تب کے مشہور ’ایمپائر‘ جنرل حمید گل نے استعمال کرنے کی کوشش کی مگر وہ جلد ان کے چنگل سے نکل گئے۔ نا تجربہ کاری کا یہ عالم تھا کہ خان صاحب نے 1996 میں تحریک انصاف کی بنیاد رکھی اور چند ماہ بعد ہی 1997 میں الیکشن میں چلے گئے اور بُری طرح ناکام ہوئے۔
لیکن یوں انہیں الیکشن لڑنے بارے تھوڑا بہت پتا چل گیا۔ عمران نے دو بنیادی نکتوں پر سیاست کی۔ ایک مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی دونوں کو کرپٹ کہنا اور دوسرے ملک کو تیسری سیاسی قوت کی ضرورت ہے۔ وہ ملٹری ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے ساتھ بھی رہے لیکن بعد میں مشرف کی جانب سے چوہدری برادران کی حمایت کے باعث ان کے مخالف ہوگئے اور نواز شریف اور قاضی حسین کے اتحادی بن گئے۔ اب وہی چور اور ڈاکو چوہدری انکا اتحادی ہے۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ 25 مئی کے ’لانگ مارچ‘ نے خان صاحب اور پی ٹی آئی کو احتجاجی تحریک کا تجربہ بھی دیا، مگر ریاستی طاقت کا وہ اسطرح مقابلہ نہ کر سکے جیسے بے نظیر بھٹو نے کیا تھا۔ ایک بار تحریک میں بریک آجائے تو اسے دوبارہ شروع کرنا مشکل ہوتا ہے۔
اس تحریک میں پی ٹی آئی کا کوئی پلان نہیں تھا نہ اے، بی اور نہ ہی سی۔ ایسا ہی کچھ 1986میں بے نظیر بھٹو کے ساتھ بھی ہوا تھا جب انہوں نے 1983 کے بعد دوبارہ MRD کی تحریک شروع کرنے کی کوشش کی۔ ناکامی کے باوجود انہوں نے تمام رکاوٹیں توڑیں اور آنسو گیس اور گولیوں کی بوچھاڑ کے دوران لیاری پہنچ کر پارٹی ورکرز کے جلوس کی قیادت کی۔ در حقیقت جب کسی بھی احتجاجی تحریک کا ایک بار ٹیمپو ٹوٹ جائے تو اسے دوبارہ شروع کرنا مشکل ہوتا ہے۔ مگر جماعتیں حکمت عملی تبدیل کرتی ہیں لگتا ہے کہ خان صاحب لانگ مارچ کے علاوہ احتجاج کے دوسرے طریقہ اپنانے کے موڈ میں نہیں ہیں مثلاً جیل بھرو تحریک، پہیہ جام ہڑتال یا مظاہرہ۔
مظہر عباس کے خیال میں 2014 کی طرح عمران خان اور انکے 130 ساتھیوں کا قومی اسمبلی سے استعفے دینا اتنی ہی بڑی سیاسی غلطی ہے جتنی لہ اتحادی جماعتوں نے خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانا کر کی۔ سیاست محض عوامی مقبولیت کی بنا پر آپ کو اقتدار کی راہ داریوں تک نہیں لے جاسکتی اس ملک کی تاریخ میں مقبول رہنما یا تو تختہ دار تک گئے یا مارے گئے۔ ایسا نہیں کہ خان صاحب کو دوبارہ اقتدار نہیں مل سکتا اور اگر انہوں نے دوبارہ بڑی کامیابی حاصل کی تو وہ بھی ایک نیا تجربہ ہوگا دیکھنا صرف یہ ہے کہ انہوں نے تاریخ سے سبق سیکھا ہے یا نہیں۔ انہوں نے 2011 کے بعد اپنی جماعت تحریک انصاف کو ایک بڑی سیاسی جماعت تو منوالیا۔ ملک کو نئے سیاسی کارکن اور اراکین اسمبلی بھی دیئے، انکا چار سال کا حکومتی تجربہ بھی ہوا مگر سیاسی تربیت کی طرف توجہ نہیں دی۔ دوسری بڑی جماعتوں کی طرح یہاں بھی پارٹی میں جمہوریت نظر نہیں آتی۔ یہاں بھی بلا مقابلہ منتخب ہونے کی روایت پڑگئی ہے جس کے تحت حال ہی میں عمران خان نے خود کو دوبارہ سے بلا مقابلہ پارٹی چیئرمین منتخب کروا لیا ہے۔
