پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں 55 روپے تک اضافے کا امکان

پاکستانی عوام پر دو ہفتوں کے دوران دو مرتبہ 30 روپے فی لٹر اضافے کا پٹرول بم گرانے والی حکومت اب تیسری مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے جارہی ہے جس سے عوام کا جینا دو بھر ہو جائے گا۔ حکومتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا امکان ہے، کیونکہ اوگرا نے اس حوالے سے ایک نئی سمری وفاقی حکومت کو ارسال کردی۔

شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب میں بڑے بریک تھرو کا امکان

بتایا جا رہا ہے کہ سابقہ عمران خان حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی یعنی اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر تک اضافے کی سمری حکومت کو ارسال کردی ہے۔اوگرا نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ پیٹرول 29 جبکہ ڈیزل 55 روپے فی لٹر مہنگا کیا جائے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر حتمی فیصلہ حکومت آج ہی کر لے گی۔

امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دیں گے۔ واضح رہے کہ پیٹرول کی موجودہ قیمت 209 روپے 86 پیسے، ڈیزل 204.15 روپے فی لیٹر، لائٹ ڈیزل 178 روپے 03 پیسے جبکہ مٹی کا تیل 181.94 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہے۔

حکومت پاکستان سے پٹرول کی قیمتوں میں 15 روز کے دوران 60 روپے فی لیٹر اضافہ کروا کر بھی آئی ایم ایف کا پیٹ نہیں بھرا اور اب 55 روپے مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایک جانب حکومت جہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو ناگزیر قرار دے رہی ہے تو دوسری طرف کئی معاشی ماہرین اور تجزیہ کار بھی اسے مشکل اور سخت فیصلہ ہونے کے ساتھ معیشت کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ اس فیصلے کا اثر مڈل کلاس، لوئر مڈل کلاس اور انتہائی غریب طبقات پر بہت زیادہ پڑے گا لیکن اگر ایسا نہ کیا جاتا تو پوری معیشت متاثر ہوتی جو پہلے ہی شدید ہچکولے کھا رہی ہے۔ اس لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کے لیے بھی تیار رہنا ہو گا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں فی الحال تیل کی قیمتیں کم ہونے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، کیونکہ روس اور یوکرین میں جنگ بندی کے کوئی آثار نہیں جب کہ حکومت بھی واضح کرچکی ہے کہ وہ اب بھی عالمی منڈی سے زیادہ قیمت پر تیل خرید کر کم قیمت میں فروخت کررہی ہے۔ اسکے نتیجے میں پاکستان کے جاری کھاتوں کا خسارہ بڑھنے کے ساتھ بجٹ خسارہ بھی 2500 ارب روپے سے پہلے ہی تجاوز کرچکا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس لیے پاکستانیوں کو تیل کی مزید قیمتیں بڑھنے کےلیے بھی تیار رہنا چائیے۔ ان کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوجاتی ہیں تو بھی اس سے یہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے کے امکانات نہیں کیونکہ گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کرتے وقت یہ شرط بھی قبول کی تھی کہ وہ محاصل میں اضافے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی بھی عائد کرے گی جس سے رواں سال 610 ارب روپے کی آمدنی کی توقع تھی۔ مگر عمران حکومت کے بعد شہباز حکومت نے بھی اب تک لیوی عائد نہیں کی جب کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس کی شرح بھی صفر ہے۔ اب حکومت پٹرولیم مصنوعات پر لیڈی عائد کرنے کے علاوہ ان پر سیلز ٹیکس بھی لگانے جا رہی ہے جس کے نتیجے میں 29 روپے سے 55 روپے فی لیٹر تک مذید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا یے۔

Back to top button