نوازشریف نے پرویز مشرف کیلئے نرم گوشہ کیوں اپنایا؟
سابق ملٹری ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کا آئین شکنی پر ٹرائل کرنے والے سابق وزیر اعظم نواز شریف اچانک شدید عوامی تنقید کی زد میں آ گئے ہیں جسکی بنیادی وجہ ان کی جانب سے سزائے موت کے مفرور مجرم پرویز مشرف کو وطن واپس لانے کے لئے ہر طرح کی سہولت فراہم کرنے کی فراخدلانہ پیشکش ہے حالانکہ عدالتی فیصلے کے مطابق اشتہاری قرار پانے والے مشرف کو سیدھا جیل جانا چاہیے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے آئی ایس آئی کو سویلین افسران کی سکریننگ کا اختیار دے کر بوٹ پالش کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اسی کو آگے بڑھاتے ہوئے نواز شریف نے اب اسی ووٹ کی عزت اور آبرو کا سودا کر دیا ہے جسے انہوں نے عزت دینے کا نعرہ بلند کیا تھا۔ یعنی اب عزت ووٹ کو نہیں دینی بلکہ بوٹ کو دینی ہے۔ ایسے میں اگر سابق وزیراعظم عمران خان شہباز شریف کو چیری بلوسم قرار دیں تو اتنا غلط نہیں ہو گا۔
عمران کے دوست جاوید آفریدی کا اربوں کا کرپشن سکینڈل
لندن سے اپنی ایک ٹویٹ میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے لکھا کہ میری مشرف سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں اور نہ ہی میں چاہتا ہوں کہ اپنے پیاروں کے حوالے سے جو صدمے مجھے سہنا پڑے وہ کسی اور کو بھی سہنا پڑیں۔ سابق وزیراعظم نے مزید لکھا کہ میں مشرف کی صحت کے لیے اللہ تعالٰی سے دعاگو ہوں۔ اگر وہ واپس آنا چاہیں تو حکومت سہولت فراہم کرے۔
نواز شریف کے اس بیان پر پاکستانی سوشل میڈیا صارفین میں ایک واضح تقسیم دیکھنے میں آئی۔ کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ آئین شکن پرویز مشرف کو معافی دینے کا اختیار نواز شریف نے کیسے حاصل کر لیا۔ مشرف نواز شریف کا نہیں بلکہ آئین پاکستان کا مجرم ہے اور اسی وجہ سے اسے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ایسے میں اگر نواز شریف مشرف کو معاف کرنے اور ملک واپس آنے کی دعوت دیتے ہیں تو یہ سوال پوچھنا بھی جائز ہے کہ ایک ایسا شخص جو خود پاکستان واپس نہیں آ سکتا اور خود برسوں سے لندن میں بیٹھا ہے، وہ ایک دوسرے شخص کو کس طرح ملک واپسی کی دعوت دے سکتا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ سابق فوجی آمر مشرف نے آئین توڑ کر غداری کا ارتکاب کیا تھا جس پر اسے معاف نہیں کیا جا سکتا اور مستقبل میں آئین شکنی کا سلسلہ روکنے کے لیے ضروری ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق مشرف کو ڈی چوک میں پھانسی دی جائے۔
سوشل میڈیا پر کچھ صارفین ایسے بھی تھے جنہوں نے نواز شریف کے مشرف کے حوالے سے بیان پر طنز و تنقید کے نشتر برسائے۔صحافی نوشین یوسف نے لکھا ’آئین سے دوستی ختم ہوگئی۔ مشرف میرے نئے دوست ہیں۔‘ صحافی مشرف زیدی نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی ٹویٹ کو قوٹ کرتے ہوئے لکھا ’تمام نونی دوست ٹینکوں کے نیچے سے باہر آجائیں۔‘ اس سے پہلے اپنے انٹرویو میں پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ مشرف کی واپسی کا فیصلہ ان کے خاندان اور ڈاکٹروں نے کرنا ہے۔ تاہم ان کے خاندان کی طرف سے اس حوالے سے اب تک کچھ کہا نہیں گیا ہے۔ مشرف کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جن کے سب سے بڑے مخالف نواز شریف اور ان کی جماعت مسلم لیگ (ن) رہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ چند روز پہلے نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر بھی یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ جسٹس وقار سیٹھ کے عدالتی فیصلے کی روشنی میں پرویز مشرف کو آئین شکنی پر ڈی چوک میں لٹکایا جائے۔ چند ایک سوشل میڈیا صارفین کا خیال ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نواز شریف کا مشرف کو معاف کر دینا ایک احسن قدم ہے۔ محمد تقی نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’کسی کتاب میں کوئی ایسا قانون نہیں جو جنرل مشرف کو وطن واپسی سے روک سکے۔ انسانی بنیادوں پر ان کی وطن واپسی کے لیے سہولت فراہم کرنا ایک باوقار چیز ہے۔ لیکن انہوں نے مزید کہا کہ بیماری یا موت مشرف کی جانب سے پاکستان کے آئین اور اس کے عوام دشمن جرائم کی پردہ پوشی نہیں کر سکتی۔ وہ ایک آئین شکن تھا اور اسے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آئین شکن ملٹری ڈکٹیٹر کے طور پر ہی یاد رکھا جائے گا۔
سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان عرفان قادر نے نواز شریف کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانوی عوام نے ڈکٹیٹر کرامویل کی لاش کو 1662 میں قبر سے نکال کر پھانسی دی تھی جس کے بعد وہاں کبھی جمہوریت پر شب خون نہیں مارا جا سکا۔ لیکن یہاں ایک آئین شکن ڈکٹیٹر کو معاف کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے آئین شکنی پر اس کا ٹرائل کیا تھا۔ یاد رہے کہ مشرف کا شمار پاکستان کی ان شخصیات میں ہوتا ہے جن کے سب سے بڑے مخالف سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی جماعت مسلم لیگ (ن) رہی ہے۔ اس مخالفت کی وجہ جاننے کے لیے صرف دو دہائیوں پیچھے جانا پڑے گا جب 1999 میں پرویز مشرف نے نواز شریف کی دوسری حکومت گرائی تھی اور بعد میں سابق وزیراعظم کے خلاف طیارہ سازش کیس سمیت دیگر کیسز بھی مشرف حکومت نے ہی بنائے تھے۔ پھر جب 2013 میں نواز شریف تیسری مرتبہ وزیر اعظم بنے تو ان کی حکومت نے ہی آئین توڑنے کے الزام میں مشرف پر آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ بنایا تھا۔ اسی مقدمے میں جسٹس وقار سیٹھ کی سربراہی میں خصوصی عدالت نے 2019 میں پاکستان سے فرار یو کر دبئی چکے جانے والے پرویز مشرف کو سزائے موت سنائی تھی۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر نقوی نے فوجی ایما پر خصوصی عدالت کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا حالانکہ ہائی کورٹ چھوٹی اور خصوصی عدالت بڑی ہوتی ہے۔ تاہم بعد ازاں جب مشرف نے خصوصی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تو لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ ختم ہوگیا، لیکن سپریم کورٹ نے مشرف کو کسی قسم کی ریلیف دینے سے انکار کرتے ہوئے یہ حکم نامہ جاری کیا کہ وہ پہلے ملک واپس آکر سرندر کریں اور اس کے بعد اپیل دائر کریں۔ لیکن مشرف نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اب مقررہ معیاد ختم ہوجانے کی بناء پر وہ اپیل دائر کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں۔ ایسے میں قانون کے مطابق وطن واپسی پر مشرف کا بطور ایک اشتہاری مجرم سیدھا جیل جانا بنتا ہے لیکن نواز شریف نے اس کے برعکس بات کی ہے۔ یاد رہے کہ ایک موذی اور ناقابل علاج بیماری میں مبتلا مشرف اس وقت دبئی کے ایک ہسپتال میں بستر پر ایڑیاں رگڑ رہا ہے۔ 10 جون کو اسکے خاندان کی جانب سے کہا گیا تھا کہ مشرف پچھلے تین ہفتوں سے ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ایک مشکل وقت سے گزر رہے ہیں جہاں صحتیابی ممکن نظر نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ جب نواز شریف نے اپنی حکومت کو سابق فوجی جنرل کی پاکستان واپسی کے لیے سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی تو عوام کے لیے یہ بات باعث حیرت بات بن گئی اور انہوں نے یہ پوچھنا شروع کر دیا کہ ووٹ کی عزت کا بیانیہ کیا ہوا ہو چکا ہے جو ایک پرانے بوٹ کی عزت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
صحافی ایلیا زہرہ نے نواز شریف کی ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ ’مشرف کے جرائم کسی فرد کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کے لوگوں کے خلاف تھے۔ نواز شریف یا کسی اور سرکاری حکام کو انہیں معاف کرنے کا حق حاصل نہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے لکھا کہ ان کے نزدیک ایک طرف تو یہ انسانی ہمدردی کا معاملہ ہے لیکن دوسری طرف یہ قوم کے خلاف جرم کا بھی معاملہ ہے نہ صرف کسی ایک فرد کے خلاف۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ پارلیمان کو ان کی سخت سرزنش کرنے دیں اور انسانی بنیادوں پر واپس آنے دیں۔
اسی دوران پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’ایسی صورتحال میں ادارہ اور اس کی قیادت کا مؤقف ہے کہ مشرف کو واپس آنا چاہیے۔ فوجی ترجمان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’پرویز مشرف کو فوج اور اس کی قیادت نے پاکستان واپس بلا کر درست اور جرات مندانہ فیصلہ کیا۔‘ ان کے مطابق نواز شریف نے فوج کے اس فیصلے کی حمایت کی کیونکہ ’نواز شریف کے پاس اس فیصلے کی حمایت کے علاوہ کوئی اور دوسرا راستہ نہیں تھا۔‘
دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے جنرل مشرف کی واپسی کی مخالفت کرنے والوں پر سخت تنقید کی ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ ماضی میں مشرف کی آل پاکستان مسلم لیگ کے رکن رہے ہیں۔ انہوں نے مشرف کے مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں کہا ’پرویز مشرف کو غدار قرار دینے والوں کی میڈیا پر شکلیں دیکھیں تو حیرانگی ہوتی ہے۔‘انہوں نے مشرف کے ناقدین کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ منافقوں پر جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو کا قول پورا اترتا ہے۔
