احسن اقبال کو کم چائے پینے کا مشورہ دینا بھاری پڑ گیا

وفاقی وزیر اور مسلم لیگی رہنما احسن اقبال کی جانب سے عوام کو ملکی معیشت کی بہتری کے لیے کم چائے پینے کا مضحکہ خیز مشورہ دینا مہنگا پڑ گیا اور سوشل میڈیا صارفین نے انکا رگڑا نکال دیا۔ یاد رہے کہ احسن اقبال نے اپنی دانش کے پھول بکھیرتے ہوئے یہ مشورہ دیا تھا کہ عوام چائے کی ایک ایک دو پیالیاں پینا کم کر دیں کیونکہ جو چائے ہم درآمد کرتے ہیں، وہ اُدھار لے کر منگواتے کرتے ہیں جس سے ملکی معیشت پر بوجھ پڑتا ہے۔لیکن دنیا میں سب سے زیادہ چائے درآمد کرنے والے پاکستان کے عوام کو احسن اقبال کا چائے کم کرنے کا مشورہ کچھ پسند نہیں آیا۔

کراچی سے لاپتہ ہونیوالی لڑکیوں دعا زہرہ اورنمرہ کا سراغ مل گیا

بیشتر افراد کا کہنا ہے کہ ’وفاقی بجٹ میں دفاع کے لیے 1523 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز اور ججز کی تنخواہوں میں اضافے کے بعد غریب عوام سے ان کی واحد ’لگژری‘ یعنی چائے بھی چھوڑنے کا کہنا کیا کچھ تضاد نہیں؟‘ رخسانہ سلیم نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ’ججز کی تنخواہوں میں اضافہ کر کے عوام کو کم چائے پینے کا مشورہ دینا عوام کی تکلیفوں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے آپ کو مہنگائی کرنی ہے کریں، مگر عوام کو ایسے مشورے نہ دیں۔‘ انھوں نے کہا ’غریب لوگ صبح کا ناشتہ انڈے کے ساتھ نہیں کرتے۔ بیچارے اسی چائے میں پراٹھا یا روٹی ڈبو کر کھاتے ہیں، آپ ان سے یہ واحد لگژری بھی چھیننا چاہتے ہیں؟‘

ایک اور دل جلے حامد علی خان نے احسن اقبال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا جناب دن میں جو 12 پیالیاں جائے کی پیتے ہیں ان میں سے 11 کم کریں گے تاکہ عوام کی طرف وہ خود بھی ایک ہی کپ چائے پر گزارا کریں۔ وجیہہ حلال نے لکھا کہ مفتاح اسماعیل کہتے ہیں چار بھائی ایک روٹی مل کر کھاؤ، احسن اقبال کہتے ہیں کہ دو کپ چائے پینا چھوڑ دو، لیکن یہ جو 200 لوگوں کا ٹولہ حج پر جا رہا ہے اور بیرونی دورے پر جو عیاشیاں سرکاری خرچ پر ہو رہی ہیں ان کو کب کم کیا جائے گا؟ کیا عوام سے ہی روٹی چائے چھین کر معیشیت ٹھیک کی جائے گی؟‘

ایک اور صارف زہرہ نے لکھا کہ چائے کم پینے کا کہہ کر احسن اقبال نے عوام سے تاحیات دشمنی مول لے لی ہے۔ انھوں نے احسن اقبال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پتھر کھا کر گزارا کر لیں گے مگر چائے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا !! سوشل میڈیا پر کئی صارفین احسن اقبال کے اس بیان کا موازنہ عمران کے بھینسیں بیچنے اور مرغیاں پالنے کی تجویز کے ساتھ کرتے نظر آتے ہیں۔ واجد علی چھٹہ نے لکھا ’یہ عمران خان کے بھینسیں بیچنے کا ٹھٹھہ اڑاتے تھے، کٹوں اور مرغیوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ آج خود لوگوں کی چائے بند کرانے پر پہنچ گئے ہیں۔‘ یاد رہے 2018 میں حکومت میں آنے کے بعد عمران نے اعلان کیا تھا کہ وزیر اعظم ہاؤس میں موجود گاڑیوں، بھینسوں اور ہیلی کاپٹروں کو نیلام کیا جائے گا۔ ان بیانات پر حکومت پر نہ صرف تنقید ہوئی بلکہ اس کا مذاق بھی اڑایا گیا اور ان بیانات کو کفایت شعاری کی مد سے فائدہ مند سے زیادہ نقصان دہ گردانا گیا، کیونکہ حکومت نے اس کام کے لیے اخباروں میں اشتہارات بھی دیے تھے مگر اس میں انھیں اتنی کامیابی نہیں ملی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
کچھ صارفین اسے مزاحیہ انداز میں بھی لے رہے ہیں۔ اور احسن اقبال کو شعر و شاعری سے جواب دے رہے ہیں
ایک صارف نے ٹویٹ کیا:
دودھ، پانی، پتی ہے، کوئی اسلحہ تو نہیں۔۔۔۔دو کپ چائے پی لی، اب ایک اور پی لوں کوئی مسئلہ تو نہیں؟
خاور ملک نے لکھا:
’نام لیتے ہو چائے کا بدتمیز
تم اسے اشرف المشروبات کیوں نہیں کہتے۔۔۔

دوسری جانب کچھ افراد اسے صحت کے حوالے سے ایک بہتر مشورہ قرار دے رہے ہیں۔
صحافی ہارون رشید کا کہنا ہے کہ ’احسن اقبال کا چائے کم پینے کا مشورہ بالکل درست ہے۔ زیادہ چینی اور چائے نقصان دہ ہے۔ زر مبادلہ بھی ضائع ہوتا ہے۔ کسی رائے کو محض اس لئے مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ رائے دینے والا آپ کو پسند نہیں۔

Back to top button