مخصوص نشستوں پرموجودہ پارٹی پوزیشن پرہی نیا رکن بنے گا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پنجاب اسمبلی کی مخصوص نشستوں کی بحالی کے لیے پی ٹی آئی کی درخواست پر ریمارکس دیئے ہیں کہ محضوص نشست خالی ہونے پر موجودہ پارٹی پوزیشن پر ہی نیا رکن بنے گا، وکیل پی ٹی آئی بیرسٹر علی ظفر نے دلائل میں کہا کہ تین خواتین اور دو اقلیتی ارکان منحرف ہونے پر ڈی سیٹ ہوئے، آرٹیکل 224 میں طریقہ کار دیا گیا ہے۔
وکیل نے مزید دلائل میں کہا کہ الیکشن کمیشن دیگر خالی نشستوں پر ضمنی الیکشن کا انتظار کر رہا ہے، الیکشن ایکٹ اور
امریکہ مخالف نوم چومسکی نے عمران کا سازشی بیانیہ رد کر دیا
آئین میں ایک ہی طریقہ کار ہے، پارٹی کی دی گئی ترجیحی نشست پر ہی چلنا ہوتا ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ بات تو ٹھیک ہے اور سینس بھی بنتا ہے، جو محضوص سیٹ خالی ہو گی اس پر آج کی پارٹی پوزیشن پر ہی نیا رکن بنے گا، کل کیا ہو اس کا کسی کو پتہ نہیں ہوتا، مخصوص نشست آج کی پوزیشن پر ہی دی جاتی ہے۔
بیرسٹرعلی ظفر نے کہا کہ ہمارا موقف ہے مخصوص نشستوں کا کوٹہ جنرل الیکشن کے بعد ہی دوبارہ طے ہوتا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے نئے ارکان کا انتخاب موخر کرنے کے خلاف درخواست پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پیر تک جواب طلب کر لیا، جسٹس عامر فاروق نے پی ٹی آئی کی درخواست پر نوٹس جاری کیے۔
