ای سی سی نےگدھے کا گوشت ،کھالیں ایکسپورٹ کرنے کی منظوری دیدی

وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی عارضی درآمد، مختلف وزارتوں کیلئے فنڈز اور گوادر سے گدھے کا گوشت اور کھالیں ایکسپورٹ کرنے کی منظوری دے دی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔
وزارت خزانہ کے مطابق ای سی سی کے اجلاس میں پی آئی اے کے واجبات کے لیے 5 ارب 98 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی، پنشن، تنخواہوں اور میڈیکل ادائیگیوں کیلئے فنڈز جاری ہوں گے۔
وزارت خزانہ کے مطابق گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی عارضی درآمد کی اجازت دینے، گوادر سے گدھے کے گوشت اور کھالوں کی برآمد کی منظوری دی دے گئی جب کہ بجلی کمپنیوں کے معاہدے کا معاملہ مزید غور کے لیے بھیج دیا گیا۔
ای سی سی نے جبری مشقت سے بنی اشیاء کی درآمد پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔ بلوچستان میں افسران کے لیے 31 کروڑ 10 لاکھ روپے، نیب کی ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے 37 کروڑ 20 لاکھ روپے اور قومی ہاکی ٹیم کے لیے 3 کروڑ روپے انعام کی منظوری دے دی گئی۔
اجلاس میں ای سی سی کو مہنگائی کی صورت حال پر بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ ضروری اشیاء کی قیمتیں مستحکم ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ اجلاس میں قیمتوں کے استحکام پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
بتایا گیا کہ ٹماٹر، پیاز، آٹا، لہسن اور ایل پی جی سستی ہوئیں، چینی کی قیمت میں بھی کمی کا رجحان ہے، انڈے، چکن، دالیں، گھی اور دودھ کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا، حساس قیمتوں کے اشاریہ میں کمی کا رجحان جاری ہے۔
دوران اجلاس استعمال شدہ گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی عارضی درآمد اور مرمت کے بعد دوبارہ برآمد کے ایک سالہ پائلٹ منصوبے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔

Back to top button